بجٹ میں غریبوں کیلیے کچھ بھی نہیں جگاٹیکس لگایا گیا اپوزیشن

بجٹ صرف امیروں کیلیے ہے، ہم نے مہنگائی کی شرح 24سے 9فیصد کی تھی، تنخواہیں130فیصد بڑھائیں، خورشیدشاہ۔

پٹرولیم لیوی غنڈا ٹیکس ہے، جی ایس ٹی منسوخ کیاجائے، شاہ محمود،پی پی نے تنخواہیں بڑھائی تو مہنگائی بھی کئی گنا بڑھی۔ فوٹو: فائل

لاہور:
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پٹرولیم اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کا ایسا جگا ٹیکس ہے جو جگوں نے بھی نہیں لگایا ، بجٹ صرف امیروں کیلیے ہے۔

غریب ، کسان اور مزدور کا نام ہی نہیں لیا گیا، ہم نے مہنگائی کو 24 فیصد سے کم کر کے 9 فیصد کیا ، (ن) لیگ نے جی ایس ٹی کی شرح بڑھا کر پھر 15 فیصد کر دیا ، ریلوے، پی آئی اے اور سٹیل ملز سمیت کسی قومی ادارے کی نجکاری نہ کی جائے ، اس سے بیروزگاری بڑھے گی، ہم نے میثاق جمہوریت پر 85 فیصد عملدر آمد کیا باقی 15فیصد پر (ن) لیگ کرے ۔ پیر کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایک بھی وزیر خزانہ ایسا نہیں آیا کہ اقتدار ملنے کے بعد اس نے کہا ہو کہ خزانہ بھرا ہوا ہے،اگر وہ ایسا کہ دے تو قیامت برپا ہو جائے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ جب 2008 میں بھی وزیر خزانہ تھے تواس وقت بھی آپ نے کہاتھا کہ خزانہ خالی ہے لیکن ہم نے آپ کو ڈیلیور کر کے دکھایا اور آج لوگ آپ کی حکومت کے بعد ہمیں دعائیں دیتے اور یاد کرتے ہیں کہ وہ دور اچھا تھا، ہم نے خزانہ خالی ہونے کے باوجود 5 سالوں میں 130فیصد تنخواہیں بڑھائیں ، بجلی کی مد میں 14 سو ارب روپے سبسڈی دے کر بھی غریب کے منہ سے نوالہ نہیں چھینا، رہائشی کالونیاں بنانے کی بات مذاق ہے ، آپ 150 سال تک بھی پیسے دیتے رہیں تو یہ کالونیاں نہیں بنیں گی، پیپلز پارٹی کی کاوشوں کی بدولت توانائی بحران میں جلد 20 سے 25 فیصد کمی آ جائے گی اور 2015تک گیس کے معاملے میں خودکفیل ہو جائیں گے، غریب کو ریلیف دینا ہے تو یوٹیلٹی اسٹورز کا پیسہ بڑھائیں۔




خورشید شاہ نے کہا کہ عدلیہ ہر چیز پر سوموٹو نوٹس لیتی ہے لیکن بجلی نہ ہونے پر ازخود نوٹس کیوں نہیں لیا گیا۔ این این آئی کے مطابق سید خورشید نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے بے نظیر کا نام نہیں لیا تو پیپلز پارٹی کے ا رکان نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ بجٹ روایتی ہے، عوام کی امیدوں کوچکنا چور کیا گیا ، ایک بار پھر متوسط طبقے پر ٹیکس کا بوجھ ڈالا گیا اور جاگیرداروں کو مراعات دی گئیں، جھوٹے دعوے کر کے لوگوں کو دھوکا دیا گیا ۔ ایم کیو ایم کے شیڈو بجٹ کی کاپی لہراتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس میں بجٹ کو بہتر کرنے کی تجاویز موجود ہیں، پٹرولیم لیوی غنڈا ٹیکس ہے ، ہم فوج کو کہیں گے کہ وہ بھی دفاعی بجٹ میں 50 فیصد کمی کرے تاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پایا جا سکے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی کانوٹیفیکیشن منسوخ کیا جائے، ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ بجلی کے ٹیرف میں اضافے سے عوام پر مزید بوجھ بڑھے گا اور ایمانداری سے بل ادا کرنے والے صارفین متاثر ہونگے۔ جماعت اسلامی کے رکن طارق اللہ نے کہا کہ جی ایس ٹی کا نفاذ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ہے۔ وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے مایوس کن اقتصادی انڈی کیٹرز کے باوجود جو بجٹ پیش کیا وہ قابل تحسین ہے، ،پیپلزپارٹی نے اگر تنخواہوں میں اضافہ کیا تو مہنگائی بھی انتہا درجے کی گئی۔ قبل ازیں تحریک انصاف کے ارکان شاہ محمود قریشی کو نکتہ اعتراض پر بولنے کی اجازت نہ دینے پر واک آئوٹ کرگئے، جماعت اسلامی کے ارکان نے بھی جی ایس ٹی کے نفاذ پر واک آئوٹ کیا تاہم اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے منانے پر واپس ایوان میں آگئے۔

بعدازاں اجلاس آج (اتوار) صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ دریں اثناء سینٹ کے چیئرمین نے بجٹ تجاویز کے تحت مختلف ٹیکسوں میں اضافہ کا معاملہ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے سپرد کر دیا۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافے کی تجویز کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اوگرا کا اقدام آرٹیکل 71 کیخلاف اور پارلیمنٹ کے اختیارات سے تجاوزہے۔ دریں اثناء جے یوآئی کے ارکان نے بلوچستان میں کابینہ کی تشکیل میں تاخیر اور ایم کیوایم کے ارکان نے کراچی میں اپنے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ پر آئوٹ کیا۔
Load Next Story