ضمنی الیکشن کا پرامن انعقاد
ضمنی انتخابات کے نتیجے میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن تبدیل ہوگئی ہے
ضمنی انتخابات کے نتیجے میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن تبدیل ہوگئی ہے۔ فوٹو:فائل
ISLAMABAD:
ملک بھر میں قومی اسمبلی کے11حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے غیرسرکاری اور غیرحتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف نے چار چار' مسلم لیگ ق نے دو اور ایم ایم اے نے ایک نشست جیت لی ہے' اس طرح ایوان زیریں میں حکومت کی6 اور اپوزیشن کی پانچ نشستوں میں اضافہ ہو گیا جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن تبدیل ہوگئی ہے۔
ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد 155سے بڑھ کر159' مسلم لیگ ق کے ممبران کی تعداد 5سے بڑھ کر7'ایم ایم اے کے اراکین کی تعداد16سے بڑھ کر 17مسلم لیگ ن کے اراکین کی تعداد 85سے بڑھ کر 89ہو جائے گی۔ اس طرح قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کے اراکین کی تعداد176سے بڑھ کر182 اور اپوزیشن اتحاد کی تعداد159سے بڑھ کر164ہو جائے گی۔ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی نے4' ن لیگ نے5 اور دو نشستوں پر آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف نے پانچ' اے این پی نے تین اور ن لیگ نے ایک سیٹ جیت لی۔ سندھ اسمبلی کی دونوں نشستیں پیپلز پارٹی کے حصے میں آئیں' بلوچستان میں بی این پی اور آزاد امیدوار کو ایک ایک سیٹ پر فتح ملی۔
ملک بھر میں ضمنی انتخابات پرامن ماحول میں ہوئے اور سوائے اکا دکا واقعات کے کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی' ایک دو جو واقعے رپورٹ ہوئے' وہ بھی معمولی جھگڑے اور تلخ کلامی کے تھے جو الیکشن میں عام ہوتے ہیں' ان انتخابات کی خاص بات یہ رہی کہ آر ٹی ایس سسٹم درست کام کرتا رہا حالانکہ عام انتخابات میں آر ٹی ایس سسٹم بیٹھ گیا تھا جس کی وجہ سے نتائج کی آمد میں غیرمعمولی تاخیر ہوئی اور دھاندلی جیسے الزامات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔حالیہ ضمنی الیکشن میں نتائج کی آمد بروقت رہی اور کسی سیاسی جماعت یا امیدوار نے دھاندلی کا الزام عائد نہیں کیا' یوں ایک اچھی پیش رفت سامنے آئی، ان ضمنی انتخابات میں پہلی بار بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بھی ای ووٹنگ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا' ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ضمنی انتخابات میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کے لیے بڑا انتخابی اپ سیٹ بھی ہوا' برسراقتدار جماعت وزیراعظم عمران خان کی لاہور اور بنوں کی جیتی ہوئی 2نشستیں ہار گئی' این اے131لاہور سے خواجہ سعد رفیق اور این اے35بنوں سے ایم ایم اے کے زاہد اکرم جیت گئے' دونوں نشستیں وزیراعظم عمران نے خالی کی تھیں۔ یوں تحریک انصاف کے کارکنوں کو خاصی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو حالیہ ضمنی الیکشن نے ماضی کی یہ روایت توڑ دی جس میں برسراقتدار جماعت ہی ضمنی الیکشن جیتتی تھی' اس بار ایسا نہیں ہوا' برسراقتدار جماعت اپنی جیتی ہوئی نشستیں بھی ہار گئی' انتظامیہ کا کردار غیرجانبدار رہا اور کسی امیدوار نے الیکشن رولز کی خلاف ورزی بھی نہیں کی' گو ضمنی الیکشن میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ کم رہا لیکن پھر بھی ووٹرز کی ایک اچھی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ پاکستان میں یہ روایت پختہ ہو چکی ہے کہ الیکشن ہارنے والی جماعت یا امیدوار دھاندلی کا الزام عائد کر کے انتخابی نتائج مسترد کر دیتا ہے' 1977ء کے عام انتخابات سے شروع ہونے والے دھاندلی کلچر نے ہر الیکشن کو داغدار کیا۔
جس کا اس ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے اور انتخابی قوانین اور پولنگ سسٹم کو فول پروف بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی' جو برسراقتدار آ گیا' اس نے انتظامیہ کو استعمال کر کے اور سرکاری پیسہ استعمال کر کے ضمنی الیکشن جیت لیا۔ سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ کی انھی خامیوں کی وجہ سے اداروں کو سیاسی امور میں مداخلت کا حوصلہ ملا جس کی وجہ سے ملک آمریت کا شکار ہوا' انتظامیہ کی کارکردگی زوال پذیر ہوئی اور کرپشن کو فروغ حاصل ہوا' اگر ملک کی سیاسی لیڈر شپ اپنی تمام تر توجہ آئین میں موجود خامیوں کو دور کرنے پر دیتی' الیکشن کو شفاف' غیرجانبدار بنانے کے لیے قوانین وضع کرتی' پولنگ سسٹم کو کمپیوٹرائزڈ کرتی' انتظامی امور کو انتظامیہ پر چھوڑ دیا جاتا تو ملک کا جو حال ہوا ہے' شاید ایسا نہ ہوتا' بہرحال پی ٹی آئی کی حکومت کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ اس نے ضمنی الیکشن میں سرکاری وسائل کا استعمال نہیں کیا' انتظامیہ پر دباؤ نہیں ڈالا' کسی وزیر نے تحریک انصاف کے امیدوار کی انتخابی مہم نہیں چلائی' یہ اچھی روایت ہے اور اسے مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہیے اور اپوزیشن کو بھی اس عمل کو سراہنا چاہیے۔
ملک بھر میں قومی اسمبلی کے11حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے غیرسرکاری اور غیرحتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف نے چار چار' مسلم لیگ ق نے دو اور ایم ایم اے نے ایک نشست جیت لی ہے' اس طرح ایوان زیریں میں حکومت کی6 اور اپوزیشن کی پانچ نشستوں میں اضافہ ہو گیا جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن تبدیل ہوگئی ہے۔
ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد 155سے بڑھ کر159' مسلم لیگ ق کے ممبران کی تعداد 5سے بڑھ کر7'ایم ایم اے کے اراکین کی تعداد16سے بڑھ کر 17مسلم لیگ ن کے اراکین کی تعداد 85سے بڑھ کر 89ہو جائے گی۔ اس طرح قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کے اراکین کی تعداد176سے بڑھ کر182 اور اپوزیشن اتحاد کی تعداد159سے بڑھ کر164ہو جائے گی۔ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی نے4' ن لیگ نے5 اور دو نشستوں پر آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف نے پانچ' اے این پی نے تین اور ن لیگ نے ایک سیٹ جیت لی۔ سندھ اسمبلی کی دونوں نشستیں پیپلز پارٹی کے حصے میں آئیں' بلوچستان میں بی این پی اور آزاد امیدوار کو ایک ایک سیٹ پر فتح ملی۔
ملک بھر میں ضمنی انتخابات پرامن ماحول میں ہوئے اور سوائے اکا دکا واقعات کے کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی' ایک دو جو واقعے رپورٹ ہوئے' وہ بھی معمولی جھگڑے اور تلخ کلامی کے تھے جو الیکشن میں عام ہوتے ہیں' ان انتخابات کی خاص بات یہ رہی کہ آر ٹی ایس سسٹم درست کام کرتا رہا حالانکہ عام انتخابات میں آر ٹی ایس سسٹم بیٹھ گیا تھا جس کی وجہ سے نتائج کی آمد میں غیرمعمولی تاخیر ہوئی اور دھاندلی جیسے الزامات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔حالیہ ضمنی الیکشن میں نتائج کی آمد بروقت رہی اور کسی سیاسی جماعت یا امیدوار نے دھاندلی کا الزام عائد نہیں کیا' یوں ایک اچھی پیش رفت سامنے آئی، ان ضمنی انتخابات میں پہلی بار بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بھی ای ووٹنگ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا' ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ضمنی انتخابات میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کے لیے بڑا انتخابی اپ سیٹ بھی ہوا' برسراقتدار جماعت وزیراعظم عمران خان کی لاہور اور بنوں کی جیتی ہوئی 2نشستیں ہار گئی' این اے131لاہور سے خواجہ سعد رفیق اور این اے35بنوں سے ایم ایم اے کے زاہد اکرم جیت گئے' دونوں نشستیں وزیراعظم عمران نے خالی کی تھیں۔ یوں تحریک انصاف کے کارکنوں کو خاصی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو حالیہ ضمنی الیکشن نے ماضی کی یہ روایت توڑ دی جس میں برسراقتدار جماعت ہی ضمنی الیکشن جیتتی تھی' اس بار ایسا نہیں ہوا' برسراقتدار جماعت اپنی جیتی ہوئی نشستیں بھی ہار گئی' انتظامیہ کا کردار غیرجانبدار رہا اور کسی امیدوار نے الیکشن رولز کی خلاف ورزی بھی نہیں کی' گو ضمنی الیکشن میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ کم رہا لیکن پھر بھی ووٹرز کی ایک اچھی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ پاکستان میں یہ روایت پختہ ہو چکی ہے کہ الیکشن ہارنے والی جماعت یا امیدوار دھاندلی کا الزام عائد کر کے انتخابی نتائج مسترد کر دیتا ہے' 1977ء کے عام انتخابات سے شروع ہونے والے دھاندلی کلچر نے ہر الیکشن کو داغدار کیا۔
جس کا اس ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے اور انتخابی قوانین اور پولنگ سسٹم کو فول پروف بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی' جو برسراقتدار آ گیا' اس نے انتظامیہ کو استعمال کر کے اور سرکاری پیسہ استعمال کر کے ضمنی الیکشن جیت لیا۔ سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ کی انھی خامیوں کی وجہ سے اداروں کو سیاسی امور میں مداخلت کا حوصلہ ملا جس کی وجہ سے ملک آمریت کا شکار ہوا' انتظامیہ کی کارکردگی زوال پذیر ہوئی اور کرپشن کو فروغ حاصل ہوا' اگر ملک کی سیاسی لیڈر شپ اپنی تمام تر توجہ آئین میں موجود خامیوں کو دور کرنے پر دیتی' الیکشن کو شفاف' غیرجانبدار بنانے کے لیے قوانین وضع کرتی' پولنگ سسٹم کو کمپیوٹرائزڈ کرتی' انتظامی امور کو انتظامیہ پر چھوڑ دیا جاتا تو ملک کا جو حال ہوا ہے' شاید ایسا نہ ہوتا' بہرحال پی ٹی آئی کی حکومت کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ اس نے ضمنی الیکشن میں سرکاری وسائل کا استعمال نہیں کیا' انتظامیہ پر دباؤ نہیں ڈالا' کسی وزیر نے تحریک انصاف کے امیدوار کی انتخابی مہم نہیں چلائی' یہ اچھی روایت ہے اور اسے مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہیے اور اپوزیشن کو بھی اس عمل کو سراہنا چاہیے۔