تعلیم سے محروم رہ جانے والوں بچوں کی تعداد میں اضافہ
فی الوقت پاکستان میں تعلیم پر جی ڈی پی کا 4 سے 6 فیصد سے بھی کم خرچ کیا جا رہا ہے۔
فی الوقت پاکستان میں تعلیم پر جی ڈی پی کا 4 سے 6 فیصد سے بھی کم خرچ کیا جا رہا ہے۔ فوٹو:فائل
پاکستان میں اسکول کی تعلیم سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں حیرت انگیز حد تک اضافہ ہو گیا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد ڈھائی کروڑ کے عدد کو چھونے لگی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے نہایت سنجیدہ کوششوں کے بغیر ایک پوری کی پوری نسل اسکول کی تعلیم اور زبردست مسابقتی دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے ضروری مہارتیں سیکھنے سے محروم رہ جائے گی۔
اس ہولناک صورتحال کا انکشاف اسلام آباد میں وفاقی وزیر تعلیم نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا تاہم انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان بچوں کو اسکول میں لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
انھوں نے کہا ان بچوں کو زندگی کامیابی کے ساتھ بسر کرنے کے لیے جن ضروری مہارتوں کی ضرورت ہے، حکومت کوشش کرے گی کہ اس نیک مقصد کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے۔
ہیومن رائٹس واچ رپورٹ کے مطابق اسکول کی تعلیم سے محروم رہ جانے والوں میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے کہیں زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق نویں جماعت میں صرف 13 فیصد لڑکیاں اسکول کی تعلیم جاری رکھنے کے قابل ہوتی ہیں، ان اعدادوشمار کو دیکھ کر یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس حوالے سے متنوع اقدامات کرنا کس قدر ضروری اور ناگزیر ہے اور ان میں قطعاً تاخیر روا نہیں رکھی جانی چاہیے۔
حکومت پر لازم ہے کہ وہ تعلیم کی مد میں بجٹ میں اضافہ کرے کیونکہ فی الوقت پاکستان میں تعلیم پر جی ڈی پی کا 4 سے 6 فیصد سے بھی کم خرچ کیا جا رہا ہے تاہم تعلیم پر مزید فنڈز خرچ کرنے سے بھی زیادہ ضروری یہ دیکھنا ہے کہ جو تعلیم دی جارہی ہے، اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے اور وہ کیا سیکھ رہے ہیں اور ان کی اس تعلیم سے انھیں اور ملک و قوم کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ وزیر تعلیم نے سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر بنانے کی نشاندہی بھی کی ۔ بہرحال حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا نظام بہتر بنائے۔
اس ہولناک صورتحال کا انکشاف اسلام آباد میں وفاقی وزیر تعلیم نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا تاہم انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان بچوں کو اسکول میں لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
انھوں نے کہا ان بچوں کو زندگی کامیابی کے ساتھ بسر کرنے کے لیے جن ضروری مہارتوں کی ضرورت ہے، حکومت کوشش کرے گی کہ اس نیک مقصد کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے۔
ہیومن رائٹس واچ رپورٹ کے مطابق اسکول کی تعلیم سے محروم رہ جانے والوں میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے کہیں زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق نویں جماعت میں صرف 13 فیصد لڑکیاں اسکول کی تعلیم جاری رکھنے کے قابل ہوتی ہیں، ان اعدادوشمار کو دیکھ کر یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس حوالے سے متنوع اقدامات کرنا کس قدر ضروری اور ناگزیر ہے اور ان میں قطعاً تاخیر روا نہیں رکھی جانی چاہیے۔
حکومت پر لازم ہے کہ وہ تعلیم کی مد میں بجٹ میں اضافہ کرے کیونکہ فی الوقت پاکستان میں تعلیم پر جی ڈی پی کا 4 سے 6 فیصد سے بھی کم خرچ کیا جا رہا ہے تاہم تعلیم پر مزید فنڈز خرچ کرنے سے بھی زیادہ ضروری یہ دیکھنا ہے کہ جو تعلیم دی جارہی ہے، اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے اور وہ کیا سیکھ رہے ہیں اور ان کی اس تعلیم سے انھیں اور ملک و قوم کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ وزیر تعلیم نے سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر بنانے کی نشاندہی بھی کی ۔ بہرحال حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا نظام بہتر بنائے۔