ڈومیسٹک کرکٹ کی ’’اوور ہالنگ‘‘ پی سی بی پھونک پھونک کر قدم رکھے گا

کسی کیخلاف نہیں،ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو بند کرنے کی باتیں محض قیاس آرائی ہیں، اب تک تو اس پر بات بھی نہیں ہوئی، احسان مانی

کھیل کے نظام میں اگر بہتری نہ لائے تودنیا سے پیچھے رہ جائیں گے،چیئرمین بورڈ۔ فوٹو: فائل

ڈومیسٹک کرکٹ کی''اوور ہالنگ''میں پی سی بی پھونک پھونک کر قدم رکھے گا۔

گزشتہ دنوں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ پی سی بی ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس پر کھلاڑیوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی،انھیں خدشہ ہے کہ وہ بے روزگاری کا شکار ہو جائیں گے،البتہ چیئرمین پی سی بی احسان مانی کے مطابق ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔

نمائندہ ''ایکسپریس'' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمارا صرف ایک پوائنٹ ایجنڈا کرکٹ کی بہتری ہے، اس کیلیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے،انھوں نے کہا کہ ہم کسی کیخلاف نہیں، ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو بند کرنے کی باتیں محض قیاس آرائی ہیں، اب تک تو ہم نے اس پر بات بھی نہیں کی،کوئی بھی فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا جائے گا۔

اس سوال پر کہ پی سی بی کے سرپرست اعلیٰ عمران خان ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے سخت مخالف ہیں تو کیا بورڈ پر اس سے کوئی اثر پڑے گا احسان مانی نے کہا کہ ہم اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں، ہمیں کوئی ہدایت نہیں ملی کہ ایسا کر دو،میں حیران ہوں کہ ایکدم سے منفی باتیں کیسے شروع ہوگئیں۔


اس سوال پر ڈپارٹمنٹس بند ہونے کے سبب ملازمتیں چھن جانے کے خدشے سے کرکٹرز پریشان ہیں چیئرمین بورڈ نے کہا کہ کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہم ایسا کوئی فیصلہ نہیں کریں گے جس سے کرکٹ یا کرکٹرز کے مفاد کو ضرب لگے۔

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام میں یقینی طور پر بہتری لائی جائے گی، اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو باقی دنیا سے پیچھے رہ جائیں گے، البتہ ایسا نہیں ہوگا کہ ہم اٹھ کر کوئی فیصلہ کر دیں، اس میں ایک سال تک لگ سکتا ہے،ابھی تو مشاورت کا سلسلہ شروع بھی نہیں ہوا، ہم تبدیلیوں کیلیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں سے بھی رائے لی جائے گی کیونکہ ان سے بہتر طور پرکرکٹ کو کوئی نہیں سمجھ سکتا، تمام ریجنز اور ڈپارٹمنٹس سے بھی مشاورت ہوگی،اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔

دریں اثنا دیگر موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے احسان مانی نے کہا کہ ٹی ٹین لیگ کے حوالے سے فیصلہ منگل تک کر لیا جائے گا، ہم نے اس حوالے سے آئی سی سی سے بعض دستاویزات مانگی تھیں، آپس میں مشاورت بھی جاری ہے، اسی کی روشنی میں اپنے کھلاڑیوں کو شارجہ بھیجنے یا نہ بھیجنے کے حوالے سے کوئی قدم اٹھائیں گے۔

الجزیرہ چینل کی جانب سے کرپشن کے الزامات پر انھوں نے کہا کہ پی سی بی کی اس حوالے سے زیروٹالیرنس پالیسی ہے، معاملے کا مکمل جائزہ لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ آئی سی سی نے مجھے آڈٹ اور ایچ آر کمیٹیز میں شامل کر لیا ہے، سنگاپور میں میٹنگز کے دوران بھارت سے باہمی تعلقات پر کوئی بات نہیں ہو سکی۔
Load Next Story