گرلز کالجز میں انجینئرنگ اور بوائز میں میڈکل نشستیں کم کر دی گئیں
کالجوں میں آرٹس کی نشستیں کم کرکے کامرس کی سیٹیں بڑھائی جارہی ہیں، داخلہ کمیٹی انٹر کے داخلوں کا شیڈول طے نہیں کرسکی
داخلہ درخواستوں کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ لڑکیاں انجینئرنگ میں دلچسپی نہیں رکھتی،لڑکے طب پڑھنا نہیں چاہتے،رکن داخلہ کمیٹی ۔ فوٹو : فائل
کراچی کے سرکاری کالجوں میں انٹرسال اول کے داخلوں کیلیے قائم مرکزی داخلہ کمیٹی تاحال داخلوں کے آغاز کی تاریخ اور شیڈول طے نہیں کرسکی ۔
تاہم کراچی میں انٹر کی سطح پر لڑکیوں میں انجینئرنگ کی تعلیم اورلڑکوں میں میڈیکل کی تعلیم کے رجحان میں کمی آنے کے بعد مرکزی داخلہ کمیٹی نے فرسٹ ایئر کی سطح پرگرلزکالجوں میں انجینئرنگ اوربوائز کالجوں میں میڈیکل کی نشستیں کم کردی ہیں،گرلز کالجوں میں انجینئرنگ کی نشستیں کم کرکے اسی تناسب سے میڈیکل کی نشستیں بڑھائی جارہی ہیں،بوائز کالجوں میں میڈیکل کی نشستیں کم کرکے انجینئرنگ کی نشستیں بڑھائی جارہی ہیں،اس بات کااصولی فیصلہ کراچی کے سرکاری کالجوں میں انٹرسال اول کے داخلوں کیلیے قائم مرکزی داخلہ کمیٹی کے منعقدہ اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے تحت آرٹس کے شعبے میں طلبہ وطالبات کے رجحان میں یکساں کمی آنے کے بعد فنون کی نشستیں کم کی جارہی ہیں،کامرس کے ضابطے میں طلبہ وطالبات کے رجحان میں مسلسل اضافے کو محسوس کرتے ہوئے متعلقہ کالجوں میں آرٹس کی نشستیں کم کرکے وہاں کامرس کی نشستیں بڑھائی جارہی ہیں۔
مرکزی داخلہ کمیٹی کے ایک رکن نے ''ایکسپریس''کو بتایا کہ سرکاری کالجوں میں داخلوں کیلیے آنے والی درخواستوں سے معلوم ہوا ہے کہ لڑکیاں انجینئرنگ پڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی جبکہ لڑکے میڈیکل پڑھنا نہیں چاہتے جبکہ عمومی طور پرآرٹس کی تعلیم سے طلبہ وطالبات کی دلچسپی ختم ہوتی جارہی ہے جس کے سبب یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ تمام کالجوںمیں آرٹس کی نشستیں کم کرکے کامرس کی نشستیں بڑھادی جائیں ۔
داخلہ کمیٹی کے رکن نے بتایا کہ مرکزی داخلہ پالیسی کے تحت جاری ہونے والے ''پراسپیکٹس''کی قیمت میں اضافہ نہیں کیاجائے گا اور پراسپیکٹس 60روپے پرہی فروخت ہوگا، کمیٹی کے رکن کے مطابق اس سال کراچی میں کسی نئے سرکاری کالج کااضافہ نہیں کیاگیاہے ، لیاری اور ابراہیم حیدری میں کالج قائم ہیں اگریہ کالج محکمہ ورکس اینڈ سروسز کی جانب سے محکمہ تعلیم کے حوالے کردیے گئے اوریہاں کے لیے تدریسی وغیرتدریسی عملہ فراہم کردیاگیا تو ان کالجوں میں براہ راست داخلے دیے جاسکتے ہیں ، داخلہ کمیٹی کے رکن کا کہنا تھا کہ تاحال یہ طے نہیں کیاگیاکہ داخلوں کاسلسلہ کب شروع ہوگا اور میرٹ لسٹ کس ادارے سے تیارکرائی جائے گی۔
تاہم کراچی میں انٹر کی سطح پر لڑکیوں میں انجینئرنگ کی تعلیم اورلڑکوں میں میڈیکل کی تعلیم کے رجحان میں کمی آنے کے بعد مرکزی داخلہ کمیٹی نے فرسٹ ایئر کی سطح پرگرلزکالجوں میں انجینئرنگ اوربوائز کالجوں میں میڈیکل کی نشستیں کم کردی ہیں،گرلز کالجوں میں انجینئرنگ کی نشستیں کم کرکے اسی تناسب سے میڈیکل کی نشستیں بڑھائی جارہی ہیں،بوائز کالجوں میں میڈیکل کی نشستیں کم کرکے انجینئرنگ کی نشستیں بڑھائی جارہی ہیں،اس بات کااصولی فیصلہ کراچی کے سرکاری کالجوں میں انٹرسال اول کے داخلوں کیلیے قائم مرکزی داخلہ کمیٹی کے منعقدہ اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے تحت آرٹس کے شعبے میں طلبہ وطالبات کے رجحان میں یکساں کمی آنے کے بعد فنون کی نشستیں کم کی جارہی ہیں،کامرس کے ضابطے میں طلبہ وطالبات کے رجحان میں مسلسل اضافے کو محسوس کرتے ہوئے متعلقہ کالجوں میں آرٹس کی نشستیں کم کرکے وہاں کامرس کی نشستیں بڑھائی جارہی ہیں۔
مرکزی داخلہ کمیٹی کے ایک رکن نے ''ایکسپریس''کو بتایا کہ سرکاری کالجوں میں داخلوں کیلیے آنے والی درخواستوں سے معلوم ہوا ہے کہ لڑکیاں انجینئرنگ پڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی جبکہ لڑکے میڈیکل پڑھنا نہیں چاہتے جبکہ عمومی طور پرآرٹس کی تعلیم سے طلبہ وطالبات کی دلچسپی ختم ہوتی جارہی ہے جس کے سبب یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ تمام کالجوںمیں آرٹس کی نشستیں کم کرکے کامرس کی نشستیں بڑھادی جائیں ۔
داخلہ کمیٹی کے رکن نے بتایا کہ مرکزی داخلہ پالیسی کے تحت جاری ہونے والے ''پراسپیکٹس''کی قیمت میں اضافہ نہیں کیاجائے گا اور پراسپیکٹس 60روپے پرہی فروخت ہوگا، کمیٹی کے رکن کے مطابق اس سال کراچی میں کسی نئے سرکاری کالج کااضافہ نہیں کیاگیاہے ، لیاری اور ابراہیم حیدری میں کالج قائم ہیں اگریہ کالج محکمہ ورکس اینڈ سروسز کی جانب سے محکمہ تعلیم کے حوالے کردیے گئے اوریہاں کے لیے تدریسی وغیرتدریسی عملہ فراہم کردیاگیا تو ان کالجوں میں براہ راست داخلے دیے جاسکتے ہیں ، داخلہ کمیٹی کے رکن کا کہنا تھا کہ تاحال یہ طے نہیں کیاگیاکہ داخلوں کاسلسلہ کب شروع ہوگا اور میرٹ لسٹ کس ادارے سے تیارکرائی جائے گی۔