پنجاب کا مثبت بجٹ
پنجاب حکومت نے آیندہ مالی سال 2013-14 کے لیے897 ارب 56کروڑ 93لاکھ 11ہزار روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے.
پنجاب حکومت نے آیندہ مالی سال 2013-14 کے لیے897 ارب 56کروڑ 93لاکھ 11ہزار روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ فوٹو: آئی این پی
پنجاب حکومت نے آیندہ مالی سال 2013-14 کے لیے897 ارب 56کروڑ 93لاکھ 11ہزار روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں 30ارب روپے خسارہ ہے۔ اپنے اہداف اور ترجیحات کے حوالے سے اسے ایک مثبت اور ترقی دوست بجٹ کہہ سکتے ہیں۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10فیصد اضافہ کیا گیا ہے، مزدور کی کم از کم اجرت نو ہزار سے بڑھا کر10ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ ہائوس کے اخراجات میں 30 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔
2 کنال سے بڑے گھروں پر لگژری ٹیکس کے نفاذ کی تجویز دی گئی ہے۔ سستے آٹے کی سبسڈی کے لیے28 ارب اور رمضان میں سستی اشیاء کے لیے 5 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ پراپرٹی کی فروخت پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ زراعت کے لیے 5 ارب، سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 275 ارب، تعلیم کی مد میں 33 ارب، فروغ تعلیم کے لیے 2 ارب، پولیس کے لیے 77 ارب، صحت کے لیے 21 ارب، سماجی شعبوں کے لیے 90 ارب، 100 کمپیوٹر لیبز کے لیے ایک ارب 50 کروڑ، دیہی خواتین کے لیے 50 کروڑ، دانش اسکولوں کی تعمیر کے لیے 3 ارب، مستحق طلباء کی امداد کے لیے 2 ارب، درسی کتب کی مفت فراہمی کے لیے 3 ارب 30 کروڑ، بائیو گیس اور شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے لیے ساڑھے سات ارب، طلباء کے لیے سولر لیمپ اسکیم کے لیے ایک ارب اور لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
پنجاب ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تحت دو ہزار فلیٹس تعمیر کرنے کے لیے 6ارب روپے، انٹرن شپ پروگرام کے لیے ایک ارب 50 کروڑ، جنوبی پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 93ارب روپے۔ وزراء اور سرکاری دفاتر کے اخراجات میں 15سے 30فیصد تک کمی لائی جائے گی۔ رحیم یار خان، وہاڑی اور بھلوال میں انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کے لیے 3ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بجٹ میں لگژری گاڑیوں، تفریحی تقریبات، فیشن شوز، میوزک شوز پر بھی ٹیکس لگایا گیا ہے، گھڑ دوڑ کے داخلہ ٹکٹ پر 200فیصد ٹیکس، فیشن اور میوزیکل شوز پر 20فیصدٹیکس وصول کیا جائے گا جب کہ سرکس کو ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
پنجاب کے بجٹ میں وزراء کی صوابدیدی گرانٹ ختم کر دی گئی ہے۔پنجاب حکومت نے مشکل حالات میں مثبت بجٹ پیش کیا ہے۔ بڑے بنگلوں پر ٹیکس لگانا اچھا اقدام ہے' امیر اور طاقتور طبقوں کو جب تک ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جاتا' اس وقت تک مالی معاملات کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی طرح تعلیم کی ترقی کے لیے اچھے اور قابل عمل اہداف مقرر کیے گئے ہیں' جائیداد کی فروخت پر کیپٹل گین ٹیکس سے بھی اچھا خاصا ریونیو حاصل ہو گا۔ بہر حال پنجاب کے بجٹ کو متوازن بجٹ ہی کہا جائے گا اور اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بجٹ میں دیے گئے اہداف کو عملی جامع پہنایا جائے۔
2 کنال سے بڑے گھروں پر لگژری ٹیکس کے نفاذ کی تجویز دی گئی ہے۔ سستے آٹے کی سبسڈی کے لیے28 ارب اور رمضان میں سستی اشیاء کے لیے 5 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ پراپرٹی کی فروخت پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ زراعت کے لیے 5 ارب، سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 275 ارب، تعلیم کی مد میں 33 ارب، فروغ تعلیم کے لیے 2 ارب، پولیس کے لیے 77 ارب، صحت کے لیے 21 ارب، سماجی شعبوں کے لیے 90 ارب، 100 کمپیوٹر لیبز کے لیے ایک ارب 50 کروڑ، دیہی خواتین کے لیے 50 کروڑ، دانش اسکولوں کی تعمیر کے لیے 3 ارب، مستحق طلباء کی امداد کے لیے 2 ارب، درسی کتب کی مفت فراہمی کے لیے 3 ارب 30 کروڑ، بائیو گیس اور شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے لیے ساڑھے سات ارب، طلباء کے لیے سولر لیمپ اسکیم کے لیے ایک ارب اور لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
پنجاب ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تحت دو ہزار فلیٹس تعمیر کرنے کے لیے 6ارب روپے، انٹرن شپ پروگرام کے لیے ایک ارب 50 کروڑ، جنوبی پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 93ارب روپے۔ وزراء اور سرکاری دفاتر کے اخراجات میں 15سے 30فیصد تک کمی لائی جائے گی۔ رحیم یار خان، وہاڑی اور بھلوال میں انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کے لیے 3ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بجٹ میں لگژری گاڑیوں، تفریحی تقریبات، فیشن شوز، میوزک شوز پر بھی ٹیکس لگایا گیا ہے، گھڑ دوڑ کے داخلہ ٹکٹ پر 200فیصد ٹیکس، فیشن اور میوزیکل شوز پر 20فیصدٹیکس وصول کیا جائے گا جب کہ سرکس کو ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
پنجاب کے بجٹ میں وزراء کی صوابدیدی گرانٹ ختم کر دی گئی ہے۔پنجاب حکومت نے مشکل حالات میں مثبت بجٹ پیش کیا ہے۔ بڑے بنگلوں پر ٹیکس لگانا اچھا اقدام ہے' امیر اور طاقتور طبقوں کو جب تک ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جاتا' اس وقت تک مالی معاملات کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی طرح تعلیم کی ترقی کے لیے اچھے اور قابل عمل اہداف مقرر کیے گئے ہیں' جائیداد کی فروخت پر کیپٹل گین ٹیکس سے بھی اچھا خاصا ریونیو حاصل ہو گا۔ بہر حال پنجاب کے بجٹ کو متوازن بجٹ ہی کہا جائے گا اور اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بجٹ میں دیے گئے اہداف کو عملی جامع پہنایا جائے۔