پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کوکوئی خطرہ نہیں ڈاکٹر عبدالقدیرخان
اس وقت پاکستان کوبہت سارے مسائل درپیش ہیں تاہم ان میں سب سےسنجیدہ معاملہ امریکاکی بےجا مداخلت ہے، ڈاکٹر عبدالقدیرخان۔
مشرف غدار ہے،سینٹری فیوج مشینیںتک امریکا کے حوالے کردیں،جریدے کوانٹرویو۔ فوٹو: فائل
ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیرنے کہا ہے کہ اس وقت ہماری ایٹمی قوت کوکوئی خطرہ درپیش نہیں۔ مشرف کے دورحکومت میں اس نے ہمارے سارے خفیہ رازیہاں تک کہ انتہائی خفیہ سینٹری فیوج مشینیں تک امریکاکودے دی تھیں اور اسی وجہ سے میں ان کو غدارسمجھتا ہوں۔
ایک ملکی جریدے کوخصوصی انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانیاس وقت پاکستان کو بہت سارے مسائل درپیش ہیں تاہم ان میں سب سے سنجیدہ معاملہ امریکاکی بے جا مداخلت ہے نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کو بہت سارے مسائل درپیش ہیں تاہم ان میں سب سے سنجیدہ معاملہ امریکاکی بے جا مداخلت ہے جسکی وجہ سے قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچ رہا ہے اور اس کی وجہ سے نہ صرف مزاحمتی جنگجو پیدا ہو رہے ہیں بلکہ ہماری قوم کا شیرازہ بکھر رہا ہے امریکاکے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںپاکستان کے تعاون کے حوالے سے انھوںنے کہا کہ یہ ایک فاش غلطی تھی جوایک ڈکٹیٹر نے اپنی غیر آئینی حکومت کو قانونی حیثیت دینے کیلیے کیا تھا ہمیں اس جنگ سے باہر آنا پڑے گا ۔
انھوںنے کہاکہ مشرف کیخلاف مقدمہ چلایا جانا چاہیے اور مجرم ہونے کی صورت اسے سزا ملنی چاہیے کیونکہ وہ بلوچ رہنما اکبر بگٹی کے قتل میں بھی ملوث تھے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے طالبان یا دوسرے جنگجوئوں کے ہاتھ لگنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس وقت تک ایسا ممکن نہیں ڈاکٹر قدیر کا کہنا تھا کہ اسٹرٹیجک پلاننگ ڈویژن کے ڈی جی جنرل قدوائی اور ڈی جی سیکیورٹی جنرل طاہر پروفیشنل فوجی ہیں انھوں نے جوہری تنصیبات کا ایئرٹائٹ سیکیورٹی نظام تشکیل دیا ہے ۔
ایک ملکی جریدے کوخصوصی انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانیاس وقت پاکستان کو بہت سارے مسائل درپیش ہیں تاہم ان میں سب سے سنجیدہ معاملہ امریکاکی بے جا مداخلت ہے نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کو بہت سارے مسائل درپیش ہیں تاہم ان میں سب سے سنجیدہ معاملہ امریکاکی بے جا مداخلت ہے جسکی وجہ سے قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچ رہا ہے اور اس کی وجہ سے نہ صرف مزاحمتی جنگجو پیدا ہو رہے ہیں بلکہ ہماری قوم کا شیرازہ بکھر رہا ہے امریکاکے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںپاکستان کے تعاون کے حوالے سے انھوںنے کہا کہ یہ ایک فاش غلطی تھی جوایک ڈکٹیٹر نے اپنی غیر آئینی حکومت کو قانونی حیثیت دینے کیلیے کیا تھا ہمیں اس جنگ سے باہر آنا پڑے گا ۔
انھوںنے کہاکہ مشرف کیخلاف مقدمہ چلایا جانا چاہیے اور مجرم ہونے کی صورت اسے سزا ملنی چاہیے کیونکہ وہ بلوچ رہنما اکبر بگٹی کے قتل میں بھی ملوث تھے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے طالبان یا دوسرے جنگجوئوں کے ہاتھ لگنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس وقت تک ایسا ممکن نہیں ڈاکٹر قدیر کا کہنا تھا کہ اسٹرٹیجک پلاننگ ڈویژن کے ڈی جی جنرل قدوائی اور ڈی جی سیکیورٹی جنرل طاہر پروفیشنل فوجی ہیں انھوں نے جوہری تنصیبات کا ایئرٹائٹ سیکیورٹی نظام تشکیل دیا ہے ۔