حکمرانوں پر عوام کا اعتماد اٹھ گیا چیف جسٹس

نازک دور ہے، ادارے عدلیہ کااحترام کریں، جمہوری نظام بچانے کیلیے سخت جدوجہد کرنی ہوگی، جسٹس شاکر کے اعزاز میں ریفرنس

نازک دور ہے، ادارے عدلیہ کااحترام کریں، جمہوری نظام بچانے کیلیے سخت جدوجہد کرنی ہوگی، جسٹس شاکر کے اعزاز میں ریفرنس. فوٹو: فائل

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے حکمرانوں پر عوام کا اعتماد اٹھ چکاہے،ملک تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہاہے، بدعنوانی،اقراباء پروری اور دہشت گردی نے سماجی اور معاشی ترقی کو اپاہج کر دیا ہے ۔

جسٹس میاں شاکر اللہ جان کی ریٹائر منٹ پر ان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہااغواء برائے تاوان،اغواء ،ٹارگٹ کِلنگ، جبری غائب کرنے، توانائی کا بحران، بدعنوانی اوراقربا پروری کے واقعات نے سماجی و معاشی ترقی کو اپاہج بنا دیا ہے اور متعلقہ حکام پر سے عوام کا اعتماد اٹھ گیا ہے، وقت کی ضرورت ہے کہ جمہوری نظام کو ان سماجی برائیوںکی وجہ سے تباہی سے دوچار ہونے سے بچانے کیلیے متعلقہ حکام سخت جدوجہدکریں۔

چیف جسٹس نے جسٹس شاکراللہ جان اور ان کے اہل خانہ کیلیے نیک خواہشات کا اظہارکیا اورکہا بار اور بینچ متحد ہوکر باہمی سمجھ بوجھ تعلق اور تعاون کے ذریعے قانونی اور عدالتی نظام میں بڑی تبدیلیاں لا سکتے ہیں، پرانے کیسوں کا زیر التواء ہونا اور لا حاصل مقدمات، بھاری اخراجات اور کورٹ فیس وکلاء اورگواہان کا پیش نہ ہونا جیسے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کئی رکاوٹوںکے باوجود پاکستان کی عدالتیں آئین اور جمہوریت کو بچانے کیلیے اپنی آئینی ذمہ داریوں سے باخبر ہیں اور نچلی سطح پر انصاف مہیا کرنے میں کامیاب وکامران ہوئی ہیں۔


چیف جسٹس نے کہا انصاف کی فراہمی میں غیر جانبداری کو اسلام اور قرآن پاک میں تسلیم کیا گیا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا جمہوری نظام میں عدلیہ آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی کے دفاع کرنے کی وجہ سے حکومت کے باقی دو اعضاء یعنی انتظامیہ اور مقننہ کے مقابلے میں برابر مقام رکھتی ہے۔ ملک کے تمام اداروں کو عدلیہ کی آزادی کی روایت جس کا آئین پاکستان کی تمہید میں بھی ذکر کیا گیا ہے، کا احترام کرنا چاہیے۔

پوری دنیا میں حکومتی مفاد کے بجائے، عوامی حقوق کے تحفظ کیلیے ماتحت عدالتیں اور ریاستی ادارے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی پیروی کرتے ہیں اور ان پر عملدرآمدکرتے ہیں۔ بلاشبہ قانون کی تشریح عدلیہ کا کام ہے تاہم قانون کا نفاذ اور عدالتی فیصلوں پر عملدرآمدکرانا انتظامیہ کی ذمے داری ہے۔ عدلیہ کے کردار کو محض اس وجہ سے حزب اختلاف کا کردار نہیں گردانا جا سکتا کہ وہ سختی سے قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہاخود مختار عدلیہ کا وجود اور عدالتی فیصلوں کا احترام، انصاف کی فراہمی کیلیے کسی بھی ریاست کیلیے ناگزیر ہیں۔ اس موقع پر پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین اختر حسین اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر یاسین آزاد نے بھی خطاب کیا جبکہ اٹارنی جنرل نے ریفرنس میں شرکت نہیںکی۔یاسین آزاد نے کہا موجودہ صورتحال پریشان کن ہے عدلیہ کے فیصلوں پر عمل ہونا چاہیے ۔انھوں نے کہا آزاد عدلیہ اس قوم کی آخری امید ہے۔

Recommended Stories

Load Next Story