نیسٹ کی دوسری 2 روزہ اسٹارٹ اپ کانفرنس کا انعقاد
باصلاحیت نوجوانوں کے150تخلیقی آئیڈیازسرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیے گئے۔
جہاں آرا،فیصل آفتاب،سی اواو‘ایچ بی ایل کے علاوہ ماہرہ خان ودیگرنے اظہارخیال کیا۔ فوٹو: سوشل میڈیا
پاکستان کے باصلاحیت نوجوانوں کے تخلیقی کاروباری آئیڈیاز نے ملکی و غیرملکی سرمایہ کاروں کو موثر انداز میں اپنی جانب متوجہ کرلیا۔
ٹیکنالوجی آئیڈیاز کی نشوونما کے حوالے سے نمایاں مقام رکھنے والے انکوبیٹر نیسٹ آئی او کے تحت کراچی میں جاری دو روزہ اسٹارٹ اپ کانفرنس میں 150 تخلیقی آئیڈیاز سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیے جارہے ہیں۔ دو روزہ کانفرنس کو ''زیرو ٹو ون ڈسٹرپٹ 2018'' کا نام دیا گیا ہے جس میں 750سے زائد مندوبین شریک ہیں جن میں مقامی ماہرین اور سرمایہ کاروں کے ساتھ بین الاقوامی سرمایہ کار، کیپیٹل فنڈز، ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی ماہرین شامل ہیں۔
اسٹارٹ اپ کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب اور ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے نیسٹ آئی او کی سربراہ جہاں آرا نے کہا کہ نیسٹ کی دوسری اسٹارٹ اپ کانفرنس میں شرکا، اسٹارٹ اپس اور سرمایہ کاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کانفرنس میں پاکستان کے وینچر کیپیٹل فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ بین الاقوامی فنڈ منیجرز اور مشاورت فراہم کرنے والے ماہرین بھی شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اسٹارٹ اپ کانفرنس کے انعقاد سے جہاں پاکستانی نوجوانوں کا ٹیلنٹ سامنے لانے اور ڈیجیٹل ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی وہیں غیر ملکی مندوبین واپس جاکر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بارے میں مثبت تاثر کو بھی فروغ دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ہونے والی کانفرنس کے نتیجے میں تین اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کی راہ ہموا ر ہوئی اور اس سال بھی اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کے پانچ بڑے اعلانات متوقع ہیں۔کانفرنس کے اسپانسر لیکسن انویسٹمنٹ وینچر کیپیٹل کے منیجنگ پارٹنر وینچر کیپیٹل فیصل آفتاب نے کانفرنس کے انعقاد کو سراہتے ہوئے اسے وینچر کیپیٹل کے ذریعے سرمایہ کاری کے فروغ کا موثر ذریعہ قرار دیا۔
ایچ بی ایل کے چیف آپریٹنگ آفیسر نے کارپوریٹ اداروں اور اسٹارٹ اپس کے درمیان مضبوط تعلق کی اہمیت پر روشنی ڈالی انہوں نے فن ٹیک اور بینکوں کے درمیان فطری ہم آہنگی اور مل کر کام کرنے کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔
دوسرے سیشن کے اختتام سے قبل ٹی وی ہوسٹ ضرار کھوڑو کی میزبانی میں ''متاثر کن نوجوانوں '' نے مباحثہ کی شکل میں متاثر کرنے کی طاقت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جس میں معروف فنکارہ ماہرہ خان، علی گل پیر، مزمل حسن، تیمور صلاح الدین، آمنہ نیازی اور دانش علی نے حصہ لیا اور اپنے کیریئر سمیت مداحوں کے متاثر ہونے کے منفرد واقعات سنائے۔
ماہرہ خان کا کہنا تھاکہ عوامی شخصیات کی پبلک اور نجی زندگی میں فرق کرنا ضروری ہے، مداحوں کی توقعات کے ساتھ متاثر کن شخصیات کو اپنی زندگی بھی گزارنے کا حق ہے، پینل کے شرکانے مداحوں سے جڑے رہنے کیلیے فلم اور ٹی وی کے روایتی میڈیم کے ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور بلاگز کی اہمیت اور اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔
ٹیکنالوجی آئیڈیاز کی نشوونما کے حوالے سے نمایاں مقام رکھنے والے انکوبیٹر نیسٹ آئی او کے تحت کراچی میں جاری دو روزہ اسٹارٹ اپ کانفرنس میں 150 تخلیقی آئیڈیاز سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیے جارہے ہیں۔ دو روزہ کانفرنس کو ''زیرو ٹو ون ڈسٹرپٹ 2018'' کا نام دیا گیا ہے جس میں 750سے زائد مندوبین شریک ہیں جن میں مقامی ماہرین اور سرمایہ کاروں کے ساتھ بین الاقوامی سرمایہ کار، کیپیٹل فنڈز، ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی ماہرین شامل ہیں۔
اسٹارٹ اپ کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب اور ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے نیسٹ آئی او کی سربراہ جہاں آرا نے کہا کہ نیسٹ کی دوسری اسٹارٹ اپ کانفرنس میں شرکا، اسٹارٹ اپس اور سرمایہ کاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کانفرنس میں پاکستان کے وینچر کیپیٹل فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ بین الاقوامی فنڈ منیجرز اور مشاورت فراہم کرنے والے ماہرین بھی شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اسٹارٹ اپ کانفرنس کے انعقاد سے جہاں پاکستانی نوجوانوں کا ٹیلنٹ سامنے لانے اور ڈیجیٹل ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی وہیں غیر ملکی مندوبین واپس جاکر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بارے میں مثبت تاثر کو بھی فروغ دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ہونے والی کانفرنس کے نتیجے میں تین اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کی راہ ہموا ر ہوئی اور اس سال بھی اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کے پانچ بڑے اعلانات متوقع ہیں۔کانفرنس کے اسپانسر لیکسن انویسٹمنٹ وینچر کیپیٹل کے منیجنگ پارٹنر وینچر کیپیٹل فیصل آفتاب نے کانفرنس کے انعقاد کو سراہتے ہوئے اسے وینچر کیپیٹل کے ذریعے سرمایہ کاری کے فروغ کا موثر ذریعہ قرار دیا۔
ایچ بی ایل کے چیف آپریٹنگ آفیسر نے کارپوریٹ اداروں اور اسٹارٹ اپس کے درمیان مضبوط تعلق کی اہمیت پر روشنی ڈالی انہوں نے فن ٹیک اور بینکوں کے درمیان فطری ہم آہنگی اور مل کر کام کرنے کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔
دوسرے سیشن کے اختتام سے قبل ٹی وی ہوسٹ ضرار کھوڑو کی میزبانی میں ''متاثر کن نوجوانوں '' نے مباحثہ کی شکل میں متاثر کرنے کی طاقت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جس میں معروف فنکارہ ماہرہ خان، علی گل پیر، مزمل حسن، تیمور صلاح الدین، آمنہ نیازی اور دانش علی نے حصہ لیا اور اپنے کیریئر سمیت مداحوں کے متاثر ہونے کے منفرد واقعات سنائے۔
ماہرہ خان کا کہنا تھاکہ عوامی شخصیات کی پبلک اور نجی زندگی میں فرق کرنا ضروری ہے، مداحوں کی توقعات کے ساتھ متاثر کن شخصیات کو اپنی زندگی بھی گزارنے کا حق ہے، پینل کے شرکانے مداحوں سے جڑے رہنے کیلیے فلم اور ٹی وی کے روایتی میڈیم کے ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور بلاگز کی اہمیت اور اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔