رکشا ڈرائیور کی دردناک موت لمحہ فکریہ

اٹھائیس سالہ نوجوان نے خود پر تیل چھڑک کر آگ لگا لی کہ روز، روزکی ذلت سے نجات ملے۔

اٹھائیس سالہ نوجوان نے خود پر تیل چھڑک کر آگ لگا لی کہ روز، روزکی ذلت سے نجات ملے۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

کراچی ٹریفک پولیس چوکی کے سامنے خود پر مٹی کا تیل چھڑک کرآگ لگانے والا رکشا ڈرائیور دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

متوفی نے اپنے نزاعی بیان میں کہا تھا کہ ٹریفک پولیس اہلکار نے اس سے پیسے طلب کیے اور رقم نہ دینے پر چالان کردیا تھا۔متوفی کی تدفین کے بعد عزیزواقارب،علاقہ مکینوں اور رکشا ڈرائیوروں نے ٹریفک پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا۔


کراچی پولیس چیف کے مطابق گزشتہ دوسال کے دوران ٹریفک پولیس نے متوفی نوجوان کا اٹھارہ مرتبہ چالان کرچکی تھی ۔ یہ درد انگیزواقعہ اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ ٹریفک پولیس اہلکار وردی پہننے کے بعد خودکو قانون سے بالاتر مخلوق سمجھتے ہیں اور بے دھڑک اور بے دریغ ' کمائی' میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔ ان کا آسان شکار غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے موٹرسائیکل سوار اور رکشا ڈرائیورز ہوتے ہیں۔

ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے سبب اب رکشا چلانا ایک مجبوری بن چکا ہے۔ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد روزانہ کرائے پر یا قسطوں پر رکشا چلا کر اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالتے ہیں، لیکن ٹریفک پولیس کی رشوت طلبی اور چالان کاٹنے کی علت سے ان کی عزت نفس مجروع ہوتی ہے ۔ اسی لیے اٹھائیس سالہ نوجوان نے خود پر تیل چھڑک کر آگ لگا لی کہ روز، روزکی ذلت سے نجات ملے۔

یہ ایک ایسا المیہ ہے جس پر سول سوسائٹی، حکومت اور متعلقہ محکمے کو سر جوڑکر بیٹھنا چاہیے تاکہ غریب محنت کش کو جینے کا حق ملے سکے اور قانون کی پاسداری کا لوگوں میں شعور بھی اجاگر ہو۔
Load Next Story