جناح اور لیاقت اسپتال جامشورومیں بدترین بد انتظامی جاری

دونوں اسپتالوں میں عدالتی حکم امتناع کی آڑ میں افسران بدنظمی پھیلارہے ہیں.

دونوں اسپتالوں میں عدالتی حکم امتناع کی آڑ میں افسران بدنظمی پھیلارہے ہیں. فوٹو: فائل

صوبے میں محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے 2 اسپتال ایسے ہیں جو محکمے کے انتظامی کنٹرول میں نہیں آتے جس کی وجہ سے ان اسپتالوں کے انتظامی معاملات ٹھپ اور مسائل ہولناک صورت اختیار کرتے جارہے ہیں ۔

ان اسپتالوں میں جناح اسپتال کراچی اور لیاقت یونیورسٹی اسپتال جامشورو شامل ہیں ، 2سال سے اس حکم امتناع کی آڑ میں محکمہ صحت اور حکومت سندھ کو اسپتال میں مداخلت سے روک دیا گیاہے جبکہ افسران بدنظمی پھیلارہے ہیں ، اسی طرح لیاقت یونیورسٹی اسپتال جامشورو میں بھی 2 ڈاکٹروں میںگزشتہ8 ماہ سے جاری سرد جنگ نے اسپتال کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ، لیاقت یونیورسٹی ا سپتال میں 3 ماہ قبل ڈاکٹر کاظم رضا کو ایم ایس کی ذمے داریاں سونپی گئی تھیں لیکن ان کے ہم عصر ڈاکٹرخالد قریشی نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکارکیا اور وہ اس فیصلے کے خلاف حیدرآباد ہائیکورٹ چلے گئے۔


کورٹ میں ان کے حق میں فیصلہ دیا گیا ، معزز عدالت کے حکم پر محکمہ صحت نے ڈاکٹرکاظم رضا کوہٹا کر ڈاکٹر خالد قریشی کواسپتال کا ایم ایس بنادیا جس کے بعد ہٹائے جانے والے سا بق ایم ایس ڈاکٹر کاظم رضا نے دوبارہ اس فیصلے خلاف عدالت سے رجوع کیا جس پر عدالت نے ڈاکٹرکاظم رضا کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، باربار عدالت جانے والے ڈاکٹر کاظم رضا کوایک بار پھر عدالت سے ان کی تقرری کے احکامات جاری کیے گئے جس کے بعد وہ حکومت سندھ کے احکامات لیے بغیرکورٹ کے احکامات پر ہی کرسی پر براجمان ہوگئے جب ڈاکٹر کاظم رضا کے حق میں کوئی فیصلہ آتا توان کے مخالفین اسپتال میں ہڑتال کراتے اور جب ڈاکٹر خالدقریشی کے حق میں فیصلہ آتا ہے توان کے مخالفین اسپتال میں ہڑتال کراتے تھے یعنی ایک بحال ہوتا تھا تودوسرا ڈاکٹرہڑتال کراتاتھا ۔



ڈاکٹر کاظم رضا کی مدت ملازمت16جون کومکمل ہوگئی ہے لیکن محکمہ صحت نے 17جون کوایم ایس کا چارج لینے سے متعلق احکامات جاری کردیے گئے جب ان کے مخالف ڈاکٹرخالد قریشی نے توجہ مبذول کرائی کہ ڈاکٹر کاظم رضا ریٹائرڈ ہوگئے تب 17جون کو محکمہ صحت ڈاکٹر خالد قریشی کی تعیناتی کے احکامات جاری کیے گئے اور عدالت نے بھی 17جون کوان کی احکامات پھر منسوخ کیے، 18جون کو اسپتال بغیر ایم ایس کے چل رہا تھا ، ایک گروپ نے ہڑتال کی صوبے کے یہ 2 اسپتال ہیں جہاں محکمہ صحت کی کوئی رٹ نہیں۔
Load Next Story