عید کی خوشی

روزوں کے بعد اﷲ کی طرف سے ہمارے لیے انعام اور یہ عید تو بہت ہی خوب صورت ہے

دوستوں کو اپنی خوشی میں شامل کرنا اچھی بات ہوتی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

سارہ! فارہ۔۔۔ اٹھو! روزہ رکھ لو ورنہ بھائی اٹھ گئے تو روزہ نہیں رکھنے دیںگے۔ ایمان فاطمہ نے آہستہ آواز میں سارہ اور فارہ کو اٹھانے کی کوشش کی۔ سارہ اور فارہ آنکھیں ملتی اٹھ بیٹھیں۔ دونوں نے منہ ہاتھ دھوکر سحری کی پھر دوبارہ جاکر سوتی بن گئیں۔ ایمان فاطمہ نے ارسل کو بھی اٹھانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوئی۔ پھر اُس نے امی سے کہا کہ آپ ارسل اور افضل بھائی کو اُٹھا دیں، سحری کا وقت نکلا جارہا ہے۔ بالآخر امی کی کوششوں سے دونوں پانچ منٹ پہلے اُٹھ گئے۔ سحری کی، نماز پڑھی اور دوبارہ سوگئے۔
سارہ اور فارہ ان کے جاتے ہی اُٹھ بیٹھیں، ایسے شُکر کی سانس لی جیسے قید سے رہائی مل گئی ہو۔ دونوں نے سیپارہ پڑھا پھر اپنے کھیل میں مصروف ہوگئیں۔
اِن بچیوں کی زندگی بھی کیسی ہے۔ ایمان فاطمہ نے دکھ سے سوچا۔
کنزہ! لوگ اپنے بچوں کو روزہ رکھواتے ہیں تو کتنے حَسّاس ہوجاتے ہیںکہ دیکھو، ہمارے بچے نے کتنی گرمی میں روزہ رکھا ہے۔ ہر کسی کو فخریہ بتاتے ہیںکہ آج ہمارے بچے کو کچھ نہ کہنا، اس کا روزہ ہے۔ مگر ہمارے گھر میں نرالا اصول ہے۔ بھائی کہتے ہیں، بچوں کو روزہ نہیں رکھوائو ورنہ میں ان کو ماروں گا اور جس نے اُٹھایا اسے بھی۔ بے چاری سارہ اور فارہ کا روزہ ان کی وجہ سے لمبا ہوجاتا ہے۔ بہت پہلے ہی سحری کرلیتی ہیں۔ آج کل بڑے بڑے کی ہوا خشک ہے وہ تو پھر معصوم بچیاں ہیں۔

ایمان فاطمہ نے دکھ بھرے لہجے میں اپنی دُکھ سُکھ کی ساتھی کنزہ کو بتایا۔
ایسا کچھ نہیں ہے، تمہیں لگتا ہوگا۔ کنزہ نے تسلی دینا چاہی مگر ایمان فاطمہ نے نفی میں سر ہلایا اور بولی، ایسا نہیں ہے۔ میں خود محسوس کرتی ہوںکہ سارہ اور فارہ کے ساتھ ان کا رویہ ہتک آمیز ہوتا ہے۔ اگر میں ان کی حمایت میں کچھ بول دوں تو مجھ پر بھی غصہ کرتے ہیں۔ یہ کیسے بھائی ہیں؟ کیا سب کے بھائی ایسے ہی ہوتے ہیں؟

ایمان فاطمہ نے سوالیہ نظروں سے کنزہ کی طرف دیکھا تو کنزہ اس کی پریشان صورت دیکھ کر بے اختیار سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ ایسی کون سی ترکیب کرے کہ میری اتنی پیاری دوست کے چہرے پر خوشی آسکے۔

کنزہ اور ایمان فاطمہ بچپن کی سہیلیاں تھیں۔ ہر خوشی غم میں ایک دوسرے کی سانجھی۔ اب ایمان فاطمہ پریشان تھی تو کنزہ کیسے مطمئن رہتی۔ آخر بہت سوچنے کے بعد کنزہ نے کہا، تم صاف صاف اپنے بھائی سے بات کروکہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟

میں ایسا نہیں کرسکتی، کیوںکہ میں ان کا احترام کرتی ہوں۔ ایمان فاطمہ نے اپنی بے بسی بتائی تو کنزہ کا دل رونے کو چاہنے لگا۔ اسے محسوس ہواکہ وہ اب کبھی ایمان فاطمہ کو خوش نہیں دیکھ سکے گی۔ مگر اسے اپنی دوست کے لیے کچھ تو کرنا ہی تھا۔

چاند نظر آگیا۔ ارسل نے گھر میں داخل ہوتے ہی کہا اور پوچھا، ابو آگئے؟ ایمان فاطمہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ کل عید ہے۔ یہ سوچ کر ہی ایمان فاطمہ کے اندر سکون کی لہر دوڑ گئی۔ اﷲ نے اس کا امتحان ختم کردیا۔ وہ باورچی خانہ میں چلی گئی۔ عید کے دن کی تیاری بھی تو کرنی تھی۔ سارہ اور فارہ کو مہندی بھی لگانی تھی۔ وہ سب کام جلد سے جلد ختم کرنا چاہتی تھی تاکہ کنزہ کو عید کی مبارک باد دے۔
لو بھئی عیدی! افضل بھائی نے دو دو سو کے نوٹ سارہ اور فارہ کو دیے تو وہ کھِل اُٹھیں۔
اور یہ تمہاری عیدی! افضل بھائی نے ایمان فاطمہ کی طرف پانچ سو کا نوٹ بڑھایا تو وہ حیرانی سے ان کا چہرہ تکنے لگی۔

ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ میں جانتا ہوں تم کس لیے حیران ہورہی ہو۔ پہلے عیدی پکڑو پھر بتاتا ہوں۔ اُنہوں نے کہا تو ایمان فاطمہ عیدی لے لی۔ مگر عیدی سے زیادہ اسے یہ جاننے کا تجسس تھا کہ افضل بھائی کیا بتانا چاہتے ہیں؟ افضل بھائی بولے، مَیں سوچتا تھا کہ ہمارے خاندان کے سارے بچے روزے رکھتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیںکہ سارہ اور فارہ ان کی وجہ سے روزے رکھتی ہیںکہ وہ رکھتے ہیں تو ہم بھی رکھیں گے۔ مگر ہفتے والے دن مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا جب وہ دونوں تم سے کہہ رہی تھیںکہ ''ہم اﷲ کو خوش کرنے کے لیے روزہ رکھتے ہیں۔'' تو مجھے سکون مل گیا۔ وہ بہت اچھی بچیاں ہیں۔ اب تم یوں حیرانی سے منہ کھول کر نہ دیکھو۔ میں جن نہیں ہوں، جاکر اپنا کام کرو۔

ایمان فاطمہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔ اس کی دعائیں قبول ہوگئی تھیں۔ اب اسے سجدۂ شُکر بھی ادا کرنا تھا۔ ساتھ ہی کنزہ کو بتانا تھا کہ تمہاری بتائی ترکیب سے اﷲ نے کامیابی عطا کی ہے۔ کنزہ نے کہا تھا کہ رمضان کا مہینہ ہے، تم سحری اور افطاری کے وقت دعا کیا کروکہ افضل بھائی کا دل نرم ہوجائے۔ میں بھی دعا کروں گی کہ اﷲ تمہیں پریشانی سے نجات دے۔ اب میں کنزہ کو بتائوںگی کہ آج میں بہت خوش ہوں اور تم بھی میری خوشی میں شریک ہوجائو۔ آخر عید کا دن ہے۔ روزوں کے بعد اﷲ کی طرف سے ہمارے لیے انعام اور یہ عید تو بہت ہی خوب صورت ہے۔

Recommended Stories

Load Next Story