مردان دھماکے کے شہدا سپردخاک مرنے والوں کی تعداد 44 ہوگئی حملے کیخلاف سینیٹ میں متفقہ قرارداد منظور
دھماکے کا مقدمہ درج کرلیاگیا، تحقیقاتی کمیٹی تشکیل، کئی زخمیوںکی حالت تشویشناک، مارکیٹیںبند، وکلاکاسوگ کااعلان
نوشہرہ میں تھانہ اکوڑہ خٹک پر راکٹ حملہ،ڈیرہ اسماعیل خان میں دستی بم ناکارہ بنادیاگیا، سینیٹ میںشہداکیلیے فاتحہ خوانی۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل
مردان کے علاقے شیرگڑھ خودکش بم دھماکے کے16زخمی دم توڑگئے جس کے بعدشہداکی تعداد44 ہوگئی،جن میں مزید اضافے کاخدشہ ہے۔
درگئی، تخت بھائی، مردان اور پشاورکے اسپتالوںمیں زیرعلاج مریضوںکوفارغ کر دیا گیا جبکہ مردہ خانوں میں لاشوںکی شناخت کی جاتی رہی۔ ادھرایم پی اے عمران خان سمیت دیگرشہداکو بدھ کواپنے آبائی علاقوں میں سپردخاک کر دیا گیا،شہیدہونے والے افرادمیں سے زیادہ تر کا تعلق علاقہ شیرگڑھ، جلالہ، مدے بابا کے علاوہ مالاکنڈ ایجنسی کے مختلف علاقوں سے ہے۔ دریں اثنا تھانہ شیرگڑھ کے ایس ایچ اونے دھماکے کامقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی ۔
جے یوآئی(ف) اور تاجربرادری نے آج بھی عام ہڑتال کااعلان کیا، ہے ،شیرگڑھ بازارمیںدکانداروں اورچھابڑی فروشوں نے اپنی دکانوںاورکیبنوں پرسیاہ جھنڈے لہرائے۔ علاوہ ازیں سینیٹ نے مردان میں ہونیوالے بم دھماکے کے خلاف قراردادمذمت کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔ بدھ کو سینیٹ اجلاس میںقائدایوان سینیٹرراجہ ظفرالحق نے قرار داد پیش کرتے ہوئے اس واقعہ کی مذمت کی اور صوبائی حکومت پرزوردیاکہ وہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
درگئی، تخت بھائی، مردان اور پشاورکے اسپتالوںمیں زیرعلاج مریضوںکوفارغ کر دیا گیا جبکہ مردہ خانوں میں لاشوںکی شناخت کی جاتی رہی۔ ادھرایم پی اے عمران خان سمیت دیگرشہداکو بدھ کواپنے آبائی علاقوں میں سپردخاک کر دیا گیا،شہیدہونے والے افرادمیں سے زیادہ تر کا تعلق علاقہ شیرگڑھ، جلالہ، مدے بابا کے علاوہ مالاکنڈ ایجنسی کے مختلف علاقوں سے ہے۔ دریں اثنا تھانہ شیرگڑھ کے ایس ایچ اونے دھماکے کامقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی ۔
جے یوآئی(ف) اور تاجربرادری نے آج بھی عام ہڑتال کااعلان کیا، ہے ،شیرگڑھ بازارمیںدکانداروں اورچھابڑی فروشوں نے اپنی دکانوںاورکیبنوں پرسیاہ جھنڈے لہرائے۔ علاوہ ازیں سینیٹ نے مردان میں ہونیوالے بم دھماکے کے خلاف قراردادمذمت کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔ بدھ کو سینیٹ اجلاس میںقائدایوان سینیٹرراجہ ظفرالحق نے قرار داد پیش کرتے ہوئے اس واقعہ کی مذمت کی اور صوبائی حکومت پرزوردیاکہ وہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے۔