زرداری بینظیرمبینہ بدعنوانی کیس دوبارہ نہ کھولنے کافیصلہ 4 فروری کوکیاسوئس اعلان

نئی درخواست ملنے کے بعد ایک اور خط ملا جس میں کہا گیا تھا کہ تفتیش کا معاملہ ملکی سیاست سے جڑا ہوا ہے،سوئس وکلا

سوئس حکام کے خلاف مقدمات کی سماعت دوبارہ شروع کرنے سے انکار کردیا ہے۔ فوٹو: فائل

FAISALABAD:
سوئٹزر لینڈ کے سرکاری وکیلوں نے اعلان کیاہے کہ انھوں نے صدرآصف زرداری اوران کی مرحوم بیوی بینظیربھٹو کی جانب سے 1990ء کی دہائی میں کی گئی مبینہ بدعنوانی کی تفتیش دوبارہ کھولنے سے انکارکردیا ہے۔


سوئٹز لینڈ کے سرکاری وکلا نے کہا ہے کہ بنظیربھٹوکے قتل ہونے سے کئی ہفتے قبل پاکستان نے سوئس حکومت سے مددلینے کی درخواست واپس لے لی تھی اورجنیواکے تفتیش کاروں نے اپنی طرف سے تفتیش 2008ء میں رسمی طورپربندکردی تھی۔تاہم نومبر2012ء میں سپریم کورٹ کے حکم پرحکومت پاکستان نے سوئٹزرلینڈ سے پھرقانونی مدد مانگی۔

جنیواکے سرکاری وکیلوں نے کہاکہ 2008ء میں کیس بندکیے جانے کے بعدکوئی نئی شہادت نہیں ملی،جس کامطلب یہ ہے کہ تفتیش دوبارہ نہیں کھولی جاسکتی۔ مزیدبراں یہ کہ مبینہ جرائم کو سرزد ہوئے 15 برس ہوگئے ہیں یعنی کیس زائدالمیعاد ہوگیا ہے۔انھوںنے پاکستان سے ملنے والے ملے جلے پیغامات کے متعلق بھی شکایت کی۔ نئی درخواست دائر کرنے کے ٹھیک ایک ماہ بعد پاکستان نے ہمیں خط بھیجاکہ دوبارہ تفتیش کے مطالبے کا تعلق ملکی سیاست سے جڑا ہوا ہے لہٰذااس پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں۔ سوئس وکلا نے کہا کہ یہ قانونی نظام کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔
Load Next Story