کراچی مسلسل تباہی
ایم کیو ایم کے رکن صوبائی اسمبلی ساجد قریشی اور ان کے بیٹے کے قتل کے بعد کراچی میں 42 دن میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ...
tauceeph@gmail.com
ایم کیو ایم کے رکن صوبائی اسمبلی ساجد قریشی اور ان کے بیٹے کے قتل کے بعد کراچی میں 42 دن میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے افراد کی تعداد 377 ہوگئی۔ ایم کیو ایم کے رہنما نبیل گبول نے فوج کے سربراہ جنرل کیانی سے مداخلت کی اپیل کردی۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ یہ اپیل پارلیمنٹ کی توہین کے مترادف ہے۔
چوہدری نثار علی خان کہتے ہیں کہ امن و امان کی ذمے داری صوبائی حکومتوں کی ہے مگر انھیں یہ ذمے داری سونپی گئی تو تمام گروپوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کراچی کی صورتحال پر صوبائی حکومت کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ فوراً ٹارگٹ کلنگ بند ہوجائے۔ 22 جون کو ایم کیو ایم کی اپیل پر کراچی یوم سوگ کی بنا پر پھر بند رہا۔ اس ماہ یہ تیسرا موقع ہے جب کراچی میں سب سرگرمیاں معطل کی گئی تھیں۔
کراچی میں سیاسی، سماجی، مذہبی، وکیلوں، اساتذہ، خواتین رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ گزشتہ صدی کے آخری عشروں سے جاری ہے، تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، مسلم لیگ، قوم پرست اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنما، بیورو کریٹ، پولیس افسران اور خفیہ ایجنسیوں کے افسران اور اہلکار نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں۔ پولیس ایف آئی آر درج کرتی ہے، ملزمان کے چہروں کے خاکے تیار ہوتے ہیں، مرنے والوں کے پوسٹ مارٹم اور رپورٹیں تیارہوتی ہیں، پولیس اور رینجرز کے دستے کراچی کے مختلف علاقوں میں آپریشن کرتے ہیں، ان آپریشنوں میں کالعدم تنظیموں کے سرکردہ رہنماؤں کی گرفتاریوں کی خبریں اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر شایع ہوتی ہیں، اس موقع پر ملزمان کی شناخت چھپانے کے لیے ان کے چہروں پر چادریں ڈال دی جاتی ہیں، ملزمان کی کمین گاہوں سے بھاری اسلحہ برآمد ہوتا ہے۔ کوئی معروف رہنما قتل ہوتا ہے، بعض اوقات فائرنگ کی لپیٹ میں راہگیر بھی آتے ہیں۔ کئی عورتیں اور بچے بغیر کسی جرم کے زندگی کی حرارت سے محروم ہوجاتے ہیں۔
کراچی کی امن و امان کی صورتحال پر تحقیق کرنے والے صحافیوں کے مشاہدات سے واضح ہوتا ہے کہ کراچی میں مذہبی، فرقہ وارانہ، سیاسی جماعتوں کی آپس کی چپقلش اور مختلف جرائم کی مافیاز کی لڑائی اور انفرادی جھگڑوں کی بنا پر ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے۔ بڑی سیاسی جماعتوں کے اپنے ملٹری ونگ ہیں۔ گزشتہ 5 سال کے دوران کراچی کی تشدد کی صورتحال میں طالبان کا ایک نیا فیکٹر ابھراہے، ان مذہبی انتہا پسندوں نے اے این پی، ایم کیو ایم کے رہنماؤں مذہبی، سیاسی، سماجی کارکنوں، اساتذہ، پیرا میڈیکل اسٹاف، پولیو کے قطرے پلانے والی خواتین، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے، ان انتہا پسندوں نے پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے اڈوں پر منظم حملے بھی کیے ہیں۔
سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ کراچی کے مضافاتی علاقوں خصوصاً گھگر پھاٹک سے شروع ہونے والی پٹی جو بلوچستان کے آخری شہر حب تک جاتی ہے اس علاقے میں طالبان نے عملی طور پر قبضہ کرلیا ہے، اس علاقے میں انٹیلی جنس ڈیوٹی دینے والے کئی اہلکار اغوا ہوکر قتل ہوئے ہیں۔ شہر میں محرم کے مہینے میں مذہبی عبادت گاہوں پر ہونے والی دہشت گردی کی منصوبہ بندی وغیرہ ان ہی علاقوں میں زیادہ تر کی جاتی ہے۔ بعض علاقوں میں کیبل ٹی وی نیٹ ورک کو روک دیا گیا ہے یا مخصوص چینلز کی نشریات کی اجازت ہے۔ کراچی میں بدامنی کی لپیٹ کی وجہ ریاست کی رٹ کا نہ ہونا ہے، ریاست کی رٹ مضافاتی علاقوں میں ہی نہیں بلکہ سابقہ کے ڈی اے کے ماسٹر پلان کے مطابق تعمیر ہونے والی نئی آبادیوں میں بھی نہیں ہے۔
ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صورتحال کے بگاڑ میں عسکری مقتدرہ کی مخصوص حکمت عملی کا بھی کردار ہے، ان کا کہنا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے ایک مسلح پریشر گروپ کے اثر کو کم کرنے کے لیے دوسرے مسلح گروپوں کی حوصلہ افزائی کی، شہر کے کئی علاقے ایک گروپ کے قبضے سے محفوظ ہوئے تو دوسرا گروپ ایسے مجرمانہ لوازمات کے ساتھ ان علاقوں میں قابض ہوگیا۔ اس پالیسی پر عمل شاہ فیصل کالونی، لانڈھی، کورنگی، گلستان جوہر، لیاری اور نہ جانے کتنے علاقے میں ہوا، اس پر الگ تحقیق کی ضرورت ہے۔
کراچی میں پولیس اور انٹیلی جنس نیٹ ورک ختم ہوچکا ہے، شہر میں اسلحہ کی فراوانی ہے، پولیس میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکن بھرتی ہوچکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بہت سے وارداتوں میں پولیس اہلکار ملوث ہوتے ہیں۔ کراچی پولیس نے گزشتہ دنوں لیاری گینگ وار کے ایک فرد کے قتل میں ایک جونیئر پولیس افسر کو گرفتار کیا ہے مگر ان جیسے لوگوں کی کتنی تعداد ہے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے۔ سنگین حالات میں پولیس اہلکاروں کے قتل کی شرح خوفناک حد تک بڑھ گئی ہے، اس کا نقصان پولیس کی تفتیش پر پڑتا ہے۔
پولیس بڑے بڑے مقدمات میں جعلی گواہوں پر بھروسہ کرتی ہے، عدالتیں ملزمان کو رہا کردیتی ہیں۔ جج صاحبان، پبلک پراسیکیوٹر سب عدم تحفظ کا شکار ہیں اور پولیس حکام کی محنت و کاوش سے عدالتوں نے بعض سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو سخت سزا بھی دی ہیں، تو ان جماعتوں نے ان کارکنوں کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے مہم شروع کردی۔ سیاسی جماعتوں کے کارکن کے قتل کے الزام میں سزا پانے والے ایسے کارکنوں کی جیلوں میں مدد کرتی ہیں مگر ان جماعتوں کے رہنما ٹی وی ٹاک شوز میں ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ ان کی جماعت مجرموں کی سرپرستی نہیں کرتی۔
خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے ایم کیو ایم کے کارکنوں کے اغوا اور پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا ایک خوفناک سلسلہ شروع ہوا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عسکری مقتدرہ بلوچستان کی ڈاکٹرائن پر کراچی میں عمل کررہی ہے، یہ صورتحال معاملات کو مزید خراب کردے گی۔
بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کے اغوا اور ان کی مسخ شدہ لاشوں کے ملنے سے نوجوان پاکستان سے بددل ہورہے ہیں۔ ایسی صورتحال کراچی میں پیدا کی جارہی ہے، اس وقت پیپلزپارٹی سندھ پر حکومت کررہی ہے، ایم کیو ایم سندھ حکومت میں شرکت کے لیے ریفرنڈم کرارہی ہے، اس آرٹیکل کی اشاعت تک ریفرنڈم کا نتیجہ آجانا چاہیے۔ ایم کیو ایم نے اپنے کارکنوں کے قتل کے خلاف دھرنے دینے شروع کردیے ہیں، محسوس ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم سندھ حکومت میں شامل نہیں ہوگی، مگر صورتحال کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ شہر بند ہونے سے ہر کام معطل ہوجاتا ہے،
خاص طور پر روزانہ کمانے والا غریب طبقہ پس کر رہ جاتا ہے۔ پختونخواہ کے صحافی کہتے ہیں کہ ان کے صوبے میں دہشت گردی کی صورتحال ہے مگر کوئی متاثرہ جماعت صوبے میں ہڑتال نہیں کراتی، کچھ لوگ یہ خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ یہ صورتحال سندھ میں گورنر راج کے لیے استعمال ہوگی۔ 18ویں ترمیم کے تحت گورنر راج لگنا انتہائی مشکل ہے، 1988 سے اب تک کے واقعات شاہد ہیں کہ کراچی کے بارے میں صرف وفاقی حکومت، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم مشترکہ حکمت عملی پر متفق نہ ہوئے تو تباہی کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت ماضی میں میرٹ کو نظر انداز کرنے کے باوجودکراچی کے حالات بہتر بنانے میں ناکام رہی، اب دونوں جماعتوں کو یہ موقع کھونا نہیں چاہیے۔
چوہدری نثار علی خان کہتے ہیں کہ امن و امان کی ذمے داری صوبائی حکومتوں کی ہے مگر انھیں یہ ذمے داری سونپی گئی تو تمام گروپوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کراچی کی صورتحال پر صوبائی حکومت کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ فوراً ٹارگٹ کلنگ بند ہوجائے۔ 22 جون کو ایم کیو ایم کی اپیل پر کراچی یوم سوگ کی بنا پر پھر بند رہا۔ اس ماہ یہ تیسرا موقع ہے جب کراچی میں سب سرگرمیاں معطل کی گئی تھیں۔
کراچی میں سیاسی، سماجی، مذہبی، وکیلوں، اساتذہ، خواتین رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ گزشتہ صدی کے آخری عشروں سے جاری ہے، تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، مسلم لیگ، قوم پرست اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنما، بیورو کریٹ، پولیس افسران اور خفیہ ایجنسیوں کے افسران اور اہلکار نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں۔ پولیس ایف آئی آر درج کرتی ہے، ملزمان کے چہروں کے خاکے تیار ہوتے ہیں، مرنے والوں کے پوسٹ مارٹم اور رپورٹیں تیارہوتی ہیں، پولیس اور رینجرز کے دستے کراچی کے مختلف علاقوں میں آپریشن کرتے ہیں، ان آپریشنوں میں کالعدم تنظیموں کے سرکردہ رہنماؤں کی گرفتاریوں کی خبریں اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر شایع ہوتی ہیں، اس موقع پر ملزمان کی شناخت چھپانے کے لیے ان کے چہروں پر چادریں ڈال دی جاتی ہیں، ملزمان کی کمین گاہوں سے بھاری اسلحہ برآمد ہوتا ہے۔ کوئی معروف رہنما قتل ہوتا ہے، بعض اوقات فائرنگ کی لپیٹ میں راہگیر بھی آتے ہیں۔ کئی عورتیں اور بچے بغیر کسی جرم کے زندگی کی حرارت سے محروم ہوجاتے ہیں۔
کراچی کی امن و امان کی صورتحال پر تحقیق کرنے والے صحافیوں کے مشاہدات سے واضح ہوتا ہے کہ کراچی میں مذہبی، فرقہ وارانہ، سیاسی جماعتوں کی آپس کی چپقلش اور مختلف جرائم کی مافیاز کی لڑائی اور انفرادی جھگڑوں کی بنا پر ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے۔ بڑی سیاسی جماعتوں کے اپنے ملٹری ونگ ہیں۔ گزشتہ 5 سال کے دوران کراچی کی تشدد کی صورتحال میں طالبان کا ایک نیا فیکٹر ابھراہے، ان مذہبی انتہا پسندوں نے اے این پی، ایم کیو ایم کے رہنماؤں مذہبی، سیاسی، سماجی کارکنوں، اساتذہ، پیرا میڈیکل اسٹاف، پولیو کے قطرے پلانے والی خواتین، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے، ان انتہا پسندوں نے پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے اڈوں پر منظم حملے بھی کیے ہیں۔
سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ کراچی کے مضافاتی علاقوں خصوصاً گھگر پھاٹک سے شروع ہونے والی پٹی جو بلوچستان کے آخری شہر حب تک جاتی ہے اس علاقے میں طالبان نے عملی طور پر قبضہ کرلیا ہے، اس علاقے میں انٹیلی جنس ڈیوٹی دینے والے کئی اہلکار اغوا ہوکر قتل ہوئے ہیں۔ شہر میں محرم کے مہینے میں مذہبی عبادت گاہوں پر ہونے والی دہشت گردی کی منصوبہ بندی وغیرہ ان ہی علاقوں میں زیادہ تر کی جاتی ہے۔ بعض علاقوں میں کیبل ٹی وی نیٹ ورک کو روک دیا گیا ہے یا مخصوص چینلز کی نشریات کی اجازت ہے۔ کراچی میں بدامنی کی لپیٹ کی وجہ ریاست کی رٹ کا نہ ہونا ہے، ریاست کی رٹ مضافاتی علاقوں میں ہی نہیں بلکہ سابقہ کے ڈی اے کے ماسٹر پلان کے مطابق تعمیر ہونے والی نئی آبادیوں میں بھی نہیں ہے۔
ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صورتحال کے بگاڑ میں عسکری مقتدرہ کی مخصوص حکمت عملی کا بھی کردار ہے، ان کا کہنا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے ایک مسلح پریشر گروپ کے اثر کو کم کرنے کے لیے دوسرے مسلح گروپوں کی حوصلہ افزائی کی، شہر کے کئی علاقے ایک گروپ کے قبضے سے محفوظ ہوئے تو دوسرا گروپ ایسے مجرمانہ لوازمات کے ساتھ ان علاقوں میں قابض ہوگیا۔ اس پالیسی پر عمل شاہ فیصل کالونی، لانڈھی، کورنگی، گلستان جوہر، لیاری اور نہ جانے کتنے علاقے میں ہوا، اس پر الگ تحقیق کی ضرورت ہے۔
کراچی میں پولیس اور انٹیلی جنس نیٹ ورک ختم ہوچکا ہے، شہر میں اسلحہ کی فراوانی ہے، پولیس میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکن بھرتی ہوچکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بہت سے وارداتوں میں پولیس اہلکار ملوث ہوتے ہیں۔ کراچی پولیس نے گزشتہ دنوں لیاری گینگ وار کے ایک فرد کے قتل میں ایک جونیئر پولیس افسر کو گرفتار کیا ہے مگر ان جیسے لوگوں کی کتنی تعداد ہے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے۔ سنگین حالات میں پولیس اہلکاروں کے قتل کی شرح خوفناک حد تک بڑھ گئی ہے، اس کا نقصان پولیس کی تفتیش پر پڑتا ہے۔
پولیس بڑے بڑے مقدمات میں جعلی گواہوں پر بھروسہ کرتی ہے، عدالتیں ملزمان کو رہا کردیتی ہیں۔ جج صاحبان، پبلک پراسیکیوٹر سب عدم تحفظ کا شکار ہیں اور پولیس حکام کی محنت و کاوش سے عدالتوں نے بعض سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو سخت سزا بھی دی ہیں، تو ان جماعتوں نے ان کارکنوں کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے مہم شروع کردی۔ سیاسی جماعتوں کے کارکن کے قتل کے الزام میں سزا پانے والے ایسے کارکنوں کی جیلوں میں مدد کرتی ہیں مگر ان جماعتوں کے رہنما ٹی وی ٹاک شوز میں ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ ان کی جماعت مجرموں کی سرپرستی نہیں کرتی۔
خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے ایم کیو ایم کے کارکنوں کے اغوا اور پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا ایک خوفناک سلسلہ شروع ہوا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عسکری مقتدرہ بلوچستان کی ڈاکٹرائن پر کراچی میں عمل کررہی ہے، یہ صورتحال معاملات کو مزید خراب کردے گی۔
بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کے اغوا اور ان کی مسخ شدہ لاشوں کے ملنے سے نوجوان پاکستان سے بددل ہورہے ہیں۔ ایسی صورتحال کراچی میں پیدا کی جارہی ہے، اس وقت پیپلزپارٹی سندھ پر حکومت کررہی ہے، ایم کیو ایم سندھ حکومت میں شرکت کے لیے ریفرنڈم کرارہی ہے، اس آرٹیکل کی اشاعت تک ریفرنڈم کا نتیجہ آجانا چاہیے۔ ایم کیو ایم نے اپنے کارکنوں کے قتل کے خلاف دھرنے دینے شروع کردیے ہیں، محسوس ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم سندھ حکومت میں شامل نہیں ہوگی، مگر صورتحال کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ شہر بند ہونے سے ہر کام معطل ہوجاتا ہے،
خاص طور پر روزانہ کمانے والا غریب طبقہ پس کر رہ جاتا ہے۔ پختونخواہ کے صحافی کہتے ہیں کہ ان کے صوبے میں دہشت گردی کی صورتحال ہے مگر کوئی متاثرہ جماعت صوبے میں ہڑتال نہیں کراتی، کچھ لوگ یہ خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ یہ صورتحال سندھ میں گورنر راج کے لیے استعمال ہوگی۔ 18ویں ترمیم کے تحت گورنر راج لگنا انتہائی مشکل ہے، 1988 سے اب تک کے واقعات شاہد ہیں کہ کراچی کے بارے میں صرف وفاقی حکومت، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم مشترکہ حکمت عملی پر متفق نہ ہوئے تو تباہی کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت ماضی میں میرٹ کو نظر انداز کرنے کے باوجودکراچی کے حالات بہتر بنانے میں ناکام رہی، اب دونوں جماعتوں کو یہ موقع کھونا نہیں چاہیے۔