تجاوزات کے خلاف مہم جاری رکھیں

قوم میں شعور اس معروف مقولے کے تحت بیدار کیا جائے کہ ’’خوبصورت شہر، شہریوں کے تہذیبی شعورکی ترجمانی کرتے ہیں۔‘‘

قوم میں شعور اس معروف مقولے کے تحت بیدار کیا جائے کہ ’’خوبصورت شہر، شہریوں کے تہذیبی شعورکی ترجمانی کرتے ہیں۔‘‘ فوٹو: آن لائن

کراچی کے مصروف تجارتی علاقے صدر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران مختلف سڑکوں سے پتھارے ، دکانوں کے غیرقانونی شیڈز اور فٹ پاتھوں پر قائم ناجائز تعمیرات کو مشینری کے ذریعے مسمارکر دیا گیا۔

صدر کراچی کا دل ہے لیکن اس کی شریانیں تجاوزات کے باعث بند تھیں، سپریم کورٹ نے پندرہ دن میں کراچی سے تجاوزات کے خاتمے کا ٹاسک میئرکراچی کو دیا تھا، لیکن لگتا نہیں کہ وہ اس حکم کی تعمیل مقررہ مدت میں کر پائیں گے ، دوکروڑ آبادی والے شہر میں ہرگلی،کوچے اور بازار میں تجاوزات کی بھرمار ہے ۔ پتھاروں اور تجاوزات کی بھرمار کی وجہ سے عام آدمی کا چلنا دشوار ہے۔ تجاوزات کے باعث سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صوبہ پنجاب میں بھی تجاوزات کے خلاف بھرپور مہم جاری ہے اور متعدد چھوٹے، بڑے شہروں میں تجاوزات مسمارکردیے گئے ہیں، جوکہ بلاشبہ ایک مستحسن عمل ہے، لیکن اس مہم میں قانون کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو ۔ایک جانب تو تجاوزات کے خلاف بھرپور مہم جاری ہے تو دوسری جانب ایسی شکایت بھی سننے میں آرہی ہے کہ بعض جگہوں پر انتظامیہ بااثر افراد کے سامنے بے بس ہے، واگزارکروائی گئی جگہوں پر دوبارہ قابضین نے ڈیرے ڈال دیے ہیں۔


سرکاری اراضی پر قبضہ کرنا تو ہم نے من حیث القوم اپنا وتیرہ بنا لیا ہے 'مال مفت، دل بے رحم' کے مصداق سرکاری اراضی کے ہزارہا ایکڑ زمین پر قابضین بستیاں بنا چکے ہیں جس میں ریلوے کی مثال بھی دی جاسکتی ہے اور دیگر اداروں کی بھی۔ قبضہ مافیا پاکستان میں بہت زیادہ طاقتور ہوچکی ہے، اس مافیا کو طاقتور بنانے میں سرکاری محکموں کے کرپٹ اہلکاروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔ جو رشوت لے کر سرکاری زمینوں اور املاک پر دوبارہ قبضہ کرواتے ہیں۔ ویسے بھی عام دکانداروں کی یہ علت بن چکی ہے کہ وہ اپنی دکان سے باہر پانچ فٹ کی جگہ پر اپنا سامان پھیلا کر رکھتے ہیں اور دکان کے آگے کوئی پتھارا یا ریڑی بھی لگوا دیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کے بازاروں میں دکانداروں اور تاجروں نے کئی کئی فٹ تجاوزکرکے ہر شہرکے بازاروں ، چوک چوراہو ں، سڑکوں کو تنگ گلیوں میں تبدیل کر دیا ہے۔تجاوزات کے خلاف یہ مہم جاری رکھی جائے اور قوم میں شعور اس معروف مقولے کے تحت بیدار کیا جائے کہ ''خوبصورت شہر، شہریوں کے تہذیبی شعورکی ترجمانی کرتے ہیں۔''

 
Load Next Story