کیا سرفراز ورلڈکپ میں کپتان ہوں گے
چیف سلیکٹر انضمام الحق کو بھی سرفراز پر بھرپور اعتماد ہے وہ بھی ان کا ہی نام پیش کریں گے۔
چیف سلیکٹر انضمام الحق کو بھی سرفراز پر بھرپور اعتماد ہے وہ بھی ان کا ہی نام پیش کریں گے۔ فوٹو: فائل
چیئرمین پی سی بی بننے کے بعد احسان مانی کراچی پہلی بار تشریف لائے، نیشنل اسٹیڈیم تو ٹوٹ چکا اور تعمیراتی کام جاری ہے لہذا ہائی پرفارمنس سینٹر میں انھوں نے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا،ہال صحافیوں سے کھچا کھچ بھرا تھا،اس وقت احسان مانی پر باؤنسرز کی طرح سوالات کی بوچھاڑ ہوگئی، انھوں نے بھی ڈپلومیٹک انداز میں جواب دیے،صاف لگ رہا تھا کہ مانی صاحب کے بعض''دوستوں'' اور ''قریبی ساتھیوں'' کی جانب سے بھی سوال کرائے گئے۔
اس پریس کانفرنس میں چیئرمین سے کئی بار ورلڈکپ میں سرفراز احمد کی کپتانی کے بارے میں سوال ہوا اور انھوں نے ہر بار یہی کہا کہ ''وہی کپتان ہیں'' میڈیا نے یہ تنازع کھڑا کیا ہے، البتہ بعد میں میرا جب ساتھی صحافیوں سے تبادلہ خیال ہوا تو سب کا یہی خیال تھا کہ گوکہ احسان مانی نے کہہ تو دیا مگر اسے واضح اعلان نہیں سمجھا جا سکتا،اس سے قبل بھی انھوں نے لاہور میں یہ کہا تھا کہ وہ کرکٹ کمیٹی سے تبادلہ خیال کے بعد کپتان کا فیصلہ کریں گے۔
مجھے نجانے کیوں چیئرمین اس حوالے سے کچھ کنفیوژن کا شکار لگتے ہیں، وہ سرفراز کو کپتان رکھنا بھی چاہتے ہیں مگر واضح اعلان بھی نہیں کر رہے، یہ بات سمجھ سے باہر ہے، ایک طرف بھارتی کوچ یہ اعلان کر رہے ہیں کہ اب میگا ایونٹ تک ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی اور دوسری طرف ہمیں کپتان کا ہی پتا نہیں ہے۔
گزشتہ دنوں سیاسی شخصیت فردوس عاشق اعوان چیئرمین سے ملاقات کیلیے گئیں تو یہ افواہیں اڑا دی گئیں کہ انھوں نے شعیب ملک کو منصب قیادت پر بٹھانے کی سفارش کر دی ہے، اس سے پہلے جب سرفراز آؤٹ آف فارم تھے تب تو واقعی یہ تجویز زیرغور تھی کہ بعض میچز میں انھیں آرام دے کر شعیب کو کپتان بنا دیا جائے، میری اس حوالے سے شعیب سے کئی بار کھل کر بات ہوئی، وہ قیادت سنبھالنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور سرفراز کو مکمل سپورٹ کر رہے ہیں۔
دوسرے سینئر کھلاڑی محمد حفیظ گو کہ اچھا پرفارم کر رہے ہیں مگر کوچ مکی آرتھر انھیں دل سے پسند نہیں کرتے اور کسی صورت کپتان نہیں بننے دیں گے، نوجوان کھلاڑیوں میں ہمیں ایسا کوئی نظر نہیں آتا جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے تو بورڈ کیوں اسے مسئلہ بنا رہا ہے، کیا اسے ڈر ہے کہ جنوبی افریقہ کے مشکل ٹور میں کہیں ٹیم خدانخواستہ بدترین ناکامیوں کا شکار نہ ہو جائے اس لیے انتظار کیا جائے، یا واقعی سفارشیں آ رہی ہیں، اس سے پہلے 2011 میں تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ دورئہ نیوزی لینڈ کے دوران رات کو انتخاب عالم نے فون کر کے بتایا تھا کہ شاہد آفریدی کپتان برقرار رہیں گے۔
چیئرمین اعجاز بٹ نے کسی مسٹری فلم کے اختتام کی طرح اس بات کو چھپا کر رکھا تھا، وہ تو ایشیائی کنڈیشنز تھیں اس لیے ٹیم سیمی فائنل تک پہنچ گئی، پھر 2015میں مصباح الحق کی قیادت کے حوالے سے بھی بورڈ ڈانوا ڈول تھا، ٹیم کوارٹر فائنل تک ہی محدود رہی تھی، ماضی کی غلطیاں اب نہیں دہرانا چاہئیں، ٹھیک ہے مان لیتے ہیں ہم میڈیا والے باتیں پھیلا رہے ہیں تو پھر چیئرمین صاحب آپ صرف ایک پریس ریلیز جاری کر دیں کہ بورڈ نے سرفراز احمد کو ورلڈکپ کیلیے کپتان برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔
سارا تنازع ہی حل ہو جائے گا اور کسی کو باتیں بنانے کا موقع نہیں ملے گا، جب تک ایسا نہیں ہوتا افواہوں کا بازار گرم ہی رہے گا، بقول احسان مانی وہ کرکٹ کمیٹی سے پوچھ کر فیصلہ کریں گے اس کے سربراہ محسن حسن خان سے جب میری بات ہوئی تو انھوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ سرفراز کو کپتان برقرار رکھنے کی سفارش کریں گے،مصباح الحق نے بھی ایک حالیہ انٹرویو میں ایسی ہی باتیں کہیں۔
چیف سلیکٹر انضمام الحق کو بھی سرفراز پر بھرپور اعتماد ہے وہ بھی ان کا ہی نام پیش کریں گے، مجھے تو صرف چیئرمین ہی ہچکچاہٹ کا شکار لگتے ہیں، یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ انگلش کنڈیشنز میں ہی سرفراز نے پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی جتوائی، اب اگلے برس ورلڈکپ بھی وہیں ہونا ہے، جب کوچ اور دیگر سپورٹنگ اسٹاف کو میگا ایونٹ تک برقرار رکھنے کا واضح اعلان ہو چکا تو کپتان کے حوالے سے ایسا کیوں نہیں ہوتا۔
مکی آرتھر ، اظہر محمود اور دیگر تمام ''گرانٹس'' کی بھی سرفراز سے اچھی ہم آہنگی اورٹیم کی پرفارمنس بھی بہتر ہے ایسے میں انتظار کس بات کا کر رہے ہیں۔سرفراز کو بھی جب پتا چلے گا کہ بورڈ نے انھیں ورلڈکپ تک قیادت سونپ دی ہے تو وہ کوچز کے ساتھ مل کر ابھی سے پلان تیار کر سکیں گے، دنیا کی دیگر تمام ٹیمیں ورلڈکپ پر نظریں جمائے بیٹھی ہیں ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
بدقسمتی سے نئے چیئرمین اب تک بہت ''سلو بیٹنگ'' کر رہے ہیں ، انھیں تھوڑی تیزی دکھانی چاہیے، اسی کے ساتھ نائب کا تقرر بھی بہت ضروری ہے، آسٹریلیا تو دو نائب کپتان تک بنا چکا ہمیں ایک بھی نہیں ملتا، ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تینوں طرز میں سرفراز کا کوئی نائب ہونا چاہیے۔
ٹیسٹ میں اسد شفیق اگر یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں تو باقاعدہ طور پر اعلان کریں، مختصر طرز میں کسی نوجوان کو عہدہ سونپ کر گروم کریں، شعیب ملک خود کہہ چکے کہ وہ ورلڈکپ کے بعد ون ڈے کرکٹ چھوڑ دیں گے، حفیظ بھی بڑھتی عمر کے سبب زیادہ عرصے کھیلتے دکھائی نہیں دیتے، ایسے میں کسی ینگسٹر کا تقرر ہی ٹھیک رہے گا۔
بدقسمتی سے ابھی چیئرمین ''لیگل نوٹس''، ساتھیوں کی بیان بازی،و دیگر معاملات سے نمٹنے میں ہی لگے ہیں، جب انھیں اس سے تھوڑی فرصت ملے تو کچھ ٹیم کا بھی سوچیں گے، مگر یاد رکھیں کہ کسی بھی سربراہ کو صرف اس وقت ٹیم کی کارکردگی سے ہی یاد رکھا جاتا ہے، شہریارخان دوسری اننگز میں دباؤ کا شکار رہے مگر ہم نے چیمپئنز ٹرافی انہی کے دور میں جیتی، اب مانی صاحب کے پاس موقع ہے، ایسے اقدامات کریں کہ اگلے سال ورلڈکپ بھی ہمارے پاس آئے، اگر ایسا ہوگیا تو انھیں مدتوں یاد رکھا جائے گا۔
(نوٹ:آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں۔
اس پریس کانفرنس میں چیئرمین سے کئی بار ورلڈکپ میں سرفراز احمد کی کپتانی کے بارے میں سوال ہوا اور انھوں نے ہر بار یہی کہا کہ ''وہی کپتان ہیں'' میڈیا نے یہ تنازع کھڑا کیا ہے، البتہ بعد میں میرا جب ساتھی صحافیوں سے تبادلہ خیال ہوا تو سب کا یہی خیال تھا کہ گوکہ احسان مانی نے کہہ تو دیا مگر اسے واضح اعلان نہیں سمجھا جا سکتا،اس سے قبل بھی انھوں نے لاہور میں یہ کہا تھا کہ وہ کرکٹ کمیٹی سے تبادلہ خیال کے بعد کپتان کا فیصلہ کریں گے۔
مجھے نجانے کیوں چیئرمین اس حوالے سے کچھ کنفیوژن کا شکار لگتے ہیں، وہ سرفراز کو کپتان رکھنا بھی چاہتے ہیں مگر واضح اعلان بھی نہیں کر رہے، یہ بات سمجھ سے باہر ہے، ایک طرف بھارتی کوچ یہ اعلان کر رہے ہیں کہ اب میگا ایونٹ تک ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی اور دوسری طرف ہمیں کپتان کا ہی پتا نہیں ہے۔
گزشتہ دنوں سیاسی شخصیت فردوس عاشق اعوان چیئرمین سے ملاقات کیلیے گئیں تو یہ افواہیں اڑا دی گئیں کہ انھوں نے شعیب ملک کو منصب قیادت پر بٹھانے کی سفارش کر دی ہے، اس سے پہلے جب سرفراز آؤٹ آف فارم تھے تب تو واقعی یہ تجویز زیرغور تھی کہ بعض میچز میں انھیں آرام دے کر شعیب کو کپتان بنا دیا جائے، میری اس حوالے سے شعیب سے کئی بار کھل کر بات ہوئی، وہ قیادت سنبھالنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور سرفراز کو مکمل سپورٹ کر رہے ہیں۔
دوسرے سینئر کھلاڑی محمد حفیظ گو کہ اچھا پرفارم کر رہے ہیں مگر کوچ مکی آرتھر انھیں دل سے پسند نہیں کرتے اور کسی صورت کپتان نہیں بننے دیں گے، نوجوان کھلاڑیوں میں ہمیں ایسا کوئی نظر نہیں آتا جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے تو بورڈ کیوں اسے مسئلہ بنا رہا ہے، کیا اسے ڈر ہے کہ جنوبی افریقہ کے مشکل ٹور میں کہیں ٹیم خدانخواستہ بدترین ناکامیوں کا شکار نہ ہو جائے اس لیے انتظار کیا جائے، یا واقعی سفارشیں آ رہی ہیں، اس سے پہلے 2011 میں تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ دورئہ نیوزی لینڈ کے دوران رات کو انتخاب عالم نے فون کر کے بتایا تھا کہ شاہد آفریدی کپتان برقرار رہیں گے۔
چیئرمین اعجاز بٹ نے کسی مسٹری فلم کے اختتام کی طرح اس بات کو چھپا کر رکھا تھا، وہ تو ایشیائی کنڈیشنز تھیں اس لیے ٹیم سیمی فائنل تک پہنچ گئی، پھر 2015میں مصباح الحق کی قیادت کے حوالے سے بھی بورڈ ڈانوا ڈول تھا، ٹیم کوارٹر فائنل تک ہی محدود رہی تھی، ماضی کی غلطیاں اب نہیں دہرانا چاہئیں، ٹھیک ہے مان لیتے ہیں ہم میڈیا والے باتیں پھیلا رہے ہیں تو پھر چیئرمین صاحب آپ صرف ایک پریس ریلیز جاری کر دیں کہ بورڈ نے سرفراز احمد کو ورلڈکپ کیلیے کپتان برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔
سارا تنازع ہی حل ہو جائے گا اور کسی کو باتیں بنانے کا موقع نہیں ملے گا، جب تک ایسا نہیں ہوتا افواہوں کا بازار گرم ہی رہے گا، بقول احسان مانی وہ کرکٹ کمیٹی سے پوچھ کر فیصلہ کریں گے اس کے سربراہ محسن حسن خان سے جب میری بات ہوئی تو انھوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ سرفراز کو کپتان برقرار رکھنے کی سفارش کریں گے،مصباح الحق نے بھی ایک حالیہ انٹرویو میں ایسی ہی باتیں کہیں۔
چیف سلیکٹر انضمام الحق کو بھی سرفراز پر بھرپور اعتماد ہے وہ بھی ان کا ہی نام پیش کریں گے، مجھے تو صرف چیئرمین ہی ہچکچاہٹ کا شکار لگتے ہیں، یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ انگلش کنڈیشنز میں ہی سرفراز نے پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی جتوائی، اب اگلے برس ورلڈکپ بھی وہیں ہونا ہے، جب کوچ اور دیگر سپورٹنگ اسٹاف کو میگا ایونٹ تک برقرار رکھنے کا واضح اعلان ہو چکا تو کپتان کے حوالے سے ایسا کیوں نہیں ہوتا۔
مکی آرتھر ، اظہر محمود اور دیگر تمام ''گرانٹس'' کی بھی سرفراز سے اچھی ہم آہنگی اورٹیم کی پرفارمنس بھی بہتر ہے ایسے میں انتظار کس بات کا کر رہے ہیں۔سرفراز کو بھی جب پتا چلے گا کہ بورڈ نے انھیں ورلڈکپ تک قیادت سونپ دی ہے تو وہ کوچز کے ساتھ مل کر ابھی سے پلان تیار کر سکیں گے، دنیا کی دیگر تمام ٹیمیں ورلڈکپ پر نظریں جمائے بیٹھی ہیں ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
بدقسمتی سے نئے چیئرمین اب تک بہت ''سلو بیٹنگ'' کر رہے ہیں ، انھیں تھوڑی تیزی دکھانی چاہیے، اسی کے ساتھ نائب کا تقرر بھی بہت ضروری ہے، آسٹریلیا تو دو نائب کپتان تک بنا چکا ہمیں ایک بھی نہیں ملتا، ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تینوں طرز میں سرفراز کا کوئی نائب ہونا چاہیے۔
ٹیسٹ میں اسد شفیق اگر یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں تو باقاعدہ طور پر اعلان کریں، مختصر طرز میں کسی نوجوان کو عہدہ سونپ کر گروم کریں، شعیب ملک خود کہہ چکے کہ وہ ورلڈکپ کے بعد ون ڈے کرکٹ چھوڑ دیں گے، حفیظ بھی بڑھتی عمر کے سبب زیادہ عرصے کھیلتے دکھائی نہیں دیتے، ایسے میں کسی ینگسٹر کا تقرر ہی ٹھیک رہے گا۔
بدقسمتی سے ابھی چیئرمین ''لیگل نوٹس''، ساتھیوں کی بیان بازی،و دیگر معاملات سے نمٹنے میں ہی لگے ہیں، جب انھیں اس سے تھوڑی فرصت ملے تو کچھ ٹیم کا بھی سوچیں گے، مگر یاد رکھیں کہ کسی بھی سربراہ کو صرف اس وقت ٹیم کی کارکردگی سے ہی یاد رکھا جاتا ہے، شہریارخان دوسری اننگز میں دباؤ کا شکار رہے مگر ہم نے چیمپئنز ٹرافی انہی کے دور میں جیتی، اب مانی صاحب کے پاس موقع ہے، ایسے اقدامات کریں کہ اگلے سال ورلڈکپ بھی ہمارے پاس آئے، اگر ایسا ہوگیا تو انھیں مدتوں یاد رکھا جائے گا۔
(نوٹ:آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں۔