انسانوں جیسی آواز نکالنے والی سفید وہیل

سفید وہیل کو ٹوٹے پھوٹے لہجے میں اپنی معمول کی آواز سے دھیمے لہجے میں آٹھ سروں میں آواز نکالتے پایا گیا، تحقیق کار

سفید وہیل کو ٹوٹے پھوٹے لہجے میں اپنی معمول کی آواز سے دھیمے لہجے میں آٹھ سروں میں آواز نکالتے پایا گیا، تحقیق کار فوٹو : فائل

ایک اتفاقیہ واقعے میں ایک سفید وہیل کے بارے میں معلوم ہوا ہے جو انسانی آواز سے کافی مماثل آواز نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں ایک سفید وہیل ہے جس کی آواز اور اس کا لہجہ انسانوں کی آواز سے کافی حد تک مماثلت رکھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈولفن کو انسانی بولی میں آواز کی طرز اور اس کے دورانیہ کی نقل سکھائی جاسکتی ہے لیکن کسی بھی دوسرے جانور نے از خود اس طرح کی نقل نہیں کی۔ تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ''این او سی'' نام کی ایک سفید وہیل کو ٹوٹے پھوٹے لہجے میں اپنی معمول کی آواز سے دھیمے لہجے میں آٹھ سروں میں آواز نکالتے پایا گیا۔


تحقیق کرنے والوں نے اس کا انکشاف سائنس کے جریدے ''کرنٹ بائیولوجی'' میں کیا ہے کہ آخر ''این او سی'' نے ایسا کیسے کیا؟ پہلا راز تو یہی جاننا تھا کہ آخر یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے کیونکہ وہیل کو سمندر میں زبردست شور مچانے والے جاندار کے طور پر جانا جاتا ہے اتنا تیز شور کہ کان بہرے ہو جائیں۔وہیل مچھلیوں کے بارے میں انسانی آواز نکالنے کی باتیں تو ہوتی رہی ہیں لیکن کبھی اسے ریکارڈ نہیں کیا جا سکا۔

جب کیلیفورنیا کے نیشنل میرن میمل فاؤنڈیشن کے ایک غوطہ خور نے باہر نکلتے ہوئے یہ پوچھا کہ اسے کس نے باہر نکلنے کے لیے کہا ہے تو تحقیق کاروں کو یہ لگا کہ ان کے ہاتھ ایک اور مثال لگ گئی ہے۔ایک بار جب انھوں نے یہ جان لیا کہ یہ آواز ''این او سی'' نے نکالی ہے تو انھوں نے اس کی پہلی بار ریکارڈنگ کی۔انھوں نے دریافت کیا کہ ان وہیلز کے حلق میں فی سیکنڈ تین بار ارتعاش ہوتا ہے اور ان کے بیچ کا وقفہ انسانی قوت گویائی کے مماثل ہے۔

تحقیق کرنے والوں نے یہ بھی پایا کہ ان میں انسانی آوازوں کی سی ہم آہنگی ہے۔ پھر انھوں نے کسی حکم پر اس سفید وہیل کو بات چیت کے جیسی آواز نکالنے کا طریقہ سکھایا۔ انھوں نے پایا کہ وہ آواز نکالنے کے لیے تیزی کے ساتھ اپنی ناک کے دباؤ میں تبدیلی لاتی ہے لیکن یہ کام اس کے لیے بہت آسان نہیں۔ نیشنل میرن میمل فاؤنڈیشن کے صدر سیم رج وے کا کہنا ہے کہ ان کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ وہیل کو انسانوں جیسی آواز نکالنے کے لیے ان کے صوتی نظام میں ذرا تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جو آواز ہم نے سنی وہ سفید وہیل کی صوتی تعلیم کی مثال ہے۔
Load Next Story