دشمن کے ہتھکنڈے اور پاکستان کا عزم
دشمن اپنی مخالف قوم کو شکست دینے کے لیے ہائیبرڈ جنگ یعنی ہمہ جہت حربے استعمال کرتا ہے۔
دشمن اپنی مخالف قوم کو شکست دینے کے لیے ہائیبرڈ جنگ یعنی ہمہ جہت حربے استعمال کرتا ہے۔ فوٹو: فائل
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت 215 ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قانون کی عملداری کے لیے تمام ریاستی اداروں کی معاونت جاری رکھی جائے گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں ملک کی سیکیورٹی صورتحال، پاک افغان سرحدپرباڑ لگانے،دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشنز، بھارت کی جانب سے سیز فائرمعاہدے کی خلاف ورزی' شہریوں کونشانہ بنانے کے واقعات اور مشرقی سرحد کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔
کور کمانڈرز کانفرنس کے شرکاء نے اس عزم کااظہار کیا کہ ملک کا استحکام اور خوشحالی قانون کی عملداری میں پوشیدہ ہے، قانون کی عملداری کے لیے تمام ریاستی اداروں سے معاونت جاری رکھی جائے گی۔کورکمانڈرزکانفرنس میں خطے میں قیام امن اوراستحکام کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیاگیا۔
قومی اور عالمی سطح پر پاکستان کو درپیش مشکلات اور چیلنجز کے حوالے سے بعض ناقدین ریاستی اداروں کے بارے میں آئے دن کوئی نہ کوئی ایشو کھڑا کرتے رہتے ہیں جس سے ملکی سلامتی اور استحکام کے بارے میں مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے اور تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے' جس سے ملک بھر میں مایوسی کی ایک فضا کا تاثر ابھرتا ہے۔
اس منفی تاثر کو زائل اور عوام کے ذہنوں میں جنم لینے والے خدشات کو دور کرنے کے لیے حکومتی اور عسکری قیادت کی جانب سے بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی اور نظریاتی جنگ ہے جس کے ذریعے بنا ہتھیاروں اور جنگ کے قوم کے حوصلے پست کرنے کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔
دشمن اپنی مخالف قوم کو شکست دینے کے لیے ہائیبرڈ جنگ یعنی ہمہ جہت حربے استعمال کرتا ہے' اس جنگ میں ملک کی معاشی صورت حال کو دگرگو ںظاہر کرنے کے علاوہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بڑی شد و مد سے نمایاں کیا جاتا ہے' حزب مخالف کے سیاستدانوں کو حکومت کے خلاف بھڑکانے کے لیے مالی معاونت اور تربیت فراہم کی جاتی ہے' اس طرح حکومتوںکی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر اور انھیں بے بس کر کے ملکی ترقی کے پہیہ کی رفتار کو انتہائی سست کر دیا جاتا ہے۔
اس جنگ کو مسلسل جاری رکھا جاتا اور قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کے ادارے اور حکومت صحیح طور پر اپنے فرائض سرانجام نہیں دے رہے' اس طرح ریاستی اداروں پر قوم کے اعتماد کو متزلزل کیا جاتا ہے۔ اگر دشمن اس نظریاتی جنگ میں مکمل کامیابی کے بجائے محدود حد تک بھی اپنے اہداف پورے کرنے میں کامیاب ہو جائے تو یہ کسی ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرے کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔
مشرقی اور مغربی پاکستان کی علیحدگی میں بھی ہائیبرڈ وار کا اہم کردار ہے۔ آج پھر اسی طرح کے حربے مسلسل استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ انتشار اور افراتفری پیدا کر کے موجودہ پاکستان کے مزید حصے بخرے کر دیے جائیں۔ کہیں اندرون ملک نظریاتی حربے استعمال کیے جا رہے ہیں تو کہیں سرحدوں پر امن و امان کی فضا خراب کرکے سیکیورٹی کے مسائل بڑھائے جا رہے ہیں۔ مشرقی سرحد پر کہیں بھارت آئے دن فائرنگ اور گولہ باری کرکے بے یقینی کی کیفیت کو بڑھاوا دیتا ہے تو کہیں شمال مغربی سرحد پر افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں کے حملے سیکیورٹی اداروں پر دباؤ بڑھا دیتے ہیں۔
بھارت سرحد پر تو صرف گولہ باری اور فائرنگ کرتا ہے جب کہ افغانستان کی جانب سے دہشتگردوں کے گروہ سیکیورٹی چوکیوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ ملک میں داخل ہو کر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں' منگل کو بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کے ایک گروپ نے افغان صوبہ کنڑ سے باجوڑ غاخی پاس پر حملہ کی کوشش کی تاہم پاک فورسز نے بروقت کارروائی کرکے حملہ ناکام بنا دیا اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس گمبھیر اور پیچیدہ صورت حال کے تناظر میں ملکی سلامتی کو مضبوط بنانے اور ریاستی اداروں کی معاونت اور ان کے اعتماد میں اضافے کے لیے کورکمانڈرز کانفرنس میں کیے گئے فیصلے خوش کن ہیں۔ جمہوریت کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو پسپا کرنے کے لیے کور کمانڈرز کانفرنس میں واضح کیا کہ ریاستی رٹ اور قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کے لیے تمام ریاستی اداروں کی حمایت جاری رکھی جائے گی' قانون پر عملدرآمد ہی سے امن و استحکام اور ملک کی خوشحالی ہے۔
افغانستان سے دہشت گردوں کی آمد اور حملے روکنے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام تیزی سے جاری ہے' اس باڑ کی تنصیب مکمل ہونے کے بعد اس جانب سے دہشت گردوں کے حملوں میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ دشمن کی طرف سے جاری کی گئی نظریاتی جنگ کو شکست دینے کے لیے ناگزیر ہے کہ حکومتی اور تمام ریاستی ادارے علمائے کرام' دانشوروں' ادباء اور عوامی حلقوں کو ایک پلیٹ فارم پر مشترکہ طور پر آگے بڑھنا ہو گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں ملک کی سیکیورٹی صورتحال، پاک افغان سرحدپرباڑ لگانے،دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشنز، بھارت کی جانب سے سیز فائرمعاہدے کی خلاف ورزی' شہریوں کونشانہ بنانے کے واقعات اور مشرقی سرحد کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔
کور کمانڈرز کانفرنس کے شرکاء نے اس عزم کااظہار کیا کہ ملک کا استحکام اور خوشحالی قانون کی عملداری میں پوشیدہ ہے، قانون کی عملداری کے لیے تمام ریاستی اداروں سے معاونت جاری رکھی جائے گی۔کورکمانڈرزکانفرنس میں خطے میں قیام امن اوراستحکام کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیاگیا۔
قومی اور عالمی سطح پر پاکستان کو درپیش مشکلات اور چیلنجز کے حوالے سے بعض ناقدین ریاستی اداروں کے بارے میں آئے دن کوئی نہ کوئی ایشو کھڑا کرتے رہتے ہیں جس سے ملکی سلامتی اور استحکام کے بارے میں مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے اور تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے' جس سے ملک بھر میں مایوسی کی ایک فضا کا تاثر ابھرتا ہے۔
اس منفی تاثر کو زائل اور عوام کے ذہنوں میں جنم لینے والے خدشات کو دور کرنے کے لیے حکومتی اور عسکری قیادت کی جانب سے بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی اور نظریاتی جنگ ہے جس کے ذریعے بنا ہتھیاروں اور جنگ کے قوم کے حوصلے پست کرنے کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔
دشمن اپنی مخالف قوم کو شکست دینے کے لیے ہائیبرڈ جنگ یعنی ہمہ جہت حربے استعمال کرتا ہے' اس جنگ میں ملک کی معاشی صورت حال کو دگرگو ںظاہر کرنے کے علاوہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بڑی شد و مد سے نمایاں کیا جاتا ہے' حزب مخالف کے سیاستدانوں کو حکومت کے خلاف بھڑکانے کے لیے مالی معاونت اور تربیت فراہم کی جاتی ہے' اس طرح حکومتوںکی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر اور انھیں بے بس کر کے ملکی ترقی کے پہیہ کی رفتار کو انتہائی سست کر دیا جاتا ہے۔
اس جنگ کو مسلسل جاری رکھا جاتا اور قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کے ادارے اور حکومت صحیح طور پر اپنے فرائض سرانجام نہیں دے رہے' اس طرح ریاستی اداروں پر قوم کے اعتماد کو متزلزل کیا جاتا ہے۔ اگر دشمن اس نظریاتی جنگ میں مکمل کامیابی کے بجائے محدود حد تک بھی اپنے اہداف پورے کرنے میں کامیاب ہو جائے تو یہ کسی ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرے کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔
مشرقی اور مغربی پاکستان کی علیحدگی میں بھی ہائیبرڈ وار کا اہم کردار ہے۔ آج پھر اسی طرح کے حربے مسلسل استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ انتشار اور افراتفری پیدا کر کے موجودہ پاکستان کے مزید حصے بخرے کر دیے جائیں۔ کہیں اندرون ملک نظریاتی حربے استعمال کیے جا رہے ہیں تو کہیں سرحدوں پر امن و امان کی فضا خراب کرکے سیکیورٹی کے مسائل بڑھائے جا رہے ہیں۔ مشرقی سرحد پر کہیں بھارت آئے دن فائرنگ اور گولہ باری کرکے بے یقینی کی کیفیت کو بڑھاوا دیتا ہے تو کہیں شمال مغربی سرحد پر افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں کے حملے سیکیورٹی اداروں پر دباؤ بڑھا دیتے ہیں۔
بھارت سرحد پر تو صرف گولہ باری اور فائرنگ کرتا ہے جب کہ افغانستان کی جانب سے دہشتگردوں کے گروہ سیکیورٹی چوکیوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ ملک میں داخل ہو کر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں' منگل کو بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کے ایک گروپ نے افغان صوبہ کنڑ سے باجوڑ غاخی پاس پر حملہ کی کوشش کی تاہم پاک فورسز نے بروقت کارروائی کرکے حملہ ناکام بنا دیا اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس گمبھیر اور پیچیدہ صورت حال کے تناظر میں ملکی سلامتی کو مضبوط بنانے اور ریاستی اداروں کی معاونت اور ان کے اعتماد میں اضافے کے لیے کورکمانڈرز کانفرنس میں کیے گئے فیصلے خوش کن ہیں۔ جمہوریت کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو پسپا کرنے کے لیے کور کمانڈرز کانفرنس میں واضح کیا کہ ریاستی رٹ اور قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کے لیے تمام ریاستی اداروں کی حمایت جاری رکھی جائے گی' قانون پر عملدرآمد ہی سے امن و استحکام اور ملک کی خوشحالی ہے۔
افغانستان سے دہشت گردوں کی آمد اور حملے روکنے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام تیزی سے جاری ہے' اس باڑ کی تنصیب مکمل ہونے کے بعد اس جانب سے دہشت گردوں کے حملوں میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ دشمن کی طرف سے جاری کی گئی نظریاتی جنگ کو شکست دینے کے لیے ناگزیر ہے کہ حکومتی اور تمام ریاستی ادارے علمائے کرام' دانشوروں' ادباء اور عوامی حلقوں کو ایک پلیٹ فارم پر مشترکہ طور پر آگے بڑھنا ہو گا۔