ابھی وہ سپیرا پیدا نہیں ہوا

وہ 12 جون 1964 کا گرم دن تھا۔ کمرۂ عدالت میں ان کی تقدیر کا فیصلہ ہورہا تھا جنھوں نے اپنے لوگوں کے انسانی اورشہری ۔۔۔

zahedahina@gmail.com

وہ 12 جون 1964 کا گرم دن تھا۔ کمرۂ عدالت میں ان کی تقدیر کا فیصلہ ہورہا تھا جنھوں نے اپنے لوگوں کے انسانی اورشہری حقوق کے لیے علم بغاوت بلندکیا تھا۔ عدالت کی عمارت سے باہر چوک میں ہزاروں لوگوں کا ہجوم تھا جو اپنے رہنماؤں پر چلنے والے مقدمے کا فیصلہ سننے کے لیے اکٹھا ہوگئے تھے۔ بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ آزادی کے ان متوالوں کو پھانسی کی سزا سنائی جائے گی، کچھ عمر قید کی توقع کررہے تھے۔ اس کے باوجود وہ آخری لمحے تک امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔

اس روز کے بارے میں خود اس نے لکھا ہے کہ ''پوری دنیا اس مقدمے کی طرف متوجہ تھی۔ لندن کے چرچ سینٹ پال میں لوگ ہمارے لیے دعائیں مانگتے اور رت جگے کاٹتے۔ طالبعلموں نے مجھے اپنی تنظیم کا غائبانہ صدرمنتخب کر لیا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے قومی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کردیا تاکہ جنوبی افریقا میں ایسا پارلیمانی نظام نافذ کیا جاسکے جوصحیح معنوں میں افریقیوں کی ترجمانی کرے۔ انھوں نے سفارش کی کہ نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کرنے والے جن افراد پر مقدمے چلائے گئے ہیں ان کی عام معافی کا اعلان کیا جائے۔ مقدمے کے فیصلے سے دو دن قبل اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے جنوبی افریقا کی حکومت سے کہا کہ مقدمہ ختم کردیا جائے اور ملزمان کے لیے عام معافی کا اعلان کردیا جائے۔

'' سماعت شروع ہونے سے قبل میں نے لندن یونیورسٹی کو اپنے امتحانی پرچے لکھ کر بھیجے۔ یہ عجیب و غریب بات تھی ایک طرف تو میں یونیورسٹی کا امتحان دے رہا تھا اور دوسری طرف سزا کے اعلان کا منتظر تھا۔ میرے محافظ یہ سب دیکھ کر حیران ہوتے رہتے تھے۔ وہ مجھ سے کہتے کہ تمہیں جہاں جانا ہے وہاں قانون کی ڈگری کی ضرورت نہیں۔ میں تمام مقدمے کے دوران اپنے امتحان کی تیاری کرتا رہا اور امتحان دینے کا خواہشمند تھا۔ اس کے متعلق میری کوئی دوسری رائے نہیں تھی۔ بعد میں مجھے خیال آیا کہ میں نے امتحان کی تیاریوں میں مصروف رہ کر اپنے آپ کو منفی اورمایوس کن خیالات سے بچالیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ عرصہ دراز تک میں وکالت نہیں کرسکوں گا مگر میں ڈگری حاصل کرنے کے علاوہ کوئی اور بات سوچنا نہیں چاہتا تھا۔ بہر طور میں امتحانات میں پاس ہوگیا۔''

12 جون 1964ء کے دن وہ آخری بار عدالت میں لایا گیا۔ حکومت نے تحفظ کے بے پناہ اقدامات کیے تھے۔ اس کی گاڑی کے آگے پیچھے گاڑیوں کی طویل قطار تھی ، گلیوں اور سڑکوں پرسے گزرتے ہوئے مسلسل سائرن بجائے جارہے تھے اور عدالت کی طرف جانے والی سڑکیںہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردی گئی تھیں۔ جو کوئی بھی عدالت کے قریب پھٹکنے کی کوشش کرتا، پولیس اس کی شناخت اور کاغذات کی خوب چھان بین کرتی۔ یہاں تک کہ بسوںکے اڈوں اور ریلوے اسٹیشن پر پولیس چوکیاں قائم کردی گئی تھیں۔ خوف و ہراس کے باوجود تقریباً دو ہزار افراد عدالت کے ارد گرد جمع ہوگئے۔ انھوں نے بڑے بڑے اشتہار اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا۔ ''ہم اپنے قائدین کے ساتھ ہیں''۔ عدالت کے اندر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ البتہ مقامی اور بین الاقوامی اخباری نمائندوں کے لیے ایک علیحدہ کمرہ تھا جس میں وہ صرف کھڑے ہوسکتے تھے۔

اس روزکمرۂ عدالت میں اس کی ماں اور بیوی بھی موجود تھیں۔ انھیں دیکھ کر اس کا دل ڈوب گیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی ماں کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی۔ ایک ماں کمرہ عدالت میں جج کا یہ فیصلہ سننے کے لیے آئے کہ اس کے بیٹے کو سولی پر لٹکایا جائے گا یا وہ عمر بھر جیل میں زندگی گزارے گا۔ یہ اندوہناک بات تھی۔ اس نے اشارے سے ماں اوربیوی کو سلام کیا۔

چند دنوں پہلے کراچی کے ایک انگریزی اخبار میں اس کی وہ تصویر چھپی جس میں وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑا ہے اور آسمان کو دیکھ رہا ہے۔ وہ 12 جون 1964ء کو قیدخانے میں داخل ہوا اور اپنی زندگی کے 26 برس ان ہی سلاخوں کے پیچھے گزار دیے۔


جیل میں اپنی کوٹھری کے بارے میں اس نے لکھاہے کہ وہ برآمدے کی آخری کوٹھری میں بند تھا اور صحن کودیکھ سکتا تھا۔ کچھ بلندی پر چھوٹی سی سلاخوں والی کھڑکی بھی تھی۔ کوٹھری کی وسعت کا اندازہ اس سے لگایے کہ وہ اپنی کوٹھری میں تین قدموں کے فاصلے جتنا چل سکتا تھا۔ جب وہ لیٹ جاتا تو اس کے پیر دیوار سے جالگتے اور سر کے پیچھے کی دیوار بھی اسے نظر آتی تھی۔ کوٹھری کے باہر ایک سفید رنگ کا بورڈ آویزاں تھا جس پر اس کا نام اور روز مرہ کاکام درج تھا۔ وہ 1964ء میں لایا جانیوالا 466 واں قیدی تھا۔ اس وقت اس کی عمر چھیالیس برس تھی۔ اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی اور اسے نہیں معلوم تھا کہ عقوبت خانے میں زندگی کے کتنے برس گزریں گے۔

وہ دنیا کے ان معدودے چند رہنماؤںمیں سے تھا جنھوںنے جیل میں بیٹھ کر اپنے لوگوں کی رہنمائی کی اور اپنے دوستوں کی مدد سے بیسویں صدی کی مشکل ترین تحریک آزادی چلائی اور اس میں کامیاب ہوا۔وہ جیل گیا تو سمجھتا تھا کہ غاصبوں سے آزادی چھیننے کے لیے مسلح کارروائیاں لازمی ہیں۔ جیل کے شب و روز نے اسے پڑھنے اور سوچنے کے لیے فراواں وقت مہیا کیا۔ رفتہ رفتہ وہ عدم تشدد کا قائل ہوگیا۔ اس کے ساتھی جو حکومت کے مظالم سہہ رہے تھے انھیں اس کی باتوں سے اختلاف تھا، خود اس کی بیوی بھی عدم تشدد کے فلسفے کی قائل نہیں تھی۔ لیکن وہ موہن داس کرم چند گاندھی کے فلسفے کا اسیر ہوچکا تھا۔ عدم تشدد کے فلسفے نے اس کی کایا کلپ کردی اور ایک ایسی اخلاقی طاقت عطا کی جس نے دنیا میں نسلی امتیاز پر کار بند حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے کے لیے مجبور کردیا۔

یہ بیسویں صدی کے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا کا قصہ ہے۔ وہ 94 برس کے ہوچکے ہیں۔ ان کی رہنمائی میں جنوبی افریقا نے سفید فام حکمرانوں سے آزادی حاصل کی اور وہ ایک آزاد اور سربلند قوم کے پہلے منتخب صدر کے طور پر سامنے آئے۔یہ منڈیلا کی دانائی تھی کہ جنوبی افریقا کی نسل پرست سفید فام اقلیت اپنے گناہوں کے باوجود سیاہ فام اکثریت کے غصے اور نفرت کا نشانہ بننے سے محفوظ رہی۔ انھوں نے سچ اور مفاہمت کے نام سے ایک کمیشن قائم کیا جو دنیا کے دوسرے متحارب گروہوں کیلیے ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔انھوں نے یہ کمال کام بھی کیا کہ جب ان کی صدارتی مدت ختم ہوئی تو انھوں نے دوسری مرتبہ اس عہدے کے لیے الیکشن لڑنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے حصے کا کام کرچکا۔ اب دوسروں کو آگے آنا چاہیے اور جنوبی افریقا کی تعمیر اور اس کے لوگوں کی تہذیبِ نفس کے لیے کام کرنا چاہیے۔

یہ سچ ہے کہ آج جنوبی افریقا بہت سے مسائل سے دوچار ہے۔ آج بھی دنیا بھر سے نوجوان اور بوڑھے منڈیلا صاحب سے صلاح مشورے کے لیے آتے ہیں۔ اب سے چند برس پہلے تک وہ دنیا کے مختلف ملکوں میں بلائے جاتے رہے۔ وہ پاکستان آئے۔ ہندوستان بھی گئے۔ ان سے ہم نے بہت سی امیدیں وابستہ کیں لیکن وہ کوئی عامل کامل نہ تھے کہ منتر پڑھ کر پھونکتے اور یہ دونوں ملک اپنے اندر کی نفرتوں، عصبیتوں اور دشمنیوں کے زہر سے نجات پالیتے۔ وہ ہمیں سمجھا سکتے تھے، ہمارے درمیان مکالمے کی میز بچھا سکتے تھے ۔ ہمیںصدق دل سے 'سچ اور مفاہمت' کمیشن قائم کرنے میں مدد دے سکتے تھے لیکن ہم ابھی اس قابل نہیں ہوئے کہ اپنی آئندہ نسلوں کے لیے امن کا پودا لگاسکیں۔ ابھی وہ سپیرا شاید پیدا نہیں ہوا جو ہمارے اندر کے زہر کو نکال دے۔آزادی، جمہوریت، مساوات، حقوق انسانی، انصاف، اور امن عالم کے لیے منڈیلا نے اپنی خراب صحت کے باوجود دور دراز ملکوں کے دورے کیے اور کوشش کی کہ وہ انسانوں کے دلوں کی کدورتیں اورکڑواہٹیں دھو سکیں۔ ذاتی اور سیاسی اختلافات کی بنا پر ان کی اور ونی کی علیحدگی ہوگئی۔انھوں نے کینسر کا مقابلہ کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے جوان بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا۔ صحت کی خرابی انھیں طویل سفر کی اجازت نہیں دیتی۔ اسی لیے اب وہ گھر میں آرام کرتے ہیں اور دور دور سے آنے والوں سے ملتے ہیں، ان کی سنتے ہیں اور اپنی کہتے ہیں۔

وہ کئی دنوں سے اسپتال میں ہیں ،کچھ سنبھلے تو ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر نہیں ۔ ان کے لیے ساری دنیا میں دعائیں ہورہی ہیں۔ یہ کرشماتی بوڑھا جب بھی بیمار ہوتا ہے، ساری دنیا میں اس کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں۔ اس کے نام کی شمعیں روشن کی جاتی ہیں۔ دنیا کے لوگوں کو منڈیلا کی رخصت سے ڈر لگتا ہے۔

دنیا میں نفرت کی جو سرخ و سیاہ آندھی چل رہی ہے۔ اس میں منڈیلا کی زندگی ایک چراغ کی طرح روشن ہے۔ لوگ اس چراغ کی روشنی میں اپنی آئندہ نسلوں کے مستقبل کو اجالنے کی خواہش رکھتے ہیں۔منڈیلا صاحب ابھی جانے کی جلدی نہ کیجیے۔ آپ کے جانے کے بعد دکھوں سے بھری ہوئی یہ دنیا کچھ اور غریب ہوجائے گی۔ آپ جیسے لوگ ہمارے درمیان موجود رہیں، آپ کے ہونے سے اربوں انسانوں کو بہت آسراہے۔ہماری دنیا میں ابھی وہ سپیرا شاید پیدا نہیں ہوا جو ہم سب کے اندر کے زہر کو نکال دے۔ آپ کا دم ہمارے لیے غنیمت ہے۔
Load Next Story