سیاستدانوں کے بیانات تحمل و بردباری کی ضرورت

عوام کے نزدیک یہ طرز عمل نہایت تشویش ناک اور قابل مذمت ہے۔

عوام کے نزدیک یہ طرز عمل نہایت تشویش ناک اور قابل مذمت ہے۔ فوٹو:فائل

حالیہ دنوں قومی سطح پر سیاستدانوں کے منتقمانہ طرز عمل اور وفاق اور اکائیوں کے نمایندوں کے درمیان لفظی جنگ اور شدت پسندانہ بیانات نے سیاسی فضا کو پراگندہ کردیا ہے۔ ایک جانب وفاقی وزیراطلاعات سندھ میں غنڈہ راج کے خاتمے اور وفاق کا تعاون ختم کرنے سے سندھ حکومت کے مشکل میں آنے کی بات کررہے ہیں، تو سندھ کی صوبائی حکومتی جماعت کے ترجمان بھی ذاتیات پر حملے کررہے ہیں۔ عوام کے نزدیک یہ طرز عمل نہایت تشویش ناک اور قابل مذمت ہے۔

قومی سطح پر اگر دیکھا جائے تو موجودہ سیاست میں متضاد نظریات سامنے آرہے ہیں، میڈیا ٹاک شوز اور سیاستدانوں کے بیانات انتشار کو جنم دے رہے ہیں، لفظی مقابلہ بازی کی فضا میں رواداری کو ایک جانب رکھ دیا گیا ہے، زبان درازی کو خوب فروغ مل رہا ہے، یہ ماحول عوام کے ذہنوں میں خلفشار پیدا کررہا ہے۔ سیاست کے اس خوفناک ماحول نے حساس اور باشعور عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

ان بیانات سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ ہمارے سیاستدان کس ڈگر پر چل رہے ہیں اور ان کی سوچ کا زاویہ کیا ہے۔ سیاست میں رواداری، تدبر اور برداشت کے جمہوری کلچر کا سخت فقدان ہے جس سے ریاست کو سیاسی عدم استحکام کے طوفان کا سامنا ہے۔


ملک میں اکہتر برسوں کی سیاست میں برداریوں، دھڑوں اور گروپوں کی سیاست کی آڑ میں سیاسی ناخداؤں نے اس ملک کا جو حشر کیا اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے، سیاستدانوں نے ذاتی مفاد کو ترجیح دی اور قومی مفاد تار تار ہوتا چلا گیا، ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی گاڑی بیرونی قرضوں پر چلائی جارہی ہے، صحت و تعلیم کا جو حال ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، غریب عوام کو تعلیم، صحت کی سہولتیں میسر نہیں۔

موجودہ حکومت نئے پاکستان اور تبدیلی کا نعرہ لیے اقتدار میں آئی ہے، عوام کو امید تھی کہ اس حکومت میں پرانی غلطیاں و کوتاہیاں نظر نہیں آئیں گی لیکن حکومتی زعما کی طرف سے وہی بوسیدہ بیانات اور خلفشار پیدا کرنے کا چلن عوام کو سخت مایوسی کی جانب دھکیل رہا ہے۔

ایک دوسرے پر الزام تراشی اور دشنام سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔ اگر حالات کو مزید ہیجان خیز بنایا گیا تو اس کا نقصان ریاست کو ہوگا۔ سیاستدان اپنے بیانات میں تعلیم یافتہ اور باشعور ہونے کا ثبوت دیں۔ سیاست میں گالم گلوچ اور الزام تراشی کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ یہ وطن ہمارا ہے اور ہم ہیں پاسبان اس کے، اس ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے مل جل کر آگے بڑھیں۔
Load Next Story