پاک چین تجارت مقامی کرنسی میں کرنے کا تاریخی فیصلہ

پاکستانی حکومت کی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ چینی تجربات اور مہارت سے کتنا مستفیض ہوتی ہے۔

پاکستانی حکومت کی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ چینی تجربات اور مہارت سے کتنا مستفیض ہوتی ہے۔ فوٹو:فائل

SEATTLE:
وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے دوران دونوں ممالک میں باہمی تعلقات اور تجارتی معاملات کو مضبوط بنانے کے لیے جہاں 15معاہدوں پر دستخط ہوئے وہاں پاک چین تجارت ڈالر کے بجائے مقامی کرنسی میں کرنے کا بھی اہم اور تاریخی فیصلہ کیا گیا۔ یہ پاک چین دوستی میں اہم اور تاریخی پیشرفت ہے جس کے مستقبل میں علاقائی اور عالمی تجارت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پیر کو لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاک چین تجارت ڈالر کے بجائے چینی کرنسی یوان میں ہو گی' یہ چین کی جانب سے پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کا حصہ ہے' ڈالر میں پیسے دینے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوجاتے تھے اور خزانے پر بوجھ پڑتا تھا۔

چین کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ وہ اپنی کرنسی یوان میں بیرونی دنیا کے ساتھ تجارت کرے گا' یہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی چینی تجارت کو عالمی سطح پر مہمیز کرنے کا انتہائی اہم آغاز ہے' یہ فیصلہ اس امر کا بھی پیش خیمہ ہے کہ اب چین عالمی سطح پر امریکا کے مقابل خم ٹھونک کر ایک بڑی معاشی اور تجارتی قوت بن کر آ رہا ہے۔

چین جتنی تیزی سے سائنس و ٹیکنالوجی' دفاعی اور معاشی میدان میں ترقی کر رہا ہے اس کے خطرات امریکی پالیسی ساز اور ماہرین گزشتہ کئی برسوں سے محسوس کر چکے اور وہ چین کا راستہ روکنے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں لیکن اب جس طرح چین نے پہلی بار پاکستان کے ساتھ اپنی کرنسی میں تجارت کا فیصلہ کیا ہے وہ کامیابی سے ہمکنار ہونے پر مستقبل میں ڈالر کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ آج چین نے پاکستان کے ساتھ اپنی کرنسی میں تجارت کی بات کی ہے کل وہ مزید پیشرفت کرتے ہوئے دیگر ممالک کے ساتھ بھی ایسے معاہدے کر سکتا ہے۔

چین جہاں پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا وہاں وہ مالدیپ' برما' افغانستان اور دیگر بہت سے ممالک میں بھی بڑی تیزی سے اپنے قدم جمارہا ہے۔ پاکستان اورچین نے ایک دوسرے کی کرنسی میں تجارت کے معاہدے پر فوری عملدرآمدکا فیصلہ کرتے ہوئے تجارتی سرگرمیوںکے لیے باہمی کرنسی کا حجم دوگنا کردیا، چینی کرنسی میں تجارتی حجم 10 ارب سے بڑھاکر 20ارب یوآن جب کہ پاکستانی کرنسی میں تجارتی حجم 165ارب سے بڑھاکر 351ارب روپے کر دیاگیا۔ پاکستان اور چین کا بینکوں، فنانشل اداروں میں لین دین کا آسان اور مربوط نظام بنانے پر بھی اتفاق ہوا ہے جس کے لیے دونوں ممالک میں بینکوں کی مزید برانچیںکھولنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔


ذرائع کے مطابق پاکستان کے صنعتی سیکٹر کی بحالی کے لیے بھی چین مدد فراہم کریگا اوراس مقصد کے لیے چین پاکستان میں اسمال انڈسٹری یونٹس لگانے میں مہارت بھی فراہم کریگا۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ ہمارے خلائی پروگرام میں پیشرفت ہوئی ہے' 2022ء میں چین کے خلائی پروگرام کے تحت پہلا پاکستانی خلا باز خلا میں جائے گا۔چینیوں کے جذبات ان کے سپاٹ چہروں سے ہویدا نہیں ہوتے لیکن ان کی ذہانت اور زیرکی ان کے معاشی اور تجارتی معاہدوں سے چھلکتی صاف نظر آتی ہے۔

چینی ہمیشہ اپنے معاشی مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہیں' بھارت کے ساتھ ان کے لاکھ اختلافات سہی مگر تمام اختلافات اور رنجشوں کے کانٹوں کو اپنے دامن میں سمیٹنے کے ساتھ ساتھ چین بھارت کے ساتھ اربوں ڈالر کی تجارت کر رہا ہے' یہاں تک کہ مذہبی عقائد سے بالاتر ہو کر مسلم عبادات ' حج اور عمرہ میں استعمال ہونے والی متعدد اشیا چین تیار کر رہا ہے۔

چین کے دورے کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے سینٹرل پارٹی اسکول میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بڑے شہروںکے مسائل کے خاتمہ کے لیے بھی چین کے تجربات سے استفادہ کریںگے، چین سے محبت کرتے ہیں اور یہ محبت صرف حکومت کی حکومت ہی سے نہیں بلکہ عوام کی عوام سے بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ چین نے سترکروڑ لوگوںکو غربت سے نکالا، ہم بھی پاکستان کے لوگوںکو غربت سے نکالیں گے، اس مقصد کے حصول کے لیے چین کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم کے دورے کے موقع پر جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور چین اسٹرٹیجک تعاون اور پارٹنرشپ ہمیشہ مضبوط رہے گی، پاکستان میں معاشی ترقی اور روزگار پیدا کرنے کے لیے ورکنگ گروپ تشکیل دیے جائیں گے' پاکستان اور چین دفاعی تعاون میں مزید وسعت دیں گے۔

وزیراعظم کے دورے کے موقع پر چین نے پاکستان کو براہ راست سرمایہ فراہم نہیں کیا لیکن جو تجارتی' دفاعی اور دیگر معاہدے کیے ہیں اس سے مستقبل میں جہاں پاکستان کے صنعتی شعبے میں بہتری آنے سے معیشت کو استحکام ملے گا وہاں روز گار کے بھی وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ چین نے جس تیزی سے ترقی کی ہے وہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے' اب یہ پاکستانی حکومت کی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ چینی تجربات اور مہارت سے کتنا مستفیض ہوتی ہے۔
Load Next Story