شام کا بحران تا حال جاری ہے

ایک اطلاع کے مطابق اس علاقے پر ان باغی گروپوں کا قبضہ ہے جنھیں امریکی فوج کی امداد حاصل ہے

ایک اطلاع کے مطابق اس علاقے پر ان باغی گروپوں کا قبضہ ہے جنھیں امریکی فوج کی امداد حاصل ہے۔ فوٹو: فائل

شام کا بحران تا حال جاری ہے' ابھی تک اس کا کوئی حتمی حل نہیں نکل سکا' بشار حکومت بھی موجود ہے اور باغی بھی موجود ہیں جب کہ عوام تباہ حال ہو گئے ہیں۔ پورا ملک کھنڈر بن چکا ہے' غربت اور بھوک نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں' کئی علاقے ایسے ہیں جہاں پناہ گزین حالات کے رحم و کرم پر ہیں تاہم یہ خبر خوش آیند ہے کہ اقوام متحدہ کا امدادی قافلہ شام میں رکبان نامی پناہ گزین کیمپ میں پہنچ گیا ہے۔یہ پناہ گزین کیمپ اردن کے ساتھ ملنے والی شامی سرحد پر صحرا میں قائم ہے، جہاں ہزاروںشامی پناہ گزین قیام پذیر ہیں۔ اس دور دراز علاقے میں قائم پناہ گزین کیمپ میںلوگ ابتر حالات سے دوچار ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس امدادی کاروان کا ابتدائی حصہ گزشتہ روز کیمپ میں پہنچ گیا ہے۔ یہ امدادی کاروان انسانی ہمدردی کی بنیادوں پرپناہ گزینوں کی مدد کے لیے لے جانے والا پہلا کاروان ہے جو وہاں داخل ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذرایع کا کہنا ہے کہ یہ امدادی کاروان خوراک، سینی ٹیشن کا سامان اور حفظان صحت کی ادویات لے کر وہاں پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق رکبان کیمپ میں پناہ لینے والوں کی تعداد 50 ہزار نفوس سے زائد ہے۔ یہ علاقہ باغیوں کے کنٹرول میں ہے یہاں امدادی کارروائیوں کے لیے ابتدائی طور پر تین سے چار دن کا وقت لگے گا۔ شامی عرب ہلال احمر بھی اس کاروان میں شامل ہے جو وہاں ایمرجنسی ویکسین مہم بھی چلائے گا یہ ویکسین جو 10 ہزار سے زیادہ بچوں کو دی جائے گی تا کہ وہ میزلز یعنی خسرہ' پولیو اور دیگر وبائی امراض سے محفوظ رہ سکیں۔ اس کا اعلان اقوام متحدہ کے بیان میں کیا گیا ہے۔


اگرچہ یہ مختصر امدادی کارروائی بھی اہم تھی لیکن اصل مرحلہ بڑے پیمانے پر کارروائی کرنے کا ہے کیونکہ یہاں امدادی کیمپوں میں بہت بھاری تعداد میں پناہ گزین مقیم ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ شام کے بحران میں 5 لاکھ سے زائد شامی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ یہ بحران 2011ء میں شروع ہوا تھا۔ ملک کی تقریباً نصف آبادی جنگ کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑ گئی ہے۔ رکبان پناہ گزین کیمپ امریکا کے فوجی اڈے کے قریب ہے۔ اس کیمپ پر گزشتہ ماہ شامی فوج نے قبضہ کر لیا تھا۔

ایک اطلاع کے مطابق اس علاقے پر ان باغی گروپوں کا قبضہ ہے جنھیں امریکی فوج کی امداد حاصل ہے۔ عالمی طاقتوں اور مسلم ممالک کی باہمی آویزش نے کئی خوشحال مسلم ملکوں کو تباہ کر دیا ہے۔ لیبیا' عراق' شام اور یمن تباہی و بربادی کا شکار ہیں' افریقہ میں سوڈان' صومالیہ اور مالی خانہ جنگی سے تباہ ہیں جب کہ ہمارے ہمسائے میں افغانستان برسوں سے جنگ کا شکار ہے' اگر مسلم ممالک اپنے اختلافات پر قابو پا لیتے تو شاید یہ ملک تباہی سے بچ جاتے۔
Load Next Story