دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار

بھارتی اور افغان لابی نے امریکا میں پاکستان کے خلاف لابنگ کی ہے جب کہ پاکستان اپنے حق میں لابنگ نہیں کرسکا۔

بھارتی اور افغان لابی نے امریکا میں پاکستان کے خلاف لابنگ کی ہے جب کہ پاکستان اپنے حق میں لابنگ نہیں کرسکا۔ فوٹو: فائل

MEXICO CITY:
ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے لندن میں ورک شائر یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ القاعدہ کو پاکستان کی مدد کے بغیر شکست نہیں دی جاسکتی تھی، پاکستان کے بغیرخطے اور دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا، دنیا بھرمیں موجود تنازعات میں مسئلہ کشمیر سب سے بڑاتنازعہ ہے،افغان سرحد پردہشتگردوں سے نمٹنے کی صلاحیت پاک فوج رکھتی ہے، دنیا میں کہیں بھی واقعات کا ذمے دارپاکستان نہیں ہوسکتا، پاکستان کی سیکیورٹی کے لیے جو بھی مناسب ہوگا وہ قدم اٹھائیں گے۔

پاکستان کی خواہش ہے امریکا مکمل افغان امن تک وہاں رہے، دنیا میں قیام امن کی خاطر سب سے بڑی قربانی پاک فوج نے دی، امن مشن میں فرائض کی انجام دہی میں 250جوان شہید ہوئے،2007کے بعد مختلف آپریشنز سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا،اب پاکستان میں کہیں بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں۔انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف 80ہزار پاکستانیوں نے جانوں کی قربانی دی۔

بلاشبہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں پاک فوج نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اس جنگ میں کامیابیاں بھی سب سے زیادہ حاصل کی ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں3.1ٹریلین ڈالر کے مقابلے میں پاکستان نے ایک فیصد خرچ کیا' ظاہر سی بات ہے کہ افغانستان میں امریکا اور دیگر مغربی ممالک نے رقوم خرچ کیں اور وہ اب بھی افغانستان میں بھاری رقوم خرچ کر رہی ہیں لیکن اس کے باوجود افغانستان کا70فیصد حصہ طالبان اور دیگر جنگجو گروپوں کے زیرقبضہ ہے اور افغانستان کی حکومت کی رٹ چند شہروں تک محدود ہے۔

اصولی طور پر امریکا اور مغربی ممالک کو پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنا ہو گا۔ انھیں اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ پاکستان کی مدد کے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔اگر وہ چاہتے ہیں کہ القاعدہ یا داعش کا افغانستان سے خاتمہ ہوجائے تو اس کے لیے انھیں پاکستان کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ پاکستان کی فوج کے پاس ہی اتنی صلاحیت ہے کہ وہ دہشت گرد قوتوں کو شکست دے سکتی ہے۔

افغانستان کی فوج اس قابل نہیں کہ وہ کوئی جنگ خصوصاً دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت سکے۔ ان کی ترتیب میں بھی خامیاں ہیں اور ان کا پروفیشنل ازم بھی کمزور ہے، افغانستان کے سیکیورٹی اداروں کے افراد کے درپردہ طالبان سے بھی رابطے ہیں اور وہ امریکا اور اتحادی افواج کو دھوکا دے رہے ہیں جب کہ بھارت کی صورت حال یہ ہے کہ وہ افغانستان میں کسی بھی قسم کی مہم جوئی کے قابل نہیں ہے۔


افغانستان میں رائے عامہ بھارت کے حق میں نہیں ہے ۔ یوں دیکھا جائے تو اس خطے میں واحد پاکستان ایسا ملک ہے جس کی مدد سے دہشت گردوں کو شکست دی جا سکتی ہے۔ پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف اب تک جو جنگ لڑی ہے' اس میں کامیابی کی شرح بہت بلند ہے۔

پاک فوج نے ملک کے اندر دہشت گردوں کو شکست دے دی ہے اور اب پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں اور بچے کچھے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور یورپی ممالک میں پاکستان مخالف قوتیں سرگرم عمل ہیں اور ان کا نشانہ پاکستان ہے جب کہ پاکستان پر برسراقتدار طبقہ بیرون ملک لابنگ میں کمزور رہا ہے اور وہ پاکستان کے لیے مثبت نتائج حاصل نہیں کر سکا۔

ادھر افغانستان کا حکمران طبقہ منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے' افغانستان کی حکومت مسلسل پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کرتی ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ افغانستان کی حکومت عملاً بھارت کے کنٹرول میں ہے' بھارت افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

افغانستان کی خارجہ پالیسی درحقیقت بھارت کے تابع ہے' یوں بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ اس خطے میں کشیدگی اور دہشت گردی کے ختم نہ ہونے کے پس منظر میں یہی حقیقت کارفرما ہے۔ امریکا اور مغربی ممالک کو ان زمینی حقائق کا ادراک کرنا چاہیے اور انھیں سامنے رکھ کر اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

امریکا اور پاکستان طویل مدتی اسٹرٹیجک اتحادی ہیں اور اس حیثیت سے دونوں ملکوں نے سرد جنگ میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی لڑی ہے۔ اب بھارتی اور افغان لابی نے امریکا میں پاکستان کے خلاف لابنگ کی ہے جب کہ پاکستان اپنے حق میں لابنگ نہیں کرسکا ، امریکا کے پالیسی ساز اس پراپیگنڈے کے سحر میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں سرد مہری آئی ہے۔
Load Next Story