کسٹمز کی کارروائیاں موبائل فونز کی اسمگلنگ میں کمی

Q موبائل سمیت دیگر کے خلاف پے درپے کارروائیوں کے بعد رواں سال موبائل اسمگلنگ کی شرح گھٹ گئی، ڈپٹی کلکٹر کسٹمز

جنوری سے اب تک کوئی بڑا واقعہ سامنے نہیں آیا، چھالیہ کی اسمگلنگ کی کوششوں کو ناکام بنا رہے ہیں، اے ایس او محمد فیصل خان۔ فوٹو : فائل

پاکستان کسٹمز پریونٹیو کے ماتحت اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کی متحرک خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے موصول ہونے والی اطلاعات پرکی جانے والی کارروائیوں کے نتیجے میں موبائل فونزکی اسمگلنگ میں کمی کا رحجان آگیا ہے۔

محکمہ کسٹمز کی Q موبائل سمیت دیگر کے خلاف پے درپے کارروائیوں کے بعد رواں سال موبائل اسمگلنگ کی شرح گھٹ گئی ہے۔ ڈپٹی کلکٹرکسٹمز اے ایس اومحمد فیصل خان نے ایکسپریس کوبتایا کہ جنوری2018 سے اب تک موبائل اسمگلنگ کا کوئی بڑا واقعہ سامنے نہیں آیا۔ انھوں نے بتایا کہ موبائل فونز اسمگلنگ کا راستہ روکے جانے کے بعد اے ایس او اس وقت چھالیہ کی اسمگلنگ کی کوششوں کو ناکام بنارہا ہے۔


محمد فیصل خان نے بتایا کہ رواں سال میں اب تک 12 لاکھ کلوگرام غیر معیاری مضر صحت چھالیہ تحویل میں لی گئی ہیں پکڑی جانے والی چھالیہ کی مالیت 3 ارب روپے سے زائد ہے۔ انھوں نے بتایا کہ رواں سال 10لاکھ لیٹر ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ بھی ناکام بنائی گئی ہے جبکہ بھارت سے آنے والا کروڑوں روپے مالیت کا برانڈڈ گٹکا بھی تحویل میں لیا گیاہے۔

ڈپٹی کلکٹرکسٹمز اے ایس او نے بتایا کہ 50 لاکھ روہے مالیت کے اسمگل شدہ سگریٹ کے 7 ہزار ڈنڈے بھی پکڑے ہیں جبکہ اربوں روپے مالیت کی ساڑھے 8 ٹن منشیات تحویل میں لی گئی ہے۔ پکڑی جانے والی منشیات میں ہیروئن ،چرس اور دیگر منشیات شامل ہے۔

فیصل خان نے بتایا کہ رواں سال اب تک 300 سے زائد ایف ائی آر درج اور متعدد ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
Load Next Story