معاشی مشکلات اور حکومت کی پالیسیاں

اگر حکومت معاشی فضا کو ڈپریشن اور ناامیدی سے نہ نکال سکی تو ملک مزید بحران کا شکار ہو جائے گا۔

اگر حکومت معاشی فضا کو ڈپریشن اور ناامیدی سے نہ نکال سکی تو ملک مزید بحران کا شکار ہو جائے گا۔ فوٹو: فائل

ملکی معاشی صورت حال مجموعی طور پر بحرانی کیفیت سے دوچار ہے' ملکی نظام بہتر بنانے اور ملک کو خوشحالی اور ترقی کی پٹڑی پر چڑھانے کے لیے حکومت کی راہ میں ہزاروں چیلنجز مزاحم ہیں۔

سب سے پہلا اور فوری چیلنج سرمائے کی کمی کا درپیش ہے اور اس مہم جوئی میں کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لیے وزیراعظم سے لے کر وزراء تک کوشش کر رہے ہیں۔ معاشی بحالی کی نبرد آزمائی میں وزیراعظم نے غیرملکی دوروں سے سرمائے کے حصول کو آسان ہدف سمجھتے ہوئے اس جانب پیش قدمی کی ۔

سعودی عرب سے مدد کی جتنی بڑی توقعات وابستہ تھیں وہ بر نہیں آ سکیں' مگر سعودی عرب نے بھی بھائی چارے کا حق ادا کرتے ہوئے وزیراعظم کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا اور وہ اپنے دامن میں 3ارب ڈالر کا سرمایہ اور 3ارب ڈالر کا ادھار تیل سمیٹ کر عازم وطن ہوئے۔

چین نے معاہدوں پر دستخط کے سوا کوئی بڑی رقم نہیں دی جس سے بے ساکھیوں کے سہارے ڈگمگاتی ہوئی ملکی معیشت کے سنبھلنے اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے آثار ہویدا ہوتے۔ لیکن وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ ان غیرملکی دوروں سے معاشی بحران ٹلنے کی نوید سنا اور دعوے کر رہے ہیں کہ ادائیگیوں کا بحران ٹل گیا اور اب ڈیفالٹ ہونے کا کوئی خطرہ ملکی معیشت کو دبوچنے کے لیے موجود نہیں' بیلنس آف پیمنٹ راہ راست پر آنے سے معاملات درستگی کی جانب رواں دواں ہیں۔ یہ خوش آیند بات ہے۔

عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف 18اگست کو اٹھایا' ان 86/87 دنوں میں حکومت نے ملکی نظام کو دیمک کی طرح چاٹتی ہوئی کرپشن کا جس طرح بار بار ملکی اور غیر ملکی سطح پر ذکر کیا اس سے بظاہر ناامیدی کے تاثرات ہی پیدا ہوئے' اور اس کا نفسیاتی اثر یہ ہوا کہ ملکی اور غیرملکی سرمایہ کار پاکستان کو اپنے لیے غیرمحفوظ تصور کرنے لگا۔

حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ کرپشن کے خاتمے کے لیے تگ و دو ضرور کرتی مگر اس کے ساتھ ساتھ معاشی نظام کو آگے بڑھانے کے لیے بہتر تجارتی اور کاروباری پالیسیوں کا اعلان کرتی، اس سے منفی پراپیگنڈے اور ناامیدی کے بادل چھٹ جاتے اور خوف و خدشات کی جو مسموم فضا چھائی ہوئی ہے وہ ختم ہو جاتی۔ حکومت نے معاشی مشکلات سے نبرد آزمائی میں پٹرول' بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو آسان ہدف گردانا۔ ڈالر کی تیز اڑان نے روپے کی قدر میں کمی کی تو اسٹاک مارکیٹ ہچکولے کھانے لگی۔


اب صورت حال یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ڈالر کی قدر میں اضافے کے باعث تمام اشیائے خورونوش کی قیمتوں کا گراف بڑی تیزی سے اوپر چلا گیا جس کا بوجھ عام آدمی پر پڑا ہے جو پہلے ہی اس بوجھ کے تلے کراہ رہا تھا۔

تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بھی ہر قسم کی مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا ہے' ٹرانسپورٹرز کو بھی کرایوں میں از خود اضافے کا بہانہ مل گیا ہے جس سے ہر چیز کی قیمتوں میں اضافے کے عمل کو تقویت ملی۔ وزیراعظم عمران خان غربت کے خاتمے اور فٹ پاتھ پر پڑے ہوئے آدمی کو سہارا دینے کے لیے ''پناہ گاہ'' کے نام سے شیلٹر ہوم کا سنگ بنیاد رکھ اور پورے ملک میں ایسے شیلٹر ہوم قائم کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔

بظاہر یہ اسکیم خوش کن ہے اور بے گھر اور بے سہارا لوگوں کو پناہ کے نام پر تحفظ مل رہا ہے مگر حکومت کو یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ یہاں ملکی آبادی کا بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور حکومتی وسائل محدود ہیں۔

ورلڈ بینک کی پاکستان میں غربت کے حوالے سے جاری رپورٹ کے مطابق 80فیصد دیہی آبادی غربت اور ناداری کا شکار ہے جسے صحت و صفائی' صاف پانی اور تعلیم کی فراہمی جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں' سب سے زیادہ بلوچستان کی 65فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے' سندھ' پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی صورت حال اس سے مختلف نہیں۔

دیہی علاقوں میں غربت کی وجوہات میں سے ایک وجہ قبائلی اور سرداری نظام بھی ہے' یہ سردار اور وڈیرے شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں اور وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو بنیادی حقوق دینے کے لیے آمادہ نہیں۔ تحریک انصاف کے ایجنڈے میں سرداری نظام کے خاتمے اور زرعی اصلاحات کا کوئی ذکر نہیں بلکہ اس کی حکومت میں سردار اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

ابھی تک تحریک انصاف ان توقعات کو پورا کرتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہی جن کو بنیاد بنا کر وہ تخت حکومت پر متمکن ہوئی ہے' صنعتی اور کاروباری ماحول میں تناؤ کی کیفیت معاشی ڈپریشن کو بدستور برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اگر حکومت معاشی فضا کو ڈپریشن اور ناامیدی سے نہ نکال سکی تو ملک مزید بحران کا شکار ہو جائے گا۔ حکومت کو ایسی معاشی پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی جس سے شہروں اور دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی بروقت فراہمی کے ساتھ ساتھ روز گار کے وسیع مواقع پیدا ہوں۔
Load Next Story