درآمدی رعایتوں کے ناجائز استعمال سے ٹیکس چوری کا انکشاف
52کروڑ کی ٹیکس چوری میں ملوث لاہورکے11جعلی ٹیکسٹائل یونٹس پکڑے گئے
محکمہ آئی اینڈآئی کی چیف کمشنرآئی آرسے یونٹس کوبلیک لسٹ کرنے کی استدعا۔ فوٹو : فائل
ملک بھر میں ایف بی آر حکام کی ملی بھگت سے بڑے پیمانے پر جعلی ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ یونٹس کی رجسٹریشن کے ذریعے اربوں روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آرکے ماتحت ادارے ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو لاہورنے مجموعی طور پر 52 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کی ٹیکس چوری میں ملوث گیارہ جعلی ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ یونٹس کا سْراغ لگا کر ٹیکس چوری پکڑ لی ہے اور متعلقہ چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو کو ان گیارہ جعلی مینوفیکچررز کی رجسٹریشن منسوخ کرکے انہیں بلیک لسٹ قرار دینے کی درخواست کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو لاہور نے اپنی حدود میں جولائی 2014 سے 2018 کے دوران باون کروڑ بیس لاکھ روپے کی ٹیکس چوری و فراڈ کے گیارہ کیس پکڑے ہیں جبکہ مزید کے خلاف ابتدائی انکوائری جاری ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ملک میں جعلسازی اور فراڈ کے ذریعے اشیا کی درآمد کیلیے زیرو ریٹنگ کی سہولت حاصل کی جارہی ہے اور حکومت کی جانب سے ٹیکسٹائل سمیت دیگر زیرو ریٹڈ شعبوں کے مینوفیکچررز کو برآمدی اشیا میں استعمال ہونے والے خام مال کی درآمد کیلیے جاری کردہ ایس آر او کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہورہا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جننس ان لینڈ ریونیو لاہور نے چھان بین کے دوران ان گیارہ لوگوں کا سراغ لگایا جنہوں نے خود کو بطور مینوفیکچرر ظاہر کرکے رجسٹرڈ کرا رکھا تھا۔ ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جننس کی ٹیم جب ان کے دیے گئے پتے پر پہنچی تو بطور مینوفیکچرنگ یونٹ رجسٹریشن کیلیے جو پتہ دیا گیا تھا وہاں کوئی مینوفیکچرنگ یونٹ موجود ہی نہ تھا اور جعلی رجسڑریشن پر اشیا درآمد کرکے فراڈ کے ذریعے ٹیکس چوری کی جارہی تھی۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آرکے ماتحت ادارے ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو لاہورنے مجموعی طور پر 52 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کی ٹیکس چوری میں ملوث گیارہ جعلی ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ یونٹس کا سْراغ لگا کر ٹیکس چوری پکڑ لی ہے اور متعلقہ چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو کو ان گیارہ جعلی مینوفیکچررز کی رجسٹریشن منسوخ کرکے انہیں بلیک لسٹ قرار دینے کی درخواست کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو لاہور نے اپنی حدود میں جولائی 2014 سے 2018 کے دوران باون کروڑ بیس لاکھ روپے کی ٹیکس چوری و فراڈ کے گیارہ کیس پکڑے ہیں جبکہ مزید کے خلاف ابتدائی انکوائری جاری ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ملک میں جعلسازی اور فراڈ کے ذریعے اشیا کی درآمد کیلیے زیرو ریٹنگ کی سہولت حاصل کی جارہی ہے اور حکومت کی جانب سے ٹیکسٹائل سمیت دیگر زیرو ریٹڈ شعبوں کے مینوفیکچررز کو برآمدی اشیا میں استعمال ہونے والے خام مال کی درآمد کیلیے جاری کردہ ایس آر او کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہورہا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جننس ان لینڈ ریونیو لاہور نے چھان بین کے دوران ان گیارہ لوگوں کا سراغ لگایا جنہوں نے خود کو بطور مینوفیکچرر ظاہر کرکے رجسٹرڈ کرا رکھا تھا۔ ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جننس کی ٹیم جب ان کے دیے گئے پتے پر پہنچی تو بطور مینوفیکچرنگ یونٹ رجسٹریشن کیلیے جو پتہ دیا گیا تھا وہاں کوئی مینوفیکچرنگ یونٹ موجود ہی نہ تھا اور جعلی رجسڑریشن پر اشیا درآمد کرکے فراڈ کے ذریعے ٹیکس چوری کی جارہی تھی۔