اکاؤنٹس ہیکنگ کی تشویشناک وارداتیں

حالیہ آن لائن بینکنگ فراڈ میں بھی بغیر پاس ورڈ کے ہیکرز کا اکاؤنٹس کو ہیک کرلینا ممکن نہیں تھا۔

حالیہ آن لائن بینکنگ فراڈ میں بھی بغیر پاس ورڈ کے ہیکرز کا اکاؤنٹس کو ہیک کرلینا ممکن نہیں تھا۔ فوٹو: فائل

ملکی صنعت بینکاری پر نامعلوم ہیکرز کے حملوں نے عوام اور بالخصوص بینکوں کے کھاتیداروں میں خوف وہراس پیدا کردیا ہے، سائبر سیکیورٹی تھریٹ کے حوالے سے پاکستانی بینک اکاؤنٹس ہیک ہونے کی خبرآتے ہی ایف آئی اے نے بینکوں کے مرکزی دفاتر سے رابطے شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اگرچہ ایک انگریزی معاصر نے ہیکنگ صورتحال کے فوری تدارک پر عجلت میں اقدام اٹھانے کی نشاندہی کی ہے جو بادی النظر میں سنسنی خیزی کی لہر دوڑانے کا باعث بنی ہیں۔ تقریباً ملک کے تمام بینکوں کے کھاتیدار عمومی خوف اور بے یقینی میں مبتلا رہے ہیں کہ شاید ان کے اکاؤنٹس غیرمحفوظ اور ہیکرز کی زد میں آگئے ہیں.

ترجمان اسٹیٹ بینک نے کہا کہ بینکنگ میں بڑا مافیا ملوث ہے جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، نجی و سرکاری بینکوں سمیت اے ٹی ایم استعمال کرنے والوں کو اسٹیٹ بینک نے یہ کہہ کر مطمئن کردیا کہ اکاؤنٹس ہیکنگ بے ہنگم نہیں ہوئی ہے ، صرف ایک بینک کا ڈیٹا چوری ہوا ہے، ایف آئی اے خیبرپختونخوا کے ذرایع کے مطابق بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز ہیک ہونے کے حوالے سے بینکوں کے مرکزی دفاتر سے رابطے شروع ہوچکے ہیں تاہم اس حوالے سے ایف آئی اے خیبرپختونخوا نے صوبہ میں تمام بینکوں سے آیندہ ہفتے میٹنگ رکھی ہے۔

دوسری طرف ایف آئی اے حکام کے مطابق بینک فراڈ جس میں مختلف لوگوں کو نامعلوم کالز کی جاتی ہیں اور فراڈیئے خود کو حساس ادارے کا اہلکار ظاہر کرکے بینک تفصیلات مانگی جاتی ہیں، ان کے خلاف بھی تحقیقات کی جارہی ہیں ۔

اسٹیٹ بینک ترجمان نے کہا کہ ہمیں اپنے بینکنگ نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، کوئی بھی بینک ڈیٹا کی ہیکنگ کا پتہ نہیں چلا سکتا ، بینک اکاؤنٹس سے رقم چوری کر کے بیرون ملک نکلوا لی گئی۔

اخباری اطلاعات کے مطابق ملک کے مختلف شہروں سے کھاتیداروں کو اکاؤنٹس سے جعل سازی سے پیسے نکلوائے جانے کی شکایات ملی ہیں۔لیکن حقیقت میں سائبر کرائم کی اس لپیٹ کے اثرات بینکوں پر بھی پڑے ہیں تاہم بینکوں کی انتظامیہ نے اپنے صارفین کو یقین دلا یا ہے کہ ان کے سسٹم پر کوئی سائبر حملہ نہیں ہوا ، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کسٹمرز کا ڈیٹا محفوظ ہے، یہ ایک خوش آیند بات ہے۔


یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بینکاری سسٹم میں جعلسازی کے ذریعہ دخل در معقولات سے سائبر کرائمز یونٹ کی فعالیت پر سوالات کھڑے ہوئے ہیں، لوگ پوچھتے ہیں کہ منی لانڈرنگ اسکینڈلز، کسی فالودہ والے یا عام شہری کے اکاؤنٹس میں اربوں روپے کیسے آئے ،ان رقوم کی ٹرانزیکشن کیسے ہوئی، حکومت ان اربوں بے نامی رقوم کی فوری ضبطی سے متعلق اقدامات پر سست روی کا شکار کیوں ہے۔

ایک اطلاع یہ ہے کہ پیدا شدہ صورتحال میں ملک میں بڑے مالیت کے انعامی بانڈز کی خریداری میں ریکارڈ اضافہ ہوگیا ہے، ادارہ قومی بچت کے مطابق پرائز بانڈز کی فروخت میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں52 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ماہرین کا کہنا ہے کہ انعامی بانڈز کی طلب میں ریکارڈ اضافہ ایف بی آر کی جانب سے بینک ٹرانزیکشن اور کھاتوں کی نگرانی میں سختی کے باعث ہوا، تاجر برادری نے بھی اب نقد میں لین دین کے بجائے پرائز بانڈ میں ادائیگیاں کرنا شروع کر دی ہیں۔

ایک آئی ٹی ماہر کے مطابق کمپیوٹر کی دنیا میں ''ہیکنگ'' یا ''کریکنگ'' کی اصطلاح ذاتی معلومات کو چرانے کے ضمن میں استعمال کی جاتی ہے لیکن ہر صورت میں ''ہیکر'' کو آپ کے پاس ورڈ یا دیگر نجی معلومات تک رسائی حاصل کرنا ہوتی ہے۔

حالیہ آن لائن بینکنگ فراڈ میں بھی بغیر پاس ورڈ کے ہیکرز کا اکاؤنٹس کو ہیک کرلینا ممکن نہیں تھا، اس کیس میں بھی ہیکرز نے جعل سازی کے ذریعے بینک تفصیلات (کریڈٹ/ ڈیبٹ کارڈ کے پن کوڈ) وغیرہ حاصل کرنے کے بعد متاثرین کو ان کی رقوم محروم کردیا۔

یہ بات حیران کن ہے کہ کس طرح پڑھے لکھے لوگ بھی آن لائن فراڈ کا شکار ہورہے ہیں جب کہ آن لائن فراڈ اور ہیکنگ سے لوگوں کو خبردار کیا جاتا رہا ہے۔ آن لائن فراڈ سے بچنے کے لیے لازم ہوگا کہ اپنی نجی معلومات، بینک کی تفصیلات اور پاس ورڈز کسی اور کو فراہم نہ کی جائے، یہاں تک کہ کوئی خود کو بینک کا عہدیدار ہی ظاہر کیوں نہ کرے۔ جب کہ یہ بات بھی ذہن نشین کرنے کی ہے کہ ہیکرز آپ کا پاس ورڈ اور معلومات دیگر ذرایع سے بھی حاصل کرسکتے ہیں، جس کا عام طریقہ کار آپ کے کمپیوٹر یا موبائل تک رسائی ہے۔

ایسے ہیکرز ایک مخصوص تکنیک فشنگ (phishing) کے ذریعے آپ کے بینک ویب سائٹ جیسا پیج لاگ اِن کرنے کے لیے بھیج سکتے ہیں جس پر اپنا پاس ورڈ ڈالتے ہی وہ ہیکرز تک پہنچ جائے گا۔ ''شولڈر سرفنگ'' کے ذریعے بھی آپ کا پاس ورڈ معلوم کیا جاسکتا ہے، اس لیے مناسب ہوگا کہ پاس ورڈ لکھتے ہوئے اپنے پیچھے دیکھ لیں کہ کوئی آپ پر نظر تو نہیں رکھے ہوئے ہے۔

اس کے علاوہ ایسی ویب سائٹس جو فری ڈاؤن لوڈنگ کی سہولت مہیا کرتی ہیں وہاں سے بھی کئی وائرس اور ٹروجنز آپ کے کمپیوٹر میں آسکتے ہیں جن کا استعمال کرکے ہیکر آپ کی نجی معلومات چرا سکتے ہیں۔حکومت اور مالیاتی اداروںکو سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے فول پروف اقدامات کرنے چاہئیں۔
Load Next Story