چیف جسٹس کا ججوں اور آبی ماہرین کے ساتھ منگلا ڈیم کا دورہ
ریزنگ پروجیکٹ کے باعث پانی ذخیرہ کی گنجائش تربیلا ڈیم سے بڑھ گئی، چیئرمین واپڈا
ریزنگ پروجیکٹ کے باعث پانی ذخیرہ کی گنجائش تربیلا ڈیم سے بڑھ گئی، چیئرمین واپڈا فوٹو:فائل
چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ججوں اور آبی ماہرین کے ساتھ منگلا ڈیم کا دورہ کیا۔
چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین اور دیگر افسروں نے اُنھیں بریفنگ دی، چیئرمین واپڈا نے بتایا کہ منگلا ڈیم 51 سال سے ملکی ترقی میں شاندار کردار ادا کر رہا ہے، اب تک منگلا سے 251 ملین ایکڑ فٹ پانی آبپاشی کے لیے ریلیز کیا جا چکا ہے جبکہ ہائیڈل پاور اسٹیشن نے233 ارب یونٹ سستی پن بجلی بھی مہیا کی، اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 5.88ملین ایکڑ فٹ تھی جو2004 تک مٹی بھرنے کی وجہ سے 4.6ملین ایکڑ فٹ رہ گئی تھی۔
واپڈا کے ریزنگ پراجیکٹ کے بعد اب پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 2.88 ملین ایکڑ فٹ بڑھ کر7.4 ملین ایکڑ فٹ ہو گئی جو تربیلا ڈیم سے بھی زیادہ ہے،1960 میں منگلا کی عمر کا تخمینہ 100 سے 115 سال لگایا گیا تھا تاہم ریزنگ پراجیکٹ کی بدولت اب اس کی عمر269 سال تک بڑھ چکی ہے، یہاں سالانہ 500 میٹرک ٹن مچھلی پیدا ہوتی ہے، ہائیڈل پاور اسٹیشن کی پیداواری صلاحیت ایک ہزار میگاواٹ ہے، واپڈا نے ہائیڈل اسٹیشن کی اَپ گریڈیشن کا منصوبہ شروع کر دیا ہے جسے2024 تک مکمل کیا جائے گا اور اس کی صلاحیت310 میگاواٹ مزید بڑھ جائے گی۔
چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین اور دیگر افسروں نے اُنھیں بریفنگ دی، چیئرمین واپڈا نے بتایا کہ منگلا ڈیم 51 سال سے ملکی ترقی میں شاندار کردار ادا کر رہا ہے، اب تک منگلا سے 251 ملین ایکڑ فٹ پانی آبپاشی کے لیے ریلیز کیا جا چکا ہے جبکہ ہائیڈل پاور اسٹیشن نے233 ارب یونٹ سستی پن بجلی بھی مہیا کی، اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 5.88ملین ایکڑ فٹ تھی جو2004 تک مٹی بھرنے کی وجہ سے 4.6ملین ایکڑ فٹ رہ گئی تھی۔
واپڈا کے ریزنگ پراجیکٹ کے بعد اب پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 2.88 ملین ایکڑ فٹ بڑھ کر7.4 ملین ایکڑ فٹ ہو گئی جو تربیلا ڈیم سے بھی زیادہ ہے،1960 میں منگلا کی عمر کا تخمینہ 100 سے 115 سال لگایا گیا تھا تاہم ریزنگ پراجیکٹ کی بدولت اب اس کی عمر269 سال تک بڑھ چکی ہے، یہاں سالانہ 500 میٹرک ٹن مچھلی پیدا ہوتی ہے، ہائیڈل پاور اسٹیشن کی پیداواری صلاحیت ایک ہزار میگاواٹ ہے، واپڈا نے ہائیڈل اسٹیشن کی اَپ گریڈیشن کا منصوبہ شروع کر دیا ہے جسے2024 تک مکمل کیا جائے گا اور اس کی صلاحیت310 میگاواٹ مزید بڑھ جائے گی۔