بلوچستان بجٹ عوام کثیر جہتی ریلیف کے منتظر
رقبہ کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کا شدید فقدان ہے.
وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک نے بلوچستان کے عوام کے لیے جو بجٹ پیش کیا ہے وہ مخدوش اور صوبہ کے دہشت انگیز ماحول میں سماجی و اقتصادی تبدیلی کی ایک پر جوش ہنگامی کوشش ہے۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
بلوچستان کا آیندہ مالی سال2013-14 کا ایک کھرب 98 ارب39کروڑ50لاکھ روپے کا بجٹ پیش کردیاگیا، ترقیاتی اخراجات کے لیے43ارب91کروڑ اور غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے ایک کھرب54 ارب 48کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ بلوچستان اسمبلی کا بجٹ اجلاس اسپیکر جان محمد جمالی کی زیرصدارت منعقد ہوا ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے آیندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گریڈ ایک تا16 تک کے سرکاری ملازمین تنخواہوں میں 15 فیصد جب کہ 17 سے اوپر گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے بیرونی امداد میں صوبے کو 3 ارب 98کروڑ روپے ملیں گے ، ریونیو اخراجات کا تخمینہ 117.348 بلین اورکیپٹل اخراجات کے لیے37.474 بلین روپے شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک نے بلوچستان کے عوام کے لیے جو بجٹ پیش کیا ہے وہ مخدوش اور صوبہ کے دہشت انگیز ماحول میں سماجی و اقتصادی تبدیلی کی ایک پر جوش ہنگامی کوشش ہے۔ بلوچستان کا المیہ کثیر جہتی ہے ، اسے انتظامی اور مالیاتی بحرانوں ،بدترین کرپشن کے علاوہ غربت و افلاس، پسماندگی اور مہنگائی کے عذابوںسے بھی سابقہ پڑا ہے۔ جیسی غربت ، لاچاری اور کسمپرسی بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں دیکھی گئی ہے وہ صوبہ کے قبائلی اور سرداری سسٹم کے منہ پر طمانچہ ہے ۔ رقبہ کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کا شدید فقدان ہے سارا انحصار ملک بھر کے نجی ٹرانسپورٹرز پر ہے جن کی اربوںروپے مالیت کی لگژری بسیں کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر شہریوں کے درمیان چلتی ہیں مگر بلوچستان کی بیوروکریسی نے کبھی اپنے عوام کو سستے پبلک ٹرانسپورٹ کی بین الصوبائی سہولتیں مہیا نہیں کیں جب کہ صوبہ کے عوام کو امن ، تعلیم، صحت، رہائش اور روزگار کی فکر ہے مگر انھیں اپنی زندگی کولاحق خطرات کا بھی سامنا ہے ،
چنانچہ معاشی اقدامات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور شورش سے پیدا شدہ حالات سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل اور قانون نافذ کرنے کے لیے پولیس ،ایف سی اور لیویزکو جدید ترین اسلحہ کی ضرروت ہے جب کہ ٹیررازم اورگوریلا جنگ کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے وفاق کی طرف سے ہر قسم کی مالی امداد بلوچستان کی سیاسی حیات نوکے لیے ناگزیر ہے۔چنانچہ آیندہ مالی سال کے دوران4493 نئی آسامیاں پیدا کرنے ، وزراء کے حکومتی خرچ پر بیرون ملک علاج معالجے اور سیمیناروں کانفرنسز اور ورکشاپ میں شرکت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ احسن ہے۔ قائداعظم ریذیڈنسی کی دوبارہ تعمیر کے لیے 2 کروڑ مختص کردیے گئے،لگژری گاڑیوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ شہروں میں غیر منقولہ جائیداد2500مربع فٹ کے تعمیر شدہ جائیداد پر ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز بھی دے دی گئی۔ بلوچستان حکومت کی طرف سے دو اربوں روپے کی لاگت کی شمسی توانائی کے پراجیکٹ شروع کر نے اور 3 سو دیہات کو بجلی کی فراہمی کا اعلان خوش آیند ہے۔
ماہی گیری سے منسلک ذرایع آمدن و روزگار کی ترقی، غیر ترقیاتی اخراجات میں خاطر خواہ کمی لاکرمحدود وسائل کو بہتر انداز میں استعمال میں لایا جانا چاہیے، وفاق اور قومی وحدتوں کے درمیان وسائل کی شرح کو منصفانہ بناتے ہوئے 80 فیصد قومی وحدتوں اور 20فیصدوفاق کے لیے مختص کرنے کی کوشش نتیجہ خیز ثابت ہو ۔اسلحہ کی خریداری کے لیے 135 ملین روپے کا بندوبست ، پولیس، لیویز اور بلوچستان کانسٹیبلری کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اگلے مالی سال 2013-14 میںضروری آلات فراہم کرنے کی غرض سے غیر ترقیاتی بجٹ میں تقریباً 315ملین روپے مختص کرنے کی ضرورت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس لیے دہشت گردی اور دیگر جرائم کو جڑ سے اُکھاڑنے کے لیے سی آ ئی ڈی (CID)کی اہلیت کو بھی مزید موثر بنایا جائے ۔
ادھرسینٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلات وپوسٹل سروسز نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی( این ایچ اے)کوہدایت کی ہے کہ آغازحقوق بلوچستان کے تحت این ایچ اے میں بلوچوں کی بھرتیوں کا عمل فی الفورمکمل کیا جائے،ڈیپوٹیشن اور کنٹریکٹ پرآئے ملازمین کوفوری طور پر ان کے محکموں میں واپس بھیجا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ7ارب94کروڑ کے بجٹ خسارے کو مد نظر رکھتے ہوئے بلوچستان حکومت امن و امان،تعلیم، صحت اور روزگار کی طرف خصوصی توجہ دیگی۔بلوچستان کے عوام کثیر جہتی ریلیف چاہتے ہیں۔
بلوچستان کا آیندہ مالی سال2013-14 کا ایک کھرب 98 ارب39کروڑ50لاکھ روپے کا بجٹ پیش کردیاگیا، ترقیاتی اخراجات کے لیے43ارب91کروڑ اور غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے ایک کھرب54 ارب 48کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ بلوچستان اسمبلی کا بجٹ اجلاس اسپیکر جان محمد جمالی کی زیرصدارت منعقد ہوا ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے آیندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گریڈ ایک تا16 تک کے سرکاری ملازمین تنخواہوں میں 15 فیصد جب کہ 17 سے اوپر گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے بیرونی امداد میں صوبے کو 3 ارب 98کروڑ روپے ملیں گے ، ریونیو اخراجات کا تخمینہ 117.348 بلین اورکیپٹل اخراجات کے لیے37.474 بلین روپے شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک نے بلوچستان کے عوام کے لیے جو بجٹ پیش کیا ہے وہ مخدوش اور صوبہ کے دہشت انگیز ماحول میں سماجی و اقتصادی تبدیلی کی ایک پر جوش ہنگامی کوشش ہے۔ بلوچستان کا المیہ کثیر جہتی ہے ، اسے انتظامی اور مالیاتی بحرانوں ،بدترین کرپشن کے علاوہ غربت و افلاس، پسماندگی اور مہنگائی کے عذابوںسے بھی سابقہ پڑا ہے۔ جیسی غربت ، لاچاری اور کسمپرسی بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں دیکھی گئی ہے وہ صوبہ کے قبائلی اور سرداری سسٹم کے منہ پر طمانچہ ہے ۔ رقبہ کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کا شدید فقدان ہے سارا انحصار ملک بھر کے نجی ٹرانسپورٹرز پر ہے جن کی اربوںروپے مالیت کی لگژری بسیں کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر شہریوں کے درمیان چلتی ہیں مگر بلوچستان کی بیوروکریسی نے کبھی اپنے عوام کو سستے پبلک ٹرانسپورٹ کی بین الصوبائی سہولتیں مہیا نہیں کیں جب کہ صوبہ کے عوام کو امن ، تعلیم، صحت، رہائش اور روزگار کی فکر ہے مگر انھیں اپنی زندگی کولاحق خطرات کا بھی سامنا ہے ،
چنانچہ معاشی اقدامات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور شورش سے پیدا شدہ حالات سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل اور قانون نافذ کرنے کے لیے پولیس ،ایف سی اور لیویزکو جدید ترین اسلحہ کی ضرروت ہے جب کہ ٹیررازم اورگوریلا جنگ کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے وفاق کی طرف سے ہر قسم کی مالی امداد بلوچستان کی سیاسی حیات نوکے لیے ناگزیر ہے۔چنانچہ آیندہ مالی سال کے دوران4493 نئی آسامیاں پیدا کرنے ، وزراء کے حکومتی خرچ پر بیرون ملک علاج معالجے اور سیمیناروں کانفرنسز اور ورکشاپ میں شرکت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ احسن ہے۔ قائداعظم ریذیڈنسی کی دوبارہ تعمیر کے لیے 2 کروڑ مختص کردیے گئے،لگژری گاڑیوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ شہروں میں غیر منقولہ جائیداد2500مربع فٹ کے تعمیر شدہ جائیداد پر ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز بھی دے دی گئی۔ بلوچستان حکومت کی طرف سے دو اربوں روپے کی لاگت کی شمسی توانائی کے پراجیکٹ شروع کر نے اور 3 سو دیہات کو بجلی کی فراہمی کا اعلان خوش آیند ہے۔
ماہی گیری سے منسلک ذرایع آمدن و روزگار کی ترقی، غیر ترقیاتی اخراجات میں خاطر خواہ کمی لاکرمحدود وسائل کو بہتر انداز میں استعمال میں لایا جانا چاہیے، وفاق اور قومی وحدتوں کے درمیان وسائل کی شرح کو منصفانہ بناتے ہوئے 80 فیصد قومی وحدتوں اور 20فیصدوفاق کے لیے مختص کرنے کی کوشش نتیجہ خیز ثابت ہو ۔اسلحہ کی خریداری کے لیے 135 ملین روپے کا بندوبست ، پولیس، لیویز اور بلوچستان کانسٹیبلری کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اگلے مالی سال 2013-14 میںضروری آلات فراہم کرنے کی غرض سے غیر ترقیاتی بجٹ میں تقریباً 315ملین روپے مختص کرنے کی ضرورت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس لیے دہشت گردی اور دیگر جرائم کو جڑ سے اُکھاڑنے کے لیے سی آ ئی ڈی (CID)کی اہلیت کو بھی مزید موثر بنایا جائے ۔
ادھرسینٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلات وپوسٹل سروسز نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی( این ایچ اے)کوہدایت کی ہے کہ آغازحقوق بلوچستان کے تحت این ایچ اے میں بلوچوں کی بھرتیوں کا عمل فی الفورمکمل کیا جائے،ڈیپوٹیشن اور کنٹریکٹ پرآئے ملازمین کوفوری طور پر ان کے محکموں میں واپس بھیجا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ7ارب94کروڑ کے بجٹ خسارے کو مد نظر رکھتے ہوئے بلوچستان حکومت امن و امان،تعلیم، صحت اور روزگار کی طرف خصوصی توجہ دیگی۔بلوچستان کے عوام کثیر جہتی ریلیف چاہتے ہیں۔