رینجرزاور ایف سی کو وی آئی پیز ڈیوٹی سے ہٹانے کا فیصلہ
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کو ٹارگٹ کلنگ روکنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی جا رہی ہے۔
دہشت گردی کے خاتمے میں ناکامی کی ایک وجہ سیکیورٹی اداروں کے درمیان موثر رابطوں اور بروقت معلومات کا فقدان بھی رہا ہے۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ملک میں نئی قومی سیکیورٹی پالیسی کی تیاری کے لیے وزارت داخلہ کے ماتحت سول آرمڈ فورسز اور ایجنسیوں کے سربراہان کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں کہا کہ سول آرمڈ فورسز کا کام چوکیداری نہیں' قوم غیر محفوظ ہے' کسی واقعے سے سبق نہیں لیا گیا' اس لیے صدر' وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان کے سوا تمام وی آئی پیز کی سیکیورٹی پر مامور رینجرز اور ایف سی اہلکاروں کو 21 جون بروز جمعہ سے ہٹا کر ان کی خدمات فوری طور پر ان کے اداروں کو واپس کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو ٹارگٹ کلنگ روکنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دے رہے ہیں۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں پورے ملک میں امن و امان کی صورت حال خراب ہے اور دہشت گردوں نے خوف کی فضا قائم کر رکھی ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں جس تواتر سے دہشت گردی کی سیکڑوں وارداتیں رونما ہوئیں اور ہزاروں بے گناہ افراد اس کی بھینٹ چڑھ گئے اس سے یہ محسوس ہونے لگا کہ دہشت گرد بہت زیادہ طاقتور اور منظم ہیں اور ملک میں عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے والے تمام سیکیورٹی ادارے اور ایجنسیاں ان کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں۔ ماضی میں دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کے بعد دہشت گردوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹنے کے دعوے تو سامنے آتے رہے مگر ہر واقعے کے بعد دوسرا رونما ہونے والا واقعہ اس حکومتی آہنی ہاتھ کا منہ چڑاتا رہا۔
گزشتہ دنوں کوئٹہ میں رونما ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں جن میں طالبات اور قائداعظم ریذیڈنسی کو نشانہ بنایا گیا تھا' نے پوری قوم کو ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اب ملک دوبارہ پھر دہشت گردوں کے رحم و کرم پر رہے گا اورموجودہ حکومت بھی سابق حکومت کی روایات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے خالی خولی دعوؤں اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں ہی سے کام چلائے گی۔ نئی آنے والی جمہوری حکومت کو بھی جب دہشت گردی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا تو ضرورت اس امر کی محسوس کی جانے لگی کہ ماضی کی ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں سے ہٹ کر حکومت کو نیا اور موثر طریقہ کار اپنانا ہو گا تاکہ ملک کو دہشت گردی کے عفریت سے نجات دلائی جاسکے۔ اسی مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر داخلہ نے نئی قومی سیکیورٹی پالیسی کی تشکیل کے لیے قدم بڑھایا ہے۔
جس کا بنیادی مقصد سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان بہتر رابطے' ہم آہنگی پیدا کرنا اور چین آف کمانڈ واضح کرنے کے ساتھ ساتھ صوبوں اور مرکز میں بروقت رابطے قائم کرنا ہے۔ چند کے سوا تمام وی آئی پیز کی سیکیورٹی پر مامور رینجرز اور ایف سی اہلکاروں کو ہٹا کر ان کی خدمات ان کے اداروں کو واپس کرنے کا اقدام نہایت احسن ہے۔ سول آرمڈ فورسز کا اصل کام ملک و قوم کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ وی آئی پیز کی چوکیداری کرنا۔ جب سول آرمڈ فورسز کے اہلکار وی آئی پی شخصیات کی حفاظت پر مامور رہیں گے تو عوام کی دہشت گردوں سے کون حفاظت کرے گا۔ بعض وی آئی پی شخصیات کا شمار انتہائی امرا میں ہوتا ہے مگر وہ اپنی ذاتی سیکیورٹی رکھنے کے بجائے حکومتی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔
دہشت گردی کے خاتمے میں ناکامی کی ایک وجہ سیکیورٹی اداروں کے درمیان موثر رابطوں اور بروقت معلومات کا فقدان بھی رہا ہے جب کہ وزیر داخلہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ بلوچستان میں عسکریت پسند گروپوں کے درمیان گٹھ جوڑ قائم ہے۔ یہ تشویشناک امر ہے کہ دہشت گرد گروہ تو منظم اور متحد ہیں اور آپس میں معلومات بھی شیئر کر رہے ہیں جب کہ ان کے مقابل سیکیورٹی اداروں میں انھی خصوصیات کا فقدان ہے ایسی صورت میں دہشت گردوں کا مقابلہ کیسے ممکن ہے۔ اسی خامی کو دور کرنے کے لیے سیکیورٹی اداروں میں ہم آہنگی اور رابطے کا نیا نظام وضع کرنے کے لیے نئی قومی سیکیورٹی پالیسی تیار کی جا رہی ہے جو دو ہفتوں میں تشکیل دے دی جائے گی۔ سندھ جو ایک انتظامی اور بندوبستی علاقہ ہے مگر وہاں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں سے اس پر علاقہ غیر کا گماں گزرتا ہے۔
اب وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کو ٹارگٹ کلنگ روکنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی جا رہی ہے۔ سندھ خصوصاً کراچی میں امن و امان کا قیام انتہائی ضروری ہے تاہم وفاقی وزیرداخلہ نے ٹارگٹ کلنگ روکنے کے لیے جس مہلت کا اعلان کیا' بہتر ہوتا کہ سندھ حکومت کی مشاورت اس میں شامل ہوتی یا اس اعلان کے وقت وزیراعلیٰ سندھ اور گورنر بھی ان کے ساتھ موجود ہوتے' اس بیان سے غلط فہمیاں پیدا ہونے کا امکان ہے جو موجودہ جمہوری سیٹ اپ کے لیے کسی صورت اچھا نہیں ہے۔ سندھ میں امن و امان کا قیام سب کی خواہش ہے لیکن اس کے لیے سندھ حکومت اور مرکز کا باہم رابطہ کار بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ مرکزی حکومت اس حوالے سے ضرور غور کرے گی۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ سیکیورٹی ادارے الرٹ منظم اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں تو دہشت گردوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ جس کی واضح مثال امریکا اور برطانیہ کی ہے جہاں سیکیورٹی کا نظام اتنا جدید ہے کہ بعض واقعات میں دہشت گردوں کو اپنے عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے سے قبل ہی دھر لیا گیا۔ یہاں بھی سیکیورٹی کا نظام جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب گاڑیوں میں سیکیورٹی چپس استعمال کرنے سے دہشت گردی پر قابو پانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ دہشت گرد اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے عموماً چوری کی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں استعمال کرتے ہیں۔
چپس کے استعمال سے کار چوری کی وارداتوں پر قابو پانے میں بھی آسانی رہے گی۔ دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کے بعد اگر مکمل رپورٹ تیار اور ناکامیوں پر قابو پانے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی جائے تو دہشت گردی پر بتدریج قابو پایا جا سکتا ہے۔ وزیر داخلہ نے لاپتہ افراد کے معاملہ کا جائزہ لینے کے لیے بھی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ اسلام آباد کو جرائم پیشہ افراد سے پاک کرنے کے لیے تمام گھریلو ملازمین اور کچی آبادیوں کے مکینوں کا ریکارڈ مرتب کرنے کا فیصلہ بھی قابل ستائش ہے مگر اس کا دائرہ پورے ملک تک پھیلانے کی ضرورت ہے۔ دہشت گرد جس طرح منظم ہیں ان پر قابو پانا دشوار ضرور ہے مگر نا ممکن نہیں، حکومت اگر جراتمندی حوصلے اور بہتر حکمت عملی سے دہشت گردوں کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے تو جلد نہ سہی بدیر سہی' اس عفریت کے خاتمے میں کامیابی ضرور ملے گی اور اس سلسلے میں مرکزی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ملک میں نئی قومی سیکیورٹی پالیسی کی تیاری کے لیے وزارت داخلہ کے ماتحت سول آرمڈ فورسز اور ایجنسیوں کے سربراہان کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں کہا کہ سول آرمڈ فورسز کا کام چوکیداری نہیں' قوم غیر محفوظ ہے' کسی واقعے سے سبق نہیں لیا گیا' اس لیے صدر' وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان کے سوا تمام وی آئی پیز کی سیکیورٹی پر مامور رینجرز اور ایف سی اہلکاروں کو 21 جون بروز جمعہ سے ہٹا کر ان کی خدمات فوری طور پر ان کے اداروں کو واپس کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو ٹارگٹ کلنگ روکنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دے رہے ہیں۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں پورے ملک میں امن و امان کی صورت حال خراب ہے اور دہشت گردوں نے خوف کی فضا قائم کر رکھی ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں جس تواتر سے دہشت گردی کی سیکڑوں وارداتیں رونما ہوئیں اور ہزاروں بے گناہ افراد اس کی بھینٹ چڑھ گئے اس سے یہ محسوس ہونے لگا کہ دہشت گرد بہت زیادہ طاقتور اور منظم ہیں اور ملک میں عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے والے تمام سیکیورٹی ادارے اور ایجنسیاں ان کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں۔ ماضی میں دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کے بعد دہشت گردوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹنے کے دعوے تو سامنے آتے رہے مگر ہر واقعے کے بعد دوسرا رونما ہونے والا واقعہ اس حکومتی آہنی ہاتھ کا منہ چڑاتا رہا۔
گزشتہ دنوں کوئٹہ میں رونما ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں جن میں طالبات اور قائداعظم ریذیڈنسی کو نشانہ بنایا گیا تھا' نے پوری قوم کو ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اب ملک دوبارہ پھر دہشت گردوں کے رحم و کرم پر رہے گا اورموجودہ حکومت بھی سابق حکومت کی روایات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے خالی خولی دعوؤں اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں ہی سے کام چلائے گی۔ نئی آنے والی جمہوری حکومت کو بھی جب دہشت گردی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا تو ضرورت اس امر کی محسوس کی جانے لگی کہ ماضی کی ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں سے ہٹ کر حکومت کو نیا اور موثر طریقہ کار اپنانا ہو گا تاکہ ملک کو دہشت گردی کے عفریت سے نجات دلائی جاسکے۔ اسی مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر داخلہ نے نئی قومی سیکیورٹی پالیسی کی تشکیل کے لیے قدم بڑھایا ہے۔
جس کا بنیادی مقصد سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان بہتر رابطے' ہم آہنگی پیدا کرنا اور چین آف کمانڈ واضح کرنے کے ساتھ ساتھ صوبوں اور مرکز میں بروقت رابطے قائم کرنا ہے۔ چند کے سوا تمام وی آئی پیز کی سیکیورٹی پر مامور رینجرز اور ایف سی اہلکاروں کو ہٹا کر ان کی خدمات ان کے اداروں کو واپس کرنے کا اقدام نہایت احسن ہے۔ سول آرمڈ فورسز کا اصل کام ملک و قوم کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ وی آئی پیز کی چوکیداری کرنا۔ جب سول آرمڈ فورسز کے اہلکار وی آئی پی شخصیات کی حفاظت پر مامور رہیں گے تو عوام کی دہشت گردوں سے کون حفاظت کرے گا۔ بعض وی آئی پی شخصیات کا شمار انتہائی امرا میں ہوتا ہے مگر وہ اپنی ذاتی سیکیورٹی رکھنے کے بجائے حکومتی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔
دہشت گردی کے خاتمے میں ناکامی کی ایک وجہ سیکیورٹی اداروں کے درمیان موثر رابطوں اور بروقت معلومات کا فقدان بھی رہا ہے جب کہ وزیر داخلہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ بلوچستان میں عسکریت پسند گروپوں کے درمیان گٹھ جوڑ قائم ہے۔ یہ تشویشناک امر ہے کہ دہشت گرد گروہ تو منظم اور متحد ہیں اور آپس میں معلومات بھی شیئر کر رہے ہیں جب کہ ان کے مقابل سیکیورٹی اداروں میں انھی خصوصیات کا فقدان ہے ایسی صورت میں دہشت گردوں کا مقابلہ کیسے ممکن ہے۔ اسی خامی کو دور کرنے کے لیے سیکیورٹی اداروں میں ہم آہنگی اور رابطے کا نیا نظام وضع کرنے کے لیے نئی قومی سیکیورٹی پالیسی تیار کی جا رہی ہے جو دو ہفتوں میں تشکیل دے دی جائے گی۔ سندھ جو ایک انتظامی اور بندوبستی علاقہ ہے مگر وہاں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں سے اس پر علاقہ غیر کا گماں گزرتا ہے۔
اب وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کو ٹارگٹ کلنگ روکنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی جا رہی ہے۔ سندھ خصوصاً کراچی میں امن و امان کا قیام انتہائی ضروری ہے تاہم وفاقی وزیرداخلہ نے ٹارگٹ کلنگ روکنے کے لیے جس مہلت کا اعلان کیا' بہتر ہوتا کہ سندھ حکومت کی مشاورت اس میں شامل ہوتی یا اس اعلان کے وقت وزیراعلیٰ سندھ اور گورنر بھی ان کے ساتھ موجود ہوتے' اس بیان سے غلط فہمیاں پیدا ہونے کا امکان ہے جو موجودہ جمہوری سیٹ اپ کے لیے کسی صورت اچھا نہیں ہے۔ سندھ میں امن و امان کا قیام سب کی خواہش ہے لیکن اس کے لیے سندھ حکومت اور مرکز کا باہم رابطہ کار بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ مرکزی حکومت اس حوالے سے ضرور غور کرے گی۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ سیکیورٹی ادارے الرٹ منظم اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں تو دہشت گردوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ جس کی واضح مثال امریکا اور برطانیہ کی ہے جہاں سیکیورٹی کا نظام اتنا جدید ہے کہ بعض واقعات میں دہشت گردوں کو اپنے عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے سے قبل ہی دھر لیا گیا۔ یہاں بھی سیکیورٹی کا نظام جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب گاڑیوں میں سیکیورٹی چپس استعمال کرنے سے دہشت گردی پر قابو پانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ دہشت گرد اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے عموماً چوری کی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں استعمال کرتے ہیں۔
چپس کے استعمال سے کار چوری کی وارداتوں پر قابو پانے میں بھی آسانی رہے گی۔ دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کے بعد اگر مکمل رپورٹ تیار اور ناکامیوں پر قابو پانے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی جائے تو دہشت گردی پر بتدریج قابو پایا جا سکتا ہے۔ وزیر داخلہ نے لاپتہ افراد کے معاملہ کا جائزہ لینے کے لیے بھی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ اسلام آباد کو جرائم پیشہ افراد سے پاک کرنے کے لیے تمام گھریلو ملازمین اور کچی آبادیوں کے مکینوں کا ریکارڈ مرتب کرنے کا فیصلہ بھی قابل ستائش ہے مگر اس کا دائرہ پورے ملک تک پھیلانے کی ضرورت ہے۔ دہشت گرد جس طرح منظم ہیں ان پر قابو پانا دشوار ضرور ہے مگر نا ممکن نہیں، حکومت اگر جراتمندی حوصلے اور بہتر حکمت عملی سے دہشت گردوں کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے تو جلد نہ سہی بدیر سہی' اس عفریت کے خاتمے میں کامیابی ضرور ملے گی اور اس سلسلے میں مرکزی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔