مضر صحت کھانے سے دو معصوم بچوں کی ہلاکت

انسانی جانوں سے کھیلنے والے اس کاروبارکو ضابطے میں لانے کی ضرورت ہے۔

انسانی جانوں سے کھیلنے والے اس کاروبارکو ضابطے میں لانے کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں مبینہ طور پرمضر صحت کھانا کھانے سے2 انتہائی کم سن سگے بھائی جاں بحق، تاہم ڈاکٹرز بچوں کی والدہ کی جان بچانے میں کامیاب ہوگئے، متاثرہ خاندان نے ایک ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا تھا،گو اس سانحے کے بعد پوری انتظامی مشینری حرکت میں آئی اور ریسٹورنٹ سربمہر (سیل) کردیا لیکن سوال یہ ہے کہ اس دلخراش سانحے کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے ؟ریسٹورنٹ کے عملے اور مالکان پر جنھوں نے مضرصحت کھانا فراہم کیا یا پھر وہ متعلقہ سرکاری محکمے جن کا فرض ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء کی کوالٹی کو چیک کریں ۔

سرکاری سطح پر ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اور سندھ فوڈ اتھارٹی نامی محکمے موجود ہیں ، ان اداروں کے اہلکار حکومت کے خزانے سے تنخواہیں تو باقاعدگی سے وصول کرتے ہیں لیکن جس کام کی تنخواہ لیتے ہیں وہ فیلڈ ورک نہیں کرتے، کسی ریسٹورنٹ یا ہوٹل کے کھانے کا معیار چیک کرنے کی زحمت تک نہیں کی جاتی ۔سانحہ ہوجائے تو الرٹ ہوجاتے ہیں، تاہم صورتحال اتنی سنگین ہے کہ عوام ان محکموں کے نام تک سے واقف نہیں۔


کڑوا سچ یہ ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں موجود سیکڑوں کی تعداد میں ریسٹورنٹس اور ہوٹلز میں حفظان صحت کے اصولوں کو نہ صرف نظر اندازکیا جاتا ہے بلکہ ان میں صفائی ستھرائی کا کوئی تصور سرے سے موجود نہیں۔

کھانے کی تیاری میں استعمال ہونے والی اشیاء پانی،گوشت ، مصالحوں کوکوئی چیک کرنے نہیں آتا ،گوشت اور دیگر محلول اورمصالحے کئی کئی دن تک فریج میں پڑے رہتے ہیں جب ان زائد المیعاد اشیاء کو استعمال میں لایا جاتا ہے تو وہ کھانے والوں کو متعدد امراض میں مبتلا کردیتے ہیں، محکمہ پولیس کو ان ریسٹورنٹس سے مفت کھانے کی عادت ہے۔ لہذا وہ چیکنگ کیوں کرنے لگے؟

انسانی جانوں سے کھیلنے والے اس کاروبارکو ضابطے میں لانے کی ضرورت ہے، ڈیڑھ اور پانچ سالہ سگے معصوم بچوں کی ہلاکت کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، پوسٹ مارٹم اورلیبارٹری ٹیسٹ کی رپورٹس آنے کے بعد حقائق واضح ہوں گے، حکومتی سطح پر محکمہ صحت کے افسران سے بھی باز پرس کی جانی چاہیے کہ آخر وہ اپنے فرائض سے غفلت کیوں برتتے ہیں ۔
Load Next Story