معاشی اقدامات آسودگی کی نوید دیں
عوام حکومت کے ریلیف اور معاشی اقدامات کے جزوی ثمرات سے بھی محروم ہے۔
عوام حکومت کے ریلیف اور معاشی اقدامات کے جزوی ثمرات سے بھی محروم ہے۔ فوٹو: فائل
وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کے دورے پر روانگی سے پہلے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے اور پاور سیکٹر میں چوری و دیگر نقصانات کی وجہ سے صارفین پر پڑنے والے اضافی بوجھ کا نوٹس لے لیا اور اسے ہٹانے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ کسی دوسرے کی چوری اور بدانتظامی کا خمیازہ عوام بھگتیں، یہ قابل قبول نہیں، اس موقعے پر بجلی چوروں کے خلاف فوری طورپر کریک ڈاؤن کرنے کا بھی فیصلہ ہوا۔
ادھر اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں بجلی کے واجبات وصولی میں بہتری تک بجلی کی قیمت نہ بڑھانے کا اہم فیصلہ بھی کیا گیا ، بتایا گیا کہ بجلی کی ترسیل و تقسیم کو بہتر بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر ٹیکنالوجی کے استعمال کو بروئے کارلایا جا رہا ہے تاکہ جہاں ترسیلی نظام کو بہتر بنایا جا سکے وہاں تقسیم اور چوری جیسے مسائل کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نے بجلی کے شعبے کی صورتحال کا ایک عمومی جائزہ لیتے ہوئے چند بنیادی مسائل کی نشاندہی کی ہے لیکن اگر حکومت کے قیام سے لے کر اس کے 100 دن کے پروگرام میں پیش رفت پر نظر ڈالی جائے تو مسائل کا ایک طلسم ہوشربا عام آدمی کے ذہن پر ہتھوڑے کی طرح برسنے لگتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چیلنجز ، مسائل اور مشکلا ت کے سارے باب کھل گئے ہیں، ایک طرف ملکی معیشت کو جلدی سے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔
حکومت نے تسلیم کرلیا کہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں،دوسری جانب زندگی کے مختلف شعبوں کی طرف سے مطالبات کا شور ہے،آئل ٹینکرز کی ہڑتال میں نمایندہ تنظیموں میں تقسیم کا مسئلہ درپیش ہے۔
ادھر کراچی سمیت سندھ کے تمام سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے والی نرسوں کی ہڑتال سے ہزاروں مریض علاج سے محروم ہیں، ایڈیشنل سیکریٹری ہیلتھ سے مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا، یوٹیلیٹی اسٹورز ملازمین بھی مطالبات منوانے کے لیے احتجاج کررہے ہیں،انھوں نے یوٹیلٹی اسٹورز کی نجکاری کے فیصلہ کو مزدوردشمن اقدام قراردیا ہے، کامرس کی ایک رپورٹ کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کی 38400 کی حد بھی گر چکی ہے، سونا فی تولہ 61 ہزار500روپے پربرقرار ہے، ڈالر کی پرواز بند نہیں ہوئی، روپے کے مقابل 19پیسے مہنگا ہوگیا جب کہ گیس اور بجلی کی اب تک کی اضافی قیمتوں سے مہنگائی کا طوفان بھی عوام کے لیے صبر آزما ہے، تجارتی و کاروباری سرگرمیاں سکڑتی جارہی ہیں، اسٹریٹ کرائم بڑھ گئے ہیں۔
عوام حکومت کے ریلیف اور معاشی اقدامات کے جزوی ثمرات سے بھی محروم ہے تاہم ریلوے آمدن ایک سال میں دس ارب کرنے کے دعوے بھی کیے جارہے ہیں، مگر جب تک ٹھوس معاشی پالیسیوں کے ساتھ پیش قدمی نہ ہو، عوام کو مطمئن کرنا آسان نہ ہوگا۔
دوسرا چیلنج جوابدہی کے نظام کی ابتدائی کارروائیاں ہیں ، ملک کو بدعنوانی کے ناسور سے نکالنے کے لیے عدلیہ ، نیپ، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی طرف سے غیر معمولی اقدامات کیے جارہے ہیں، کرپٹ اشرافیہ سرنڈر کرنے پر تیار نہیں، کشمکش تیز ہوئی ہے، معاشرتی اور سیاسی ارتعاش میں اضافہ ہوا ہے، ایک سیاسی ہلچل مچی ہے ، اپوزیشن نے پورے احتسابی نظام پر سوالات کھڑے کردیے ہیں جب کہ حکومت اور انصاف پر مامور اداروں نے قانون کی حکمرانی پر عمل درآمد کے لیے ہر قسم کی مزاحمت اور بلیک میلنگ کا سامنا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ کرپٹ عناصر کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لیے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے کریک ڈاؤن کا ثمر قوم کو کب ملے گا۔
ایک خبر کے مطابق سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی سربراہ احسان صادق نے دوسری پیشرفت رپورٹ جمع کرا دی جس میں انکشاف کیا گیا کہ ایسے اکاؤنٹس سے مجموعی طور پر101ارب روپے کا ہیرپھیر ہوا، تحقیقات کے دوران بہت بڑا فراڈ سامنے آیا ہے، کل47ارب روپے عام افراد جب کہ54ارب سے زائد رقوم کمپنیوں کے اکاؤنٹس میں ڈالی گئی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ چوروں نے ایسے اکاؤنٹس میں پیسہ رکھا تونہیں ہوگا، چور مرجائیں گے لیکن ایک پیسہ نہیں دیں گے ، کیا آپ اس معاملے کی تہہ تک جا کر بینیفشریز تک پہنچ جائیں گے تو جے آئی ٹی کے سربراہ نے کہا کہ ہم مسلسل کوشش کررہے ہیں اورتوقع ہے کہ فائدہ اٹھانے والوں تک پہنچ جائیں گے۔
ادھر قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان واحد ملک ہے جس کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں مسلسل کمی آ رہی ہے، ایک حالیہ سروے رپورٹ کے مطابق59فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں جب کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے تحقیقاتی تجزیہ کاروںکو عدالتوں و قانونی فورمز پر زیر سماعت کیسزکے ممکنہ فیصلوں کی پیش گوئی کرنے سے باز رہنے کی ہدایات جاری کیں اور زور دیا کہ عدالتوں میں زیر التوا معاملات کے ممکنہ نتائج کی بنیاد پرافواہیں نہ پھیلائی جائیں۔
یہ ایک صائب مشورہ ہے ، جن معاملات کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے اس پر میڈیا ٹرائل کی قطعی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، بہر کیف سماجی اور معاشی صورتحال کوکنٹرول کرنے کی حکومتی کوششیں جاری رہنی چاہئیں ، عوام کو آسودگی حاصل ہو اور وہ نظر بھی آئے۔
ادھر اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں بجلی کے واجبات وصولی میں بہتری تک بجلی کی قیمت نہ بڑھانے کا اہم فیصلہ بھی کیا گیا ، بتایا گیا کہ بجلی کی ترسیل و تقسیم کو بہتر بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر ٹیکنالوجی کے استعمال کو بروئے کارلایا جا رہا ہے تاکہ جہاں ترسیلی نظام کو بہتر بنایا جا سکے وہاں تقسیم اور چوری جیسے مسائل کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نے بجلی کے شعبے کی صورتحال کا ایک عمومی جائزہ لیتے ہوئے چند بنیادی مسائل کی نشاندہی کی ہے لیکن اگر حکومت کے قیام سے لے کر اس کے 100 دن کے پروگرام میں پیش رفت پر نظر ڈالی جائے تو مسائل کا ایک طلسم ہوشربا عام آدمی کے ذہن پر ہتھوڑے کی طرح برسنے لگتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چیلنجز ، مسائل اور مشکلا ت کے سارے باب کھل گئے ہیں، ایک طرف ملکی معیشت کو جلدی سے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔
حکومت نے تسلیم کرلیا کہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں،دوسری جانب زندگی کے مختلف شعبوں کی طرف سے مطالبات کا شور ہے،آئل ٹینکرز کی ہڑتال میں نمایندہ تنظیموں میں تقسیم کا مسئلہ درپیش ہے۔
ادھر کراچی سمیت سندھ کے تمام سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے والی نرسوں کی ہڑتال سے ہزاروں مریض علاج سے محروم ہیں، ایڈیشنل سیکریٹری ہیلتھ سے مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا، یوٹیلیٹی اسٹورز ملازمین بھی مطالبات منوانے کے لیے احتجاج کررہے ہیں،انھوں نے یوٹیلٹی اسٹورز کی نجکاری کے فیصلہ کو مزدوردشمن اقدام قراردیا ہے، کامرس کی ایک رپورٹ کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کی 38400 کی حد بھی گر چکی ہے، سونا فی تولہ 61 ہزار500روپے پربرقرار ہے، ڈالر کی پرواز بند نہیں ہوئی، روپے کے مقابل 19پیسے مہنگا ہوگیا جب کہ گیس اور بجلی کی اب تک کی اضافی قیمتوں سے مہنگائی کا طوفان بھی عوام کے لیے صبر آزما ہے، تجارتی و کاروباری سرگرمیاں سکڑتی جارہی ہیں، اسٹریٹ کرائم بڑھ گئے ہیں۔
عوام حکومت کے ریلیف اور معاشی اقدامات کے جزوی ثمرات سے بھی محروم ہے تاہم ریلوے آمدن ایک سال میں دس ارب کرنے کے دعوے بھی کیے جارہے ہیں، مگر جب تک ٹھوس معاشی پالیسیوں کے ساتھ پیش قدمی نہ ہو، عوام کو مطمئن کرنا آسان نہ ہوگا۔
دوسرا چیلنج جوابدہی کے نظام کی ابتدائی کارروائیاں ہیں ، ملک کو بدعنوانی کے ناسور سے نکالنے کے لیے عدلیہ ، نیپ، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی طرف سے غیر معمولی اقدامات کیے جارہے ہیں، کرپٹ اشرافیہ سرنڈر کرنے پر تیار نہیں، کشمکش تیز ہوئی ہے، معاشرتی اور سیاسی ارتعاش میں اضافہ ہوا ہے، ایک سیاسی ہلچل مچی ہے ، اپوزیشن نے پورے احتسابی نظام پر سوالات کھڑے کردیے ہیں جب کہ حکومت اور انصاف پر مامور اداروں نے قانون کی حکمرانی پر عمل درآمد کے لیے ہر قسم کی مزاحمت اور بلیک میلنگ کا سامنا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ کرپٹ عناصر کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لیے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے کریک ڈاؤن کا ثمر قوم کو کب ملے گا۔
ایک خبر کے مطابق سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی سربراہ احسان صادق نے دوسری پیشرفت رپورٹ جمع کرا دی جس میں انکشاف کیا گیا کہ ایسے اکاؤنٹس سے مجموعی طور پر101ارب روپے کا ہیرپھیر ہوا، تحقیقات کے دوران بہت بڑا فراڈ سامنے آیا ہے، کل47ارب روپے عام افراد جب کہ54ارب سے زائد رقوم کمپنیوں کے اکاؤنٹس میں ڈالی گئی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ چوروں نے ایسے اکاؤنٹس میں پیسہ رکھا تونہیں ہوگا، چور مرجائیں گے لیکن ایک پیسہ نہیں دیں گے ، کیا آپ اس معاملے کی تہہ تک جا کر بینیفشریز تک پہنچ جائیں گے تو جے آئی ٹی کے سربراہ نے کہا کہ ہم مسلسل کوشش کررہے ہیں اورتوقع ہے کہ فائدہ اٹھانے والوں تک پہنچ جائیں گے۔
ادھر قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان واحد ملک ہے جس کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں مسلسل کمی آ رہی ہے، ایک حالیہ سروے رپورٹ کے مطابق59فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں جب کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے تحقیقاتی تجزیہ کاروںکو عدالتوں و قانونی فورمز پر زیر سماعت کیسزکے ممکنہ فیصلوں کی پیش گوئی کرنے سے باز رہنے کی ہدایات جاری کیں اور زور دیا کہ عدالتوں میں زیر التوا معاملات کے ممکنہ نتائج کی بنیاد پرافواہیں نہ پھیلائی جائیں۔
یہ ایک صائب مشورہ ہے ، جن معاملات کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے اس پر میڈیا ٹرائل کی قطعی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، بہر کیف سماجی اور معاشی صورتحال کوکنٹرول کرنے کی حکومتی کوششیں جاری رہنی چاہئیں ، عوام کو آسودگی حاصل ہو اور وہ نظر بھی آئے۔