وزیراعظم کا دوسرا سعودی دورہ توقعات اور امیدیں

پاکستان موجودہ معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب اور چین سے 5 بلین ڈالر ملنے کی تلاش میں ہے۔

پاکستان موجودہ معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب اور چین سے 5 بلین ڈالر ملنے کی تلاش میں ہے۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم پاکستان عمران خان پانچ ہفتوں کی مختصر مدت کے دوران دوسری مرتبہ سعودی عرب کا دورہ کریں گے جو 22 یا 23 اکتوبر کو متوقع ہے، دورے کا مقصدآئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پروگرام سے بچنے کے لیے مالی امداد کا حصول ہے، یا عالمی مالیاتی ادارے سے مضبوط پوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے جاسکیں۔

پاکستان موجودہ معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب اور چین سے 5 بلین ڈالر ملنے کی تلاش میں ہے۔ بلاشبہ اس وقت پاکستان کو معاشی طور پر استحکام کے لیے ایک بڑی رقم کی ضرورت ہے جو یا تو آئی ایم ایف کے مشروط قرض کی صورت یا پھر دوست ممالک سے امداد و قرض کے طور پر وصول کی جاسکتی ہے۔

یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے اور قرض کے حصول کے لیے پاکستان کو سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے سعودی عرب کے دوسرے دورے کی اطلاعات اس وقت سامنے آنا شروع ہوئیں جب عمران خان نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ شاید حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ نئی حکومت آئی ایم ایف کے سخت شرائط والے قرضوں سے حتی الامکان اجتناب برتنا چاہتی ہے لیکن وزیرخزانہ اسد عمر یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کا پروگرام ابھی بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔


واضح رہے کہ وزیراعظم کے سعودی دورے کا ایک مقصد ریاض میں منعقدہ عالمی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کرنا بھی ہے۔ توقعات ظاہر کی جارہی ہیں کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے عالمی برادری کی یقین دہانی حاصل کرلے گا۔ دوسری جانب وفاقی کابینہ کے اجلاس میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 3 فیصد حصہ دینے کی بات کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبے اپنا حصہ کم کرکے فاٹا کو دیں گے۔ جس پر صوبوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ سندھ کے مشیر اطلاعات، قانون و اینٹی کرپشن بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ وفاق کو اس بات کا کوئی حق نہیں کہ وہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا کوٹہ کم کرنے کا اعلان کرے، فاٹا کی ترقی کے نام پر پسماندہ صوبوں کو مزید تباہی کی جانب دھکیلنا کہاں کی دانشمندی ہے؟

فاٹا کی ترقی پوری قوم کی خواہش ہے اور اس معاملے پر فیصلے آئین کے مطابق لینے چاہئیں۔ پاکستان جس مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے، ایسے میں تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ پاکستانی حکومت معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے بہتر اور قابل عمل راستے کا انتخاب کرے گی۔
Load Next Story