امپورٹرز کا پرتعیش اشیا کی ازسرنو درجہ بندی کا مطالبہ

مروجہ ڈیوٹیز کے باعث اسمگلنگ،انڈرانوائسنگ اورمس ڈیکلریشن بڑھ رہی ہے

گروسری آئٹمزکوفہرست سے نکالاجائے،فائنل ٹیکس ریجیم کی بحالی پر بھی زور۔ فوٹو: فائل

PESHAWAR:
درآمدکنندگان نے اشیائے تعیش کی ازسرنو کلاسیفکیشن کرتے ہوئے اس فہرست سے گروسری آئٹمزکے انخلا کا مطالبہ کردیا ہے۔

پاکستان ایف ایم سی جی ایسوسی ایشن (پی ایف آئی اے) نے کہا ہے کہ مذکورہ اقدام سے صارفین اعلیٰ معیار کی درآمدی گروسری مصنوعات سے استفادہ کرسکیں گے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق سابقہ اور موجودہ حکومت نے ریونیو میں اضافے کے لیے مصنوعات کی ایک کثیر تعداد پر یک جنبش قلم ریگولیٹری ڈیوٹی عائدکردی یا پہلے سے عائدریگولیٹری کی شرح میں اضافہ کردیا ہے جو گروسری آئٹمزمیں شامل ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف صارفین پر مالیت کابوجھ بڑھ گیاہے بلکہ قانونی درآمدکنندگان کی بھی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔


انجم نثار کی صدارت میں منعقدہ ایسوسی ایشن کے اجلاس میں اراکین نے زائدکسٹمزٹیرف اور غیرمنصفانہ ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ سے پیدا ہونے والے کاروباری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تجارتی شعبے سے متعلق فیصلے زمینی حقائق کی بنیاد پر کرے۔ اجلاس نے فیصلہ کیاکہ قانونی درآمدکنندگان کے مسائل کے حل کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کی جائے گی اور اس مقصدکے لیے وزیر خزانہ اسد عمر اور مشیر عبدالرزاق داؤد سے بھی ملاقات کی جائے گی۔

اجلاس میں کہا گیا کہ مروجہ کسٹمز ڈیوٹی کے ٹیرف اور ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ سے قومی خزانے میں ریونیو کا حجم بڑھنے کے بجائے اسمگلنگ، انڈر انوائسنگ اورمس ڈیکلریشن کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ اجلاس میں درآمد کنندگان کے لیے فائنل ٹیکس ریجیم کی بحالی کا بھی مطالبہ کیاگیا۔

 
Load Next Story