جرمنی اور فرانس کی یورپی اتحاد کو مزید مضبوط کرنے کی کوششیں
نازی جرمنی کے ایڈولف ہٹلر نے 1940ء میں فرانس پر حملہ کر کے اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا تھا
نازی جرمنی کے ایڈولف ہٹلر نے 1940ء میں فرانس پر حملہ کر کے اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا تھا۔ فوٹو: فائل
جنگ عظیم اول کی بارود اگلتی توپوں اور بندوقوں کی گولہ باری کو ختم ہوئے پورے ایک سو سال کا عرصہ بیت گیا ہے ' فرانس اور جرمنی کے لیڈر جو جنگ میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے' اب ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر امن معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔گزشتہ روز فرانسیسی صدر عمانوئیل میکرون اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے مشترکہ فرنچ جرمن بریگیڈ کے فوجی دستوں کا معائنہ کیا اور اس موقع پر امن کی ایک یاد گار تختی جاری کی گئی جب کہ دو عالمی جنگوں کے دشمن اب دوستی پر آمادہ ہو گئے۔
1914ء سے 1918ء تک جاری رہنے والی اس عالمی جنگ میں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ فوجی ہلاک ہوئے جن میں تیس لاکھ جرمن اور فرانسیسی فوجی بھی شامل تھے۔ سب سے زیادہ شدید جنگ شمالی فرانس اور بلجیم کی خندقوں میں لڑی گئی۔ ایک جرمن جنگی وفد نے 11نومبر 1918ء کو فرانسیسی افواج کے کمانڈر کی ٹرین میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے جس کے نتیجے میں صبح11بجے جنگ بند ہو گئی۔ ٹھیک ایک صدی کے وقفے کے بعدیورپ کی ان دونوں متحارب طاقتوں میں باہمی اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا۔ جرمن اور فرنچ لیڈر بھی ایک ریلوے ویگن میں بیٹھے ہوئے تھے جنھوں نے ایک یاد گاری کتاب پر دستخط کیے۔ دستخطوں کے بعد دونوں نے دوبارہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیا۔
اس سے قبل فرانسیسی اور جرمنی کے وفود اس مقام پر اس وقت بیٹھے تھے جب نازی جرمنی کے ایڈولف ہٹلر نے 1940ء میں فرانس پر حملہ کر کے اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا تھا۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد سے فرانس اور جرمنی نے یورپی ممالک کے باہمی تعاون کو بڑھانے کی شد و مد سے کوشش کی جس کے نتیجے میں یورپی یونین دنیا کے سب سے بڑے تجارتی بلاک کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ فرانس کے 40 سالہ صدر میکرون نے جو یورپی اتحاد کو مضبوط کرنے کے زبردست حامی ہیں انھوں نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل کو اس معاملے میں تعاون کی درخواست کی ہے اور 64 سالہ انجیلا مرکل پر زور دیا ہے کہ وہ پورے یورپ کی مشترکہ کرنسی اختیار کرنے کی ان کی خواہش میں ان کی مدد کریں لیکن مرکل کی حکومت چونکہ اتحادی حکومت ہے اس لیے وہ اپنے طور پر کوئی بڑا اقدام نہیں کر سکتی۔
گزشتہ ہفتے فرانسیسی صدر نے قدیمی جنگی محاذوں کا دورہ بھی کیا اور مغربی محاذ کے ایک مقام پر انھوں نے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کے ساتھ مل کر جنگ میں کام آنے والے فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پھولوں کی ایک چادر بھی فوجیوں کی یاد گار پر چڑھائی۔ یوں فرانس اور جرمنی ماضی سے سبق سیکھ کر اب بے مثال امن کے راستے پر گامزن ہیں اور یورپ کے اتحاد کے لیے کوشاں ہیں۔
1914ء سے 1918ء تک جاری رہنے والی اس عالمی جنگ میں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ فوجی ہلاک ہوئے جن میں تیس لاکھ جرمن اور فرانسیسی فوجی بھی شامل تھے۔ سب سے زیادہ شدید جنگ شمالی فرانس اور بلجیم کی خندقوں میں لڑی گئی۔ ایک جرمن جنگی وفد نے 11نومبر 1918ء کو فرانسیسی افواج کے کمانڈر کی ٹرین میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے جس کے نتیجے میں صبح11بجے جنگ بند ہو گئی۔ ٹھیک ایک صدی کے وقفے کے بعدیورپ کی ان دونوں متحارب طاقتوں میں باہمی اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا۔ جرمن اور فرنچ لیڈر بھی ایک ریلوے ویگن میں بیٹھے ہوئے تھے جنھوں نے ایک یاد گاری کتاب پر دستخط کیے۔ دستخطوں کے بعد دونوں نے دوبارہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیا۔
اس سے قبل فرانسیسی اور جرمنی کے وفود اس مقام پر اس وقت بیٹھے تھے جب نازی جرمنی کے ایڈولف ہٹلر نے 1940ء میں فرانس پر حملہ کر کے اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا تھا۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد سے فرانس اور جرمنی نے یورپی ممالک کے باہمی تعاون کو بڑھانے کی شد و مد سے کوشش کی جس کے نتیجے میں یورپی یونین دنیا کے سب سے بڑے تجارتی بلاک کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ فرانس کے 40 سالہ صدر میکرون نے جو یورپی اتحاد کو مضبوط کرنے کے زبردست حامی ہیں انھوں نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل کو اس معاملے میں تعاون کی درخواست کی ہے اور 64 سالہ انجیلا مرکل پر زور دیا ہے کہ وہ پورے یورپ کی مشترکہ کرنسی اختیار کرنے کی ان کی خواہش میں ان کی مدد کریں لیکن مرکل کی حکومت چونکہ اتحادی حکومت ہے اس لیے وہ اپنے طور پر کوئی بڑا اقدام نہیں کر سکتی۔
گزشتہ ہفتے فرانسیسی صدر نے قدیمی جنگی محاذوں کا دورہ بھی کیا اور مغربی محاذ کے ایک مقام پر انھوں نے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کے ساتھ مل کر جنگ میں کام آنے والے فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پھولوں کی ایک چادر بھی فوجیوں کی یاد گار پر چڑھائی۔ یوں فرانس اور جرمنی ماضی سے سبق سیکھ کر اب بے مثال امن کے راستے پر گامزن ہیں اور یورپ کے اتحاد کے لیے کوشاں ہیں۔