فِطرانہ
ہمیں فطرانہ اور صدقات دے کر غریبوں کی مدد کرنی چاہئیے
فطرانہ اور صدقات دینے سے ہمیں اﷲ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ فوٹو : ایکسپریس
رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ اختتام پر تھا۔ دو عشرے گزرچکے تھے۔ آج پچیسواں روزہ تھا۔ حکومت نے آج سے تمام تعلیمی اداروں میں عید کی چُھٹیوں کا اعلان کردیا تھا۔ نعمان کا اسکول بھی دس دن کے لیے بند ہورہا تھا۔ آج انہیں عید کے بارے میں بتایا گیا اور سب بچوں کو خوب صورت عیدکارڈز بھی دیے گئے۔ ان عیدکارڈز کے اندر ایک سجا ہوا صفحہ بھی چَسپاں تھا جس میں عید کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی سُنّت لکھی ہوئی تھی۔ اس صفحہ میں فطرانہ کے بارے میں بھی لکھا تھا۔
نعمان، ارم اور علی تین بہن بھائی تھے۔ آمنہ، احمر اور صبا اُن کے تایا کے بچے تھے۔ جب کہ اکبر اُن کے چچا کا بیٹا تھا۔ کنول، ثناء، ریحان اور سعد ان کے محلے دار تھے۔ یہ سب ڈیفنس میں رہتے تھے اور ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ سب آپس میں دوست بھی تھے۔ نعمان، اکبر، سعد اور کنول ساتویں جماعت میں، احمر اور ارم آٹھویں میں، ثناء،آمنہ اور علی نویں میں جب کہ ریحان اور صبا دسویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ وہ سب شام کو نعمان کے گھر میں جمع ہوتے تھے۔ آج بھی روزہ کھولنے کے بعد وہ سب اکٹھے ہوئے تو اسکول میں دیے گئے عیدکارڈز پر تبصرہ کرنے لگے۔
سعد: واہ! کارڈ تو بہت اچھا بنا ہوا ہے۔ ریحان بھائی! اس پر فطرانہ کے بارے میں لکھا ہوا ہے۔ یہ کیا ہوتا ہے؟
ریحان: یہ صدقہ ہے جو عیدالفطر کے دن سوا دوکلو آٹا یا اُس کی قیمت کے حساب سے گندم، کھجور، جَو یا کِشمش وغیرہ ہر صاحبِ نصاب یعنی استطاعت مسلمان پر فرض ہے۔ یہ صدقہ یا فطرانہ شیرخوار بچے کا بھی دیا جاتا ہے۔
نعمان: لیکن یہ کیوں دیا جاتا ہے؟
صبا: تاکہ غریب اور بے بس لوگ بھی اپنی ضروریات پوری کریں اور عید کی خوشی منا سکیں۔
کنول: لیکن ہمارے گھروں میں تو یہ دیا ہی نہیں جاتا۔
ارم: پچھلے سال میں نے بابا کو فطرانہ رجو کو دیتے دیکھا تھا۔
علی: مگر رجو کو تو ماما عید کے لیے شاپنگ کرواتی ہیں اور عیدی بھی دیتی ہیں؟
سعد: پھر تو وہ اس صدقے کی حق دار نہیں۔
اکبر: ہاں! اس طرح تو غریبوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔
ثناء: سوال تو یہ ہے کہ پھر یہ صدقہ کس کو دیا جائے؟ ہمارے محلے میں تو کوئی بھی غریب نہیں۔
آمنہ: ہمارے محلے میں نہیں توکیا، پورے شہر میں تم نے کوئی غریب نہیں دیکھا؟ اور وہ جو اسکول کے راستے میں غریبوں کی بستی ہے، دیکھا نہیں۔۔۔۔ وہ لوگ کیسے زندگی گزار رہے ہیں؟ خیموں میں رہتے ہیں، ان کے بچے کوڑے سے اُٹھاکر کھاتے ہیں۔
احمر: اور وہ جو پچھلے سال سیلاب سے متاثرین ہمارے شہر میں آئے تھے، وہ بھی تو بے سہارا ہیں۔
ارم: ہم ان کے لیے کیا کریں؟
صبا جو بڑی دیر سے کچھ سوچ رہی تھی، ایک دم بولی؛ آئیڈیا!
وہ کیا۔۔۔۔؟ سب ایک دم چونک کر بولے۔ پھر صبا نے اپنا آئیڈیا سنایا تو سب بہت خوش ہوئے۔
ریحان: ابھی تو نماز کا وقت ہونے والا ہے۔ اس وقت جس کے پاس جتنے پیسے ہیں وہ دے دے۔ میں ابھی پیپر اور چارٹ لے آتا ہوں، باقی کا کام کل سحری کے بعد ہوگا۔ تم سب میرے گھر آجانا۔ میرے گھر میں انٹرنیٹ اور پرنٹر ہے۔
اگلے دن سارے بچے سحری کے بعد ریحان کے گھر میں جمع ہوگئے۔ ریحان نے نیٹ پر سرچ کرکے فطرانہ کے بارے میں بہت سی معلومات لیں پھر انہیں ترتیب دے دیا گیا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ دفتر کہاں بنایا جائے۔
اکبر: میرے گھر کے باہر والا گیراج خالی ہے۔ ہم اسے استعمال کرلیتے ہیں۔
چناںچہ چارٹ اور پوسٹر پر اکبر کے گھر کا پتا اور ریحان کا فون نمبر لکھ کے پرنٹ نکال لیا گیا۔ اب ان کو بانٹنے کی باری تھی۔
علی: سوال پھر بھی یہ ہے کہ لوگ ہمیں کیوں صدقہ دیںگے؟
ثناء: (ایک پوسٹر علی کی طرف بڑھاتے ہوئے) کیا تم نے یہ نہیں پڑھا؟ اس کے آخر میں لکھا ہوا ہے کہ اگر آپ اپنا فطرانہ کسی ضرورت مند تک نہیں پہنچا سکتے تو ''الفطر ٹرسٹ'' کو دیں۔
شام تک تمام پوسٹرز بانٹ دیے گئے اور چارٹ دیواروں پر لگا دیے گئے۔ گیراج کو صاف کیا گیا۔ اس میں کچھ ضروری سامان رکھ کے باہر الفطر ٹرسٹ کا پوسٹر لگایا گیا۔ ریحان اور صبا نے اس کا انتظام سنبھالا۔ ان پوسٹرز کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں کھل گئیں اور انہیں احساس ہواکہ وہ غریبوں کا حق مار رہے ہیں۔
لوگوں نے بڑی تعداد میں الفطر ٹرسٹ کو فطرانہ دیا۔ ان پوسٹرز میں زکوٰۃ کے بارے میں بھی لکھا تھا چناںچہ جن لوگوں نے ابھی تک زکوٰۃ نہیں دی تھی، انہوں نے زکوٰۃ کے پیسے بھی اس ٹرسٹ کو دے دیے۔ بچوں کے والدین نے بھی بچوں کا بھرپور ساتھ دیا اور کھلے دل سے ان کی مدد کی۔ یوں ایک ہی دن میں اچھی خاصی رقم جمع ہوگئی جن سے صبا کے ابو کے مشورے سے کپڑے اور ضرورت کی کچھ چیزیں خریدی گئیں۔ بہت سے لوگوں نے ضرورت کا کچھ سامان اور کپڑے بھی دیے۔ پھر یہ سامان غریبوں کی بستی اور متاثرینِ سیلاب میں بانٹ دیا گیا۔ اکبر اور علی کے ابو نے بیس، بیس ہزار روپے بطور فنڈ الفطر ٹرسٹ کو دیا جن سے پچاس اور سو روپے کے لفافے بنائے گئے۔
عید کے دن پچاس روپے والے لفافے غریبوں اور سیلاب زدگان کے ہر بچے کو جب کہ سو روپے والے لفافے ہر بڑے کو بطور عیدی دیے گئے۔ وہ سب نہایت نیازمندی سے ان بچوں کا شکریہ ادا کررہے تھے۔ آج ان غریب اور بے سہارا لوگوں کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی۔
اس عید پر سب بچے بہت خوش تھے۔ انہیں یہ میٹھی عید واقعی میٹھی لگ رہی تھی۔ ان کی عید کا مزہ جو دوبالا ہوگیا تھا۔
تو ساتھیو! ہمیں بھی چاہیے کہ ہم فطرانہ اور صدقات وغیرہ دے کر غریبوں کی مدد کریں، کیوںکہ یہ ان کا حق ہے اور اس طرح ہمیں نہ صرف اﷲ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے بلکہ ہماری خوشیاں بھی دوبالا ہوجاتی ہیں۔
نعمان، ارم اور علی تین بہن بھائی تھے۔ آمنہ، احمر اور صبا اُن کے تایا کے بچے تھے۔ جب کہ اکبر اُن کے چچا کا بیٹا تھا۔ کنول، ثناء، ریحان اور سعد ان کے محلے دار تھے۔ یہ سب ڈیفنس میں رہتے تھے اور ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ سب آپس میں دوست بھی تھے۔ نعمان، اکبر، سعد اور کنول ساتویں جماعت میں، احمر اور ارم آٹھویں میں، ثناء،آمنہ اور علی نویں میں جب کہ ریحان اور صبا دسویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ وہ سب شام کو نعمان کے گھر میں جمع ہوتے تھے۔ آج بھی روزہ کھولنے کے بعد وہ سب اکٹھے ہوئے تو اسکول میں دیے گئے عیدکارڈز پر تبصرہ کرنے لگے۔
سعد: واہ! کارڈ تو بہت اچھا بنا ہوا ہے۔ ریحان بھائی! اس پر فطرانہ کے بارے میں لکھا ہوا ہے۔ یہ کیا ہوتا ہے؟
ریحان: یہ صدقہ ہے جو عیدالفطر کے دن سوا دوکلو آٹا یا اُس کی قیمت کے حساب سے گندم، کھجور، جَو یا کِشمش وغیرہ ہر صاحبِ نصاب یعنی استطاعت مسلمان پر فرض ہے۔ یہ صدقہ یا فطرانہ شیرخوار بچے کا بھی دیا جاتا ہے۔
نعمان: لیکن یہ کیوں دیا جاتا ہے؟
صبا: تاکہ غریب اور بے بس لوگ بھی اپنی ضروریات پوری کریں اور عید کی خوشی منا سکیں۔
کنول: لیکن ہمارے گھروں میں تو یہ دیا ہی نہیں جاتا۔
ارم: پچھلے سال میں نے بابا کو فطرانہ رجو کو دیتے دیکھا تھا۔
علی: مگر رجو کو تو ماما عید کے لیے شاپنگ کرواتی ہیں اور عیدی بھی دیتی ہیں؟
سعد: پھر تو وہ اس صدقے کی حق دار نہیں۔
اکبر: ہاں! اس طرح تو غریبوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔
ثناء: سوال تو یہ ہے کہ پھر یہ صدقہ کس کو دیا جائے؟ ہمارے محلے میں تو کوئی بھی غریب نہیں۔
آمنہ: ہمارے محلے میں نہیں توکیا، پورے شہر میں تم نے کوئی غریب نہیں دیکھا؟ اور وہ جو اسکول کے راستے میں غریبوں کی بستی ہے، دیکھا نہیں۔۔۔۔ وہ لوگ کیسے زندگی گزار رہے ہیں؟ خیموں میں رہتے ہیں، ان کے بچے کوڑے سے اُٹھاکر کھاتے ہیں۔
احمر: اور وہ جو پچھلے سال سیلاب سے متاثرین ہمارے شہر میں آئے تھے، وہ بھی تو بے سہارا ہیں۔
ارم: ہم ان کے لیے کیا کریں؟
صبا جو بڑی دیر سے کچھ سوچ رہی تھی، ایک دم بولی؛ آئیڈیا!
وہ کیا۔۔۔۔؟ سب ایک دم چونک کر بولے۔ پھر صبا نے اپنا آئیڈیا سنایا تو سب بہت خوش ہوئے۔
ریحان: ابھی تو نماز کا وقت ہونے والا ہے۔ اس وقت جس کے پاس جتنے پیسے ہیں وہ دے دے۔ میں ابھی پیپر اور چارٹ لے آتا ہوں، باقی کا کام کل سحری کے بعد ہوگا۔ تم سب میرے گھر آجانا۔ میرے گھر میں انٹرنیٹ اور پرنٹر ہے۔
اگلے دن سارے بچے سحری کے بعد ریحان کے گھر میں جمع ہوگئے۔ ریحان نے نیٹ پر سرچ کرکے فطرانہ کے بارے میں بہت سی معلومات لیں پھر انہیں ترتیب دے دیا گیا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ دفتر کہاں بنایا جائے۔
اکبر: میرے گھر کے باہر والا گیراج خالی ہے۔ ہم اسے استعمال کرلیتے ہیں۔
چناںچہ چارٹ اور پوسٹر پر اکبر کے گھر کا پتا اور ریحان کا فون نمبر لکھ کے پرنٹ نکال لیا گیا۔ اب ان کو بانٹنے کی باری تھی۔
علی: سوال پھر بھی یہ ہے کہ لوگ ہمیں کیوں صدقہ دیںگے؟
ثناء: (ایک پوسٹر علی کی طرف بڑھاتے ہوئے) کیا تم نے یہ نہیں پڑھا؟ اس کے آخر میں لکھا ہوا ہے کہ اگر آپ اپنا فطرانہ کسی ضرورت مند تک نہیں پہنچا سکتے تو ''الفطر ٹرسٹ'' کو دیں۔
شام تک تمام پوسٹرز بانٹ دیے گئے اور چارٹ دیواروں پر لگا دیے گئے۔ گیراج کو صاف کیا گیا۔ اس میں کچھ ضروری سامان رکھ کے باہر الفطر ٹرسٹ کا پوسٹر لگایا گیا۔ ریحان اور صبا نے اس کا انتظام سنبھالا۔ ان پوسٹرز کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں کھل گئیں اور انہیں احساس ہواکہ وہ غریبوں کا حق مار رہے ہیں۔
لوگوں نے بڑی تعداد میں الفطر ٹرسٹ کو فطرانہ دیا۔ ان پوسٹرز میں زکوٰۃ کے بارے میں بھی لکھا تھا چناںچہ جن لوگوں نے ابھی تک زکوٰۃ نہیں دی تھی، انہوں نے زکوٰۃ کے پیسے بھی اس ٹرسٹ کو دے دیے۔ بچوں کے والدین نے بھی بچوں کا بھرپور ساتھ دیا اور کھلے دل سے ان کی مدد کی۔ یوں ایک ہی دن میں اچھی خاصی رقم جمع ہوگئی جن سے صبا کے ابو کے مشورے سے کپڑے اور ضرورت کی کچھ چیزیں خریدی گئیں۔ بہت سے لوگوں نے ضرورت کا کچھ سامان اور کپڑے بھی دیے۔ پھر یہ سامان غریبوں کی بستی اور متاثرینِ سیلاب میں بانٹ دیا گیا۔ اکبر اور علی کے ابو نے بیس، بیس ہزار روپے بطور فنڈ الفطر ٹرسٹ کو دیا جن سے پچاس اور سو روپے کے لفافے بنائے گئے۔
عید کے دن پچاس روپے والے لفافے غریبوں اور سیلاب زدگان کے ہر بچے کو جب کہ سو روپے والے لفافے ہر بڑے کو بطور عیدی دیے گئے۔ وہ سب نہایت نیازمندی سے ان بچوں کا شکریہ ادا کررہے تھے۔ آج ان غریب اور بے سہارا لوگوں کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی۔
اس عید پر سب بچے بہت خوش تھے۔ انہیں یہ میٹھی عید واقعی میٹھی لگ رہی تھی۔ ان کی عید کا مزہ جو دوبالا ہوگیا تھا۔
تو ساتھیو! ہمیں بھی چاہیے کہ ہم فطرانہ اور صدقات وغیرہ دے کر غریبوں کی مدد کریں، کیوںکہ یہ ان کا حق ہے اور اس طرح ہمیں نہ صرف اﷲ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے بلکہ ہماری خوشیاں بھی دوبالا ہوجاتی ہیں۔