بجلی کی قیمتوں میں اضافہ
حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ شدید معاشی بحران کے باوجود حکومت نے غریب اور مڈل کلاس طبقے پر بوجھ نہیں ڈالا۔
حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ شدید معاشی بحران کے باوجود حکومت نے غریب اور مڈل کلاس طبقے پر بوجھ نہیں ڈالا۔ فوٹو: فائل
نئی حکومت کے آتے ہی بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ، اس کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹ اور دیگر تمام اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا، اس کی وجہ سے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو چند نشستوں پر شکست بھی ہوئی۔
اب کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بجلی کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد تک اضافے کی اصولی منظوری دے دی ہے تاہم 300 یونٹ تک ماہانہ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بجلی مہنگی نہیں ہو گی، اس کے علاوہ زرعی صارفین کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ ان کو 10روپے 50 پیسے میں سے 5 روپے 50 پیسے فی یونٹ سبسڈی دی جائے گی۔
اس اضافے کی حتمی منظوری کے لیے سمری وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی گئی جس نے اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ حکومتی دعوے کے مطابق امیر طبقے کے لیے بجلی زیادہ مہنگی ہو گی۔
حکومتی اعلامیہ کے مطابق چھوٹے اور درمیانے طبقے کے کمرشل صارفین کے لیے بھی بجلی کے ٹیرف میں اضافہ نہیں کیا گیا جب کہ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 78 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا اور 3 روپے فی یونٹ سبسڈی برقرار رکھی گئی ہے۔ حکومت نے برآمدات کے شعبے کے لیے بجلی کی قیمت ساڑھے سات سینیٹ فی یونٹ تک رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے جب کہ اسکولوں اور اسپتالوں کے لیے بجلی کی قیمت نہیں بڑھائی گئی۔
حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ شدید معاشی بحران کے باوجود حکومت نے غریب اور مڈل کلاس طبقے پر بوجھ نہیں ڈالا۔ بجلی کے نرخوں میں جو اضافہ یا ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے' اسے جس طرح تہہ در تہہ بنایا گیا ہے' اس سے فوری یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ بڑھے ہیں' اس کے علاوہ ان صارفین کے لیے بھی بجلی کے نرخ بڑھے ہیں جو 3 سو یونٹ سے زائد بجلی استعمال کریں گے' حکومت کی مالی مشکلات کا اندازہ سب کو ہے۔
ان مشکلات پر قابو پانے کے لیے حکومت دوست ممالک سے قرض لینے پر مجبور ہے' ملکی ذرائع سے سب سے آسان طریقہ یوٹیلٹی بلز میں اضافہ کر کے ریونیو اکٹھا کرنا ہے' معاشی اصول کے مطابق جو ملک توانائی کے ذرایع کو سستا رکھتا ہے، وہاں مینوفیکچرنگ اور کاروباری سرگرمیاں بڑھتی ہیں' بہرحال ان مشکل ترین حالات میں حکومت نے بجلی کے بلوں میں نچلے طبقوں پر کم بوجھ ڈالنے کی جو کوشش کی ہے' وہ درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔
اب کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بجلی کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد تک اضافے کی اصولی منظوری دے دی ہے تاہم 300 یونٹ تک ماہانہ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بجلی مہنگی نہیں ہو گی، اس کے علاوہ زرعی صارفین کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ ان کو 10روپے 50 پیسے میں سے 5 روپے 50 پیسے فی یونٹ سبسڈی دی جائے گی۔
اس اضافے کی حتمی منظوری کے لیے سمری وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی گئی جس نے اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ حکومتی دعوے کے مطابق امیر طبقے کے لیے بجلی زیادہ مہنگی ہو گی۔
حکومتی اعلامیہ کے مطابق چھوٹے اور درمیانے طبقے کے کمرشل صارفین کے لیے بھی بجلی کے ٹیرف میں اضافہ نہیں کیا گیا جب کہ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 78 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا اور 3 روپے فی یونٹ سبسڈی برقرار رکھی گئی ہے۔ حکومت نے برآمدات کے شعبے کے لیے بجلی کی قیمت ساڑھے سات سینیٹ فی یونٹ تک رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے جب کہ اسکولوں اور اسپتالوں کے لیے بجلی کی قیمت نہیں بڑھائی گئی۔
حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ شدید معاشی بحران کے باوجود حکومت نے غریب اور مڈل کلاس طبقے پر بوجھ نہیں ڈالا۔ بجلی کے نرخوں میں جو اضافہ یا ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے' اسے جس طرح تہہ در تہہ بنایا گیا ہے' اس سے فوری یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ بڑھے ہیں' اس کے علاوہ ان صارفین کے لیے بھی بجلی کے نرخ بڑھے ہیں جو 3 سو یونٹ سے زائد بجلی استعمال کریں گے' حکومت کی مالی مشکلات کا اندازہ سب کو ہے۔
ان مشکلات پر قابو پانے کے لیے حکومت دوست ممالک سے قرض لینے پر مجبور ہے' ملکی ذرائع سے سب سے آسان طریقہ یوٹیلٹی بلز میں اضافہ کر کے ریونیو اکٹھا کرنا ہے' معاشی اصول کے مطابق جو ملک توانائی کے ذرایع کو سستا رکھتا ہے، وہاں مینوفیکچرنگ اور کاروباری سرگرمیاں بڑھتی ہیں' بہرحال ان مشکل ترین حالات میں حکومت نے بجلی کے بلوں میں نچلے طبقوں پر کم بوجھ ڈالنے کی جو کوشش کی ہے' وہ درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔