مشرف کا ٹرائلحکومت احتیاط سے آگے بڑھے گیخرم دستگیر
فیصلے پر عملدرآمد میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا،وزیرمملکت کی ٹودی پوائنٹ میں گفتگو
حکومت نے بڑا فیصلہ کیا،شاہ محمود،آرٹیکل6کی زدمیں اکیلا مشرف نہیں آتا،بیرسٹر سیف فوٹو : فائل
وزیرمملکت خرم دستگیر نے کہا ہے کہ مشرف کے ٹرائل کے حوالے سے آئین اور قانون پر عمل کریں گے۔
یہ نہیں ہوسکتا کہ جس نے پاکستان کے آئین پر دوباربندوق چلائی ہو اس کو اس لئے نہ پکڑا جائے کہ وہ کہہ رہا ہو میرے ساتھ1500لوگ اور بھی تھے۔ ایکسپریس نیوزکے پروگرام 'ٹودی پوائنٹ' میں میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ جنرل صاحب کا دفاع صرف یہ ہے کہ مجھے نہ پکڑیں ،میرے ساتھ اور بھی بہت سے لوگ تھے اگر مجھے پکڑنا ہے تو ان کو بھی پکڑا جائے لیکن جو آرڈر ہوا تھا اس پر دستخط پرویز مشرف کے ہی تھے ۔ اس فیصلے پر عملدرآمد میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا لیکن آنیوالی نسلوں کو یہ پتہ ضرور چلے گا کہ جب منتخب حکومت کو موقع ملا تو ڈکٹیٹر کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا تھا۔ مشرف کے ٹرائل کے بارے میں حکومت بہت احتیاط سے آگے بڑھے گی ۔ کبھی یہی پرویزمشرف تھے جو کہتے کہ میں بینظیر اور نواز شریف کو پاکستان میں نہیں آنے دوں گا۔
تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مشرف کے خلاف آرٹیکل6کے بارے میں تحریک انصاف نے آئین اورقانون کا ساتھ دینے کی بات کی ہے۔ حکومت نے بہت بڑا فیصلہ کیا ہے اوریقینی طورپر حکومت نے سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کیا ہے۔ اب آگے جو کرنا ہے عدالت نے کرنا ہے۔ہم نے آئین اور قانون کی حکمرانی کی بات کی ہے جبکہ حکومت نے کہا ہے کہ اس معاملے پر ساری سیاسی قیادت سے مشاورت کریں گے۔ اب سپریم کورٹ نے3دن کا ٹائم دیا ہے ، حکومت 3دن میں کیسے ساری سیاسی قیادت سے مشاورت کریگی۔ یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔
آل پاکستان مسلم لیگ کے ترجمان بیرسٹرمحمد علی سیف نے کہا کہ اگر حکومت کی نیت صاف ہے اور وہ خالص انداز میں آرٹیکل 6پر کارروائی کرنا چاہتی ہے تو کسی قسم کے نتائج کی پرواہ کیے بغیر کرگزرے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں، مشرف کو پھانسی دے دیں لیکن اگر آرٹیکل6 کی من پسند شقوں پر عملدرآمد کرانا چاہتے ہیں تو یہ درست نہیں ۔ 3 نومبر کو پرویزمشرف کا ساتھ دینے والا کوئی نہ ہوتا تو یہ ایمرجنسی شاعر کی شاعری کی طرح ہوتی ۔آج جو کچھ ہوا یہ ایک طرح سے سپریم کورٹ کی طرف سے اہم ایشوزپر سے توجہ ہٹانے کیلئے حکومت کو بہانہ ملا ہے۔ اگر انھوں نے آرٹیکل 6پر کام کرنا ہے تو ضرور کریں لیکن سیاسی ڈرامہ بازی نہ کریں، آرٹیکل6کی زدمیں اکیلا مشرف نہیں آتا اور نہ اکیلے مشرف پر یہ لاگوہوتا ہے۔
یہ نہیں ہوسکتا کہ جس نے پاکستان کے آئین پر دوباربندوق چلائی ہو اس کو اس لئے نہ پکڑا جائے کہ وہ کہہ رہا ہو میرے ساتھ1500لوگ اور بھی تھے۔ ایکسپریس نیوزکے پروگرام 'ٹودی پوائنٹ' میں میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ جنرل صاحب کا دفاع صرف یہ ہے کہ مجھے نہ پکڑیں ،میرے ساتھ اور بھی بہت سے لوگ تھے اگر مجھے پکڑنا ہے تو ان کو بھی پکڑا جائے لیکن جو آرڈر ہوا تھا اس پر دستخط پرویز مشرف کے ہی تھے ۔ اس فیصلے پر عملدرآمد میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا لیکن آنیوالی نسلوں کو یہ پتہ ضرور چلے گا کہ جب منتخب حکومت کو موقع ملا تو ڈکٹیٹر کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا تھا۔ مشرف کے ٹرائل کے بارے میں حکومت بہت احتیاط سے آگے بڑھے گی ۔ کبھی یہی پرویزمشرف تھے جو کہتے کہ میں بینظیر اور نواز شریف کو پاکستان میں نہیں آنے دوں گا۔
تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مشرف کے خلاف آرٹیکل6کے بارے میں تحریک انصاف نے آئین اورقانون کا ساتھ دینے کی بات کی ہے۔ حکومت نے بہت بڑا فیصلہ کیا ہے اوریقینی طورپر حکومت نے سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کیا ہے۔ اب آگے جو کرنا ہے عدالت نے کرنا ہے۔ہم نے آئین اور قانون کی حکمرانی کی بات کی ہے جبکہ حکومت نے کہا ہے کہ اس معاملے پر ساری سیاسی قیادت سے مشاورت کریں گے۔ اب سپریم کورٹ نے3دن کا ٹائم دیا ہے ، حکومت 3دن میں کیسے ساری سیاسی قیادت سے مشاورت کریگی۔ یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔
آل پاکستان مسلم لیگ کے ترجمان بیرسٹرمحمد علی سیف نے کہا کہ اگر حکومت کی نیت صاف ہے اور وہ خالص انداز میں آرٹیکل 6پر کارروائی کرنا چاہتی ہے تو کسی قسم کے نتائج کی پرواہ کیے بغیر کرگزرے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں، مشرف کو پھانسی دے دیں لیکن اگر آرٹیکل6 کی من پسند شقوں پر عملدرآمد کرانا چاہتے ہیں تو یہ درست نہیں ۔ 3 نومبر کو پرویزمشرف کا ساتھ دینے والا کوئی نہ ہوتا تو یہ ایمرجنسی شاعر کی شاعری کی طرح ہوتی ۔آج جو کچھ ہوا یہ ایک طرح سے سپریم کورٹ کی طرف سے اہم ایشوزپر سے توجہ ہٹانے کیلئے حکومت کو بہانہ ملا ہے۔ اگر انھوں نے آرٹیکل 6پر کام کرنا ہے تو ضرور کریں لیکن سیاسی ڈرامہ بازی نہ کریں، آرٹیکل6کی زدمیں اکیلا مشرف نہیں آتا اور نہ اکیلے مشرف پر یہ لاگوہوتا ہے۔