عالمی انڈیکس شہر کی فضاؤں میں آلودگی کی مقدار خطرناک قرار

کراچی کی فضاؤں میں آلودگی 331کے خوفناک درجے تک پہنچ چکی ہے۔

پانی کی آلودگی انتہائی زیادہ 85فیصد تک پہنچ چکی ہے ،شہر میں صفائی کی انتہائی ابتر حالت ہے۔ فوٹو: فائل

ماحولیاتی آلودگی ناپنے والے انڈیکس نے شہر کی فضاؤں میں آلودگی کی مقدار کو خطرناک قراردے دیا۔

ماحولیاتی آلودگی جانچنے کے عالمی انڈیکس اے کیوآئی(ایئر کوالٹی انڈیکس) کے مطابق اس وقت کراچی کی فضاؤں میں آلودگی 331کے خوفناک درجے تک پہنچ چکی ہے،جوانتہائی خطرناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔

درجہ بندی کے مطابق ایک 151 سے200 درجے تک آلودگی مضر صحت، 201ایک سے 300 درجے تک انتہائی مضر صحت اور 301سے زائددرجہ خطرناک آلودگی کوظاہر کرتاہے، اور اس وقت شہر میں آلودگی کا درجہ خطرناک حدوں کو چھورہاہے تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں آلودگی کے درجے میں کمی بیشی کے فرق میں اٹھائے گئے صفائی اوردیگر انتظامات کی بنا پر مختلف ہوسکتا ہے،(شہر کے صنعتی زون میں آلودگی کا پیمانہ زیادہ ہوسکتا ہے) انڈیکس کے مطابق کراچی میں آئندہ 2دنوں تک فضائی آلودگی کی صورتحال شدید متاثررہے گی۔

انڈیکس میں شہر کی آلودگی کے اعدادوشمار بھی انتہائی ہولناک ہیں،جس کے مطابق شہر میں ہوا کی آلودگی انتہائی زیادہ 80.62 فیصد،پانی کی آلودگی اورپینے کے ناقابل کا درجہ زیادہ 69.35 فیصد،گندگی کو بروقت ٹھکانے لگانے کی وجہ سے غیر مطمئن صورتحال انتہائی زیادہ84.29 ،گندگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے چینی زیادہ 77.85فیصد،شوراور روشنی کی آلودگی زیادہ70.45،پانی کی آلودگی انتہائی زیادہ 85فیصد،شہر وقت خرچ کرنے میں اکتاہٹ اور بے چینی زیادہ 73.46فیصد جبکہ شہر میں صفائی نہ ہونے کی وجہ سے سبز مقامات اور پارکوں سے ناپسندیدگی کا رحجان بھی زیادہ 72.73فیصد ہے۔

بدھ کے روز صبح کے وقت دھند کی وجہ سے حد نگاہ خطرناک حد تک کم ہوکر صرف 800میٹر رہ گئی تھی، خشک اور گردآلود ہواؤں کی وجہ سے فضامیں منجمد مٹی کئی گھنٹوں بعد بھی تحلیل نہ ہوسکی، دھند کا سبب بنے والے شمال میں موجود ہائی پریشر کے اثرات کے نتیجے میں آج (جمعرات ) کو بھی گہری دھند چھانے کا امکان ہے۔


بدھ کی صبح شہر خشک اور گرد آلود ہواؤں کے سلسلے کی وجہ سے حد نگاہ میں بتدریج کمی واقع ہوئی ،اور معمول کے دوران6کلومیٹر حد نگاہ ایک کلومیٹر سے بھی کم ہوئی ،جس کی وجہ سے شہر بھر کی فضاؤ ں پر دھند کے گہرے بادل چھائے رہے ،اور مکمل دن طلوع ہونے کے باوجود کئی گھنٹے بعد دھند نہیں چھٹی۔

دوسری جانب ڈائریکٹر محکمہ موسمیات عبدالرشید کے مطابق بدھ کو پید اہونے والے صورتحال فوگ نہیں بلکہ دھند تھی کیونکہ فوگ کے دوران ہوا میں نمی کاتناسب غیر معمولی طورپر بڑھ جاتا ہے جبکہ بدھ کو نمی کاتوازن متوازن رہا۔

عبدالرشید کے مطابق پاکستان کے شمال میں ہائی پریشر اس دھند کی وجہ بن رہا ہے کیونکہ گذشتہ روز پورے دن ہوائیں اوپر سے نیچے کی جانب چلیں جس کی وجہ سے فضامیں موجود مٹی کے ذرات کو اوپر اٹھنے کے بجائے مسلسل معلق رہے جس کی وجہ سے دھند اور مٹیالا مطلع چھایا۔

ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کے مطابق کل جیسی صورتحال (آج )جمعرات کو بھی ہوسکتی ہے اور موسم سرما کے دوران اس میں تسلسل کا بھی امکان ہے۔ عبدالرشید کے مطابق اسموگ ،دھند ،فوگ یا مسٹ کی صورت میں حد نگاہ ہر صورت متاثر ہوتی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ کو شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 20.5جبکہ زیادہ سے زیادہ 33.5ریکارڈ ہوا،ہوا میں نمی تناسب بیشتر وقت صرف 18فیصد ریکارڈ ہوا ،شام کے وقت شہردھند کی صورتحال میں کافی حد تک اعتدال دیکھا گیا اور حد نگاہ بڑھ کر 4کلومیٹر ہوگئی۔

ادھر ترجمان سول ایوی ایشن کے مطابق دھند کی کیفیت طاری ہونے کے دوران جنا ح ٹرمینل اور اولڈ ٹرمینل سے ہونے والے فضائی آپریشن میں کوئی خلل واقع نہیں ہوا اور صبح اور شام کے وقت ملکی اور غیر ملکی پروازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق رہی۔
Load Next Story