بڑی بسوں کا شہر سے باہر ٹرمینل بنانے کا حکم
ہیوی ٹریفک اور ٹریفک جام کا مستقل حل نکال کر ایک ماہ میں رپورٹ دی جائے ،جسٹس محمد علی مظہر
ہیوی ٹریفک پر پابندی سے کے پی ٹی سے کنٹینرز کی روانگی رک جاتی ہے،ترجمان محکمہ ٹرانسپورٹ۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
سندھ ہائیکورٹ نے شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی سے متعلق میئر کراچی، حکومت، کمشنر کراچی سے ہیوی ٹریفک اور ٹریفک جام کا مستقل حل نکال کر ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی اور عدالت نے شہر سے باہر بسوں کا ٹرمینل بنانے کیلیے اقدامات کرنے کا حکم دے دیا۔
سٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، میئر کراچی وسیم اختر، سیکریٹری ٹرانسپورٹ، ڈی آئی جی ٹریفک پیش ہوئے،عدالت نے ہیوی ٹریفک اور ٹریفک جام کا مستقل حل نکالنے کا حکم دے دیا،عدالت نے میئرکراچی وسیم اختر، سیکریٹری ٹرانسپورٹ و دیگر فریقین کے ساتھ مشاورت سے ایک ماہ میں جامع پلان پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے تمام فریقین کا 10دن میں مشاورتی اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کردی، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ بڑی بڑی بسیں اور کنٹینرز کیسے شہر میں گھومتے رہتے ہیں؟ ہیوی ٹریفک سے متعلق حکم پر عمل نہ ہوا تو توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔
ٹریفک پولیس حکام نے بتایا دن کے وقت شہر میں داخل ہونے پر ہیوی ٹریفک کے خلاف کارروائی ہوتی ہے،فوکل پرسن محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق شہر سے باہر 2 ٹرمینل بن چکے ہیں مزید 2 ٹرمینلز کی ضرورت ہے۔ ہیوی ٹریفک پر پابندی سے کے پی ٹی سے ملک بھر میں کنٹینرز کی روانگی رک جاتی ہے،کراچی پورٹ سے بھاری ٹریفک کی ترسیل رکنے سے قومی خزانے کو بھاری نقصان ہوتا ہے،کنٹینروں کی آمدورفت رکنے سے ملکی معیشت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
میئرکراچی وسیم اختر نے بتایا کہ ہر عمارت میں ٹرانسپورٹ کا دفتر کھول کر شہر کو جنگل بنادیا گیا ہے، ہیوی ٹریفک پر پابندی ہونی چاہیے،شہر سے باہر بسوں کا ٹرمینل بنانا سندھ حکومت کی ذمے داری ہے،عدالت نے شہر سے باہر بسوں کا ٹرمینل بنانے کیلیے اقدامات کا حکم دیتے ہوئے سماعت 14 دسمبر تک ملتوی کردی۔
سندھ ہائیکورٹ نے شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی سے متعلق میئر کراچی، حکومت، کمشنر کراچی سے ہیوی ٹریفک اور ٹریفک جام کا مستقل حل نکال کر ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی اور عدالت نے شہر سے باہر بسوں کا ٹرمینل بنانے کیلیے اقدامات کرنے کا حکم دے دیا۔
سٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، میئر کراچی وسیم اختر، سیکریٹری ٹرانسپورٹ، ڈی آئی جی ٹریفک پیش ہوئے،عدالت نے ہیوی ٹریفک اور ٹریفک جام کا مستقل حل نکالنے کا حکم دے دیا،عدالت نے میئرکراچی وسیم اختر، سیکریٹری ٹرانسپورٹ و دیگر فریقین کے ساتھ مشاورت سے ایک ماہ میں جامع پلان پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے تمام فریقین کا 10دن میں مشاورتی اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کردی، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ بڑی بڑی بسیں اور کنٹینرز کیسے شہر میں گھومتے رہتے ہیں؟ ہیوی ٹریفک سے متعلق حکم پر عمل نہ ہوا تو توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔
ٹریفک پولیس حکام نے بتایا دن کے وقت شہر میں داخل ہونے پر ہیوی ٹریفک کے خلاف کارروائی ہوتی ہے،فوکل پرسن محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق شہر سے باہر 2 ٹرمینل بن چکے ہیں مزید 2 ٹرمینلز کی ضرورت ہے۔ ہیوی ٹریفک پر پابندی سے کے پی ٹی سے ملک بھر میں کنٹینرز کی روانگی رک جاتی ہے،کراچی پورٹ سے بھاری ٹریفک کی ترسیل رکنے سے قومی خزانے کو بھاری نقصان ہوتا ہے،کنٹینروں کی آمدورفت رکنے سے ملکی معیشت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
میئرکراچی وسیم اختر نے بتایا کہ ہر عمارت میں ٹرانسپورٹ کا دفتر کھول کر شہر کو جنگل بنادیا گیا ہے، ہیوی ٹریفک پر پابندی ہونی چاہیے،شہر سے باہر بسوں کا ٹرمینل بنانا سندھ حکومت کی ذمے داری ہے،عدالت نے شہر سے باہر بسوں کا ٹرمینل بنانے کیلیے اقدامات کا حکم دیتے ہوئے سماعت 14 دسمبر تک ملتوی کردی۔