شہری کے اکاؤنٹ سے 20 لاکھ نکالنے کے مقدمے کا چالان پیش
ملزمان یونس، اسلم، ندیم اور بشریٰ ظہور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
رقم نکالنے کیلیے استعمال ہونیوالے 25 موبائل بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے، ایف آئی اے۔ فوٹو:فائل
ایف آئی اے نے مقدمے کا ضمنی چالان عدالت میں پیش کردیا۔
بینکنگ کورٹ میں جعلی فون کال پر بینک اکاؤنٹ کی معلومات لے کر شہری کے 20 لاکھ روپے ہتھیانے کے مقدمے کی سماعت ہوئی، ایف آئی اے نے مقدمے کا ضمنی چالان عدالت میں پیش کردیا جب کہ ملزمان محمد یونس، محمد اسلم، محمد ندیم اور بشری ظہور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
ایف آئی اے کے مطابق ضمنی چالان کے مطابق نجی بینک کے ذریعے تمام موبائل بینک اکاؤنٹس کا پتہ لگا لیا گیا، 25 موبائل اکاؤنٹس کے ذریعے رقم نکالی گئی مذکورہ تمام موبائل بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے گئے ہیں۔
ضمنی چالان میں بتایا گیا ،ملزم محمد عمران جیل میں ہے جبکہ محمد اقبال نے ضمانت حاصل کرلی، ملزم محمد یونس نے 10 لاکھ جبکہ ملزم محمد اقبال نے 5 لاکھ روپے نکالے، ملزمہ بشریٰ ظہور کا تعلق جھنگ، محمد ندیم کا بہاولنگر سے ہے۔
مدعی بنت خان کے مطابق 29 ستمبر کو نامعلوم کال موصول ہوئی کال کرنے والے نے بتایا کہ تعلق حساس ادارے سے ہے جعل ساز نے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات پوچھیں معلومات نہ دینے پر وزیرستان میں مکانات مسمار کرنے کی دھمکی دی میں نے جعلساز کو بینک کی تمام معلومات دے دیں اگلے روز معلوم ہوا کہ بینک اکاوئنٹس سے 20 لاکھ روپے غائب ہیں۔
ایف آئی اے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق بینک فراڈ کراچی سے پنجاب کے شہروں تک پھیلا ہوا ہے، فراڈ کی رقم بہاول نگر میں اومنی موبائل ویلٹ اکاؤنٹس کے ذریعے نکالی گئی فراڈ کی تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کی کوشیش جاری ہیں۔
بینکنگ کورٹ میں جعلی فون کال پر بینک اکاؤنٹ کی معلومات لے کر شہری کے 20 لاکھ روپے ہتھیانے کے مقدمے کی سماعت ہوئی، ایف آئی اے نے مقدمے کا ضمنی چالان عدالت میں پیش کردیا جب کہ ملزمان محمد یونس، محمد اسلم، محمد ندیم اور بشری ظہور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
ایف آئی اے کے مطابق ضمنی چالان کے مطابق نجی بینک کے ذریعے تمام موبائل بینک اکاؤنٹس کا پتہ لگا لیا گیا، 25 موبائل اکاؤنٹس کے ذریعے رقم نکالی گئی مذکورہ تمام موبائل بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے گئے ہیں۔
ضمنی چالان میں بتایا گیا ،ملزم محمد عمران جیل میں ہے جبکہ محمد اقبال نے ضمانت حاصل کرلی، ملزم محمد یونس نے 10 لاکھ جبکہ ملزم محمد اقبال نے 5 لاکھ روپے نکالے، ملزمہ بشریٰ ظہور کا تعلق جھنگ، محمد ندیم کا بہاولنگر سے ہے۔
مدعی بنت خان کے مطابق 29 ستمبر کو نامعلوم کال موصول ہوئی کال کرنے والے نے بتایا کہ تعلق حساس ادارے سے ہے جعل ساز نے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات پوچھیں معلومات نہ دینے پر وزیرستان میں مکانات مسمار کرنے کی دھمکی دی میں نے جعلساز کو بینک کی تمام معلومات دے دیں اگلے روز معلوم ہوا کہ بینک اکاوئنٹس سے 20 لاکھ روپے غائب ہیں۔
ایف آئی اے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق بینک فراڈ کراچی سے پنجاب کے شہروں تک پھیلا ہوا ہے، فراڈ کی رقم بہاول نگر میں اومنی موبائل ویلٹ اکاؤنٹس کے ذریعے نکالی گئی فراڈ کی تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کی کوشیش جاری ہیں۔