آئی ایم ایف کو ادائیگیوں کیلیے وافر زرمبادلہ ذخائر ہیں گورنر ایس بی پی

پاکستان کو بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کرنا ہونگی

پاکستان کو بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کرنا ہونگی۔ فوٹو: فائل

گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان یاسین انور نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قرضوں کی واپسی کے لیے زرمبادلہ کے قابل قدر ذخائر موجود ہیں۔

یورپ میں مالیاتی بحران سے پاکستان کی معیشت متاثر نہیں ہوئی، غیر ملکی سرمایہ کار یورپ کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایشیائی ممالک کی ترقی پذیر مارکیٹوں کا رخ کر سکتے ہیں، پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ وہ منگل کو ''سارک فنانس گورنرز سمپوزیم'' کے شرکا سے خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر احتشام احمد نے بھی خطاب کیا۔




یاسین انور نے یورپ میں قرضوں کے بحران اور اس کے جنوبی ایشیائی معیشتوں پر اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خوش قسمتی سے اس بحران کے اثرات ہمارے خطے پر نہ ہونے کے برابر ہیں، موجودہ صورتحال میں براعظم یورپ کے لیے ہماری اشیا اور خدمات کی طلب میں اضافہ نہیں ہوگا، سرمایہ کار یورپ سے باہر دیکھنے لگے ہیں وہ ہمارے خطے میں دلچسپی لے سکتے ہیں، ہمارے پاس ان کے لیے محفوظ سرمایہ کاری اور زائد شرح منافع کے مواقع موجود ہیں تاہم پاکستان کے معاملہ میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی فوری ضرورت ہے تاکہ ہم یورپ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی پوزیشن میں آ سکیں۔

یورپ میں مستقل بحران کی وجہ سے ہمارے کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس پر ممکنہ اثرات باعث تشویش ہو سکتے ہیں تاہم ہماری زیادہ تر تجارت ایشیا کی ممالک کے ساتھ ہے اس لیے یورپ میں ہماری مصنوعات کی طلب میں کمی کے باوجود ہماری برآمدات زیادہ متاثر نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے زیادہ تر قرضے عالمی مارکیٹوں کے بجائے بین الاقوامی قرض دہندگان سے حاصل کیے ہیں، اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ آئی ایم ایف کو قرضوں کی واپسی ہے تاہم ہمارے پاس آئی ایم ایف کے قرضے واپس کرنے کیلیے زرمبادلہ کے کافی سے زائد ذخائر موجود ہیں۔
Load Next Story