ڈھاکا لیگ ٹاپ بنگلہ دیشی کرکٹرز کے بائیکاٹ کی دھمکی
پلیئرز ٹرانسفر سسٹم میں بورڈ کی پیش کردہ تجاویز پر کرکٹرز ایسوسی ایشن ناخوش۔
پلیئرز ٹرانسفر سسٹم میں بورڈ کی پیش کردہ تجاویز پر کرکٹرز ایسوسی ایشن ناخوش۔ فوٹو: اے ایف پی / فائل
MOHALI:
بنگلہ دیش کے ٹاپ کرکٹرز نے پلیئرز ٹرانسفر سسٹم میںبورڈ کی مجوزہ تبدیلیوں کے بعد شرکت ڈھاکا پریمیئر لیگ کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔
ایونٹ شہروں پر مشتمل ٹیموں کے درمیان کھیلا جانے والا ون ڈے ٹورنامنٹ ہے، جسے ملک گیر شہرت حاصل ہے، اس فیصلے کا اعلان پیر کی صبح کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش نے کھلاڑیوں سے طویل مشاورت کے بعد کیا، انھوں نے بنگلہ دیش بورڈ کی جانب سے اس معاملے پر رابطے کے فقدان کی بھی شکایت کی، اتوار کو بی سی بی نے پلیئرز کے ٹرانسفر کا نیا سسٹم پیش کیا تھا، جس کا ڈرافٹ امریکن اسپورٹس سے ملتا جلتا ہے، اس نئے نظام نے 23 جون سے نافذ ہونا ہے جبکہ ایونٹ کا آغاز 3 جولائی کو شیڈول ہے۔
سابق کرکٹر راجن صالح نے کرکٹرز ایسوسی ایشن کا بیان پڑھ کر میڈیا کو سنایا، ایسوسی ایشن کے سیکریٹری دیباباراتا نے الزام عائد کیا کہ ڈھاکا میٹرو پولس کی کرکٹ کمیٹی کو اپنے مشاہدات سے آگاہ کیا تھا لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا، ہمیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ وہ گریڈیشن اور روٹیشن پالیسی شروع کریں گے، لہذا ہم نے پلیئرز سے بات چیت کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس صورتحال میں وہ خود کو ایونٹ سے دور رکھیں گے۔
پرانے سسٹم میں پلیئرز صرف ایک سیزن کیلیے ڈھاکا میں قائم کلبز سے معاملات طے کرتے تھے لیکن بورڈ کے تجویز کردہ نئے نظام میں پلیئرز کو کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں اے پلس گروپ پلیئرز کیلیے معاوضوں کی شروعات 22 لاکھ ٹکا سے شروع ہوگی، لاٹری کے ذریعے فیصلہ کیا جائیگا کہ کون سا کلب پہلے ٹاپ کیٹیگری سے پلیئرز حاصل کرپائے گا۔
اسی طرح تمام 12 کلبز مختلف کیٹیگریز سے پلیئرز کی خدمات لے پائیں گے، نئے نظام میں پلیئرز کے کلبز منتخب کرنے کی آزادی کو سلب کرلیا گیا ہے، تاہم اس معاملے پر بی سی بی کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، کپتان مشفیق الرحیم اور محمود اللہ سمیت بورڈ کے زیر معاہدہ کئی کرکٹرز ممکنہ طور پر اس کی مخالفت کرینگے۔
بنگلہ دیش کے ٹاپ کرکٹرز نے پلیئرز ٹرانسفر سسٹم میںبورڈ کی مجوزہ تبدیلیوں کے بعد شرکت ڈھاکا پریمیئر لیگ کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔
ایونٹ شہروں پر مشتمل ٹیموں کے درمیان کھیلا جانے والا ون ڈے ٹورنامنٹ ہے، جسے ملک گیر شہرت حاصل ہے، اس فیصلے کا اعلان پیر کی صبح کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش نے کھلاڑیوں سے طویل مشاورت کے بعد کیا، انھوں نے بنگلہ دیش بورڈ کی جانب سے اس معاملے پر رابطے کے فقدان کی بھی شکایت کی، اتوار کو بی سی بی نے پلیئرز کے ٹرانسفر کا نیا سسٹم پیش کیا تھا، جس کا ڈرافٹ امریکن اسپورٹس سے ملتا جلتا ہے، اس نئے نظام نے 23 جون سے نافذ ہونا ہے جبکہ ایونٹ کا آغاز 3 جولائی کو شیڈول ہے۔
سابق کرکٹر راجن صالح نے کرکٹرز ایسوسی ایشن کا بیان پڑھ کر میڈیا کو سنایا، ایسوسی ایشن کے سیکریٹری دیباباراتا نے الزام عائد کیا کہ ڈھاکا میٹرو پولس کی کرکٹ کمیٹی کو اپنے مشاہدات سے آگاہ کیا تھا لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا، ہمیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ وہ گریڈیشن اور روٹیشن پالیسی شروع کریں گے، لہذا ہم نے پلیئرز سے بات چیت کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس صورتحال میں وہ خود کو ایونٹ سے دور رکھیں گے۔
پرانے سسٹم میں پلیئرز صرف ایک سیزن کیلیے ڈھاکا میں قائم کلبز سے معاملات طے کرتے تھے لیکن بورڈ کے تجویز کردہ نئے نظام میں پلیئرز کو کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں اے پلس گروپ پلیئرز کیلیے معاوضوں کی شروعات 22 لاکھ ٹکا سے شروع ہوگی، لاٹری کے ذریعے فیصلہ کیا جائیگا کہ کون سا کلب پہلے ٹاپ کیٹیگری سے پلیئرز حاصل کرپائے گا۔
اسی طرح تمام 12 کلبز مختلف کیٹیگریز سے پلیئرز کی خدمات لے پائیں گے، نئے نظام میں پلیئرز کے کلبز منتخب کرنے کی آزادی کو سلب کرلیا گیا ہے، تاہم اس معاملے پر بی سی بی کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، کپتان مشفیق الرحیم اور محمود اللہ سمیت بورڈ کے زیر معاہدہ کئی کرکٹرز ممکنہ طور پر اس کی مخالفت کرینگے۔