پی ایس85میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیادرخواست گزار
عدالت نے الیکشن کمیشن، ڈپٹی اٹارنی جنرل، ریٹرننگ افسر کو نوٹس جاری کردیے
عدالت نے الیکشن کمیشن، ڈپٹی اٹارنی جنرل، ریٹرننگ افسر کو نوٹس جاری کردیے فوٹو: فائل
لاہور:
خیبر پختونخواہ کے بعد سندھ میں بھی خواتین کو حق رائے دہی کے استعمال سے روکنے کا انکشاف ہوا ہے اور یہ اس حلقے سے ہوا ۔
جہاں سے ایک خاتون رہنما سسی پلیجو انتخاب میں شریک تھیں ، حلقے کی خواتین نے اس صورتحال کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے ، سندھ ہائیکورٹ نے 11مئی کو ہونیوالے عام انتخابات میں پی ایس85کی 6ہزار سے زائد خواتین ووٹرز کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کیخلاف دائر درخواست پرالیکشن کمیشن، ڈپٹی اٹارنی جنرل،ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کو دیگر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے، جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے مسماۃ آمنہ سمیت17خواتین درخواست گزاروں کی درخواست کی سماعت کی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ پی ایس85 میرپورساکرو کی رہائشی ہیں، 11 مئی 2013کو ہونے والے انتخابات کے دوران 14 پولنگ اسٹیشنوں پر خواتین ووٹرز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے روکا گیا ، ان پولنگ اسٹیشنوں میں پولنگ اسٹیشن نمبر 16,18,1 9,54,58, 63,77,85,93, 94 ,98,101,1 02 ا ور104 شامل ہیں،ان میں سے اکثر پولنگ اسٹیشنوںپر خواتین عملہ بھی موجود نہیں تھا اور جہاں خواتین ووٹرز سے ووٹ کاسٹ کرنے کی کوشش کی تو انھیں ہراساں کیا گیا اور پولیس و دیگر قانون نافذکرنے والے اداروں کے ذریعے ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔
ان پولنگ اسٹیشنوں پرخواتین کے کاسٹ کردہ ووٹوں کی تعدادصفر ہے ، خواتین کی شمولیت کے بغیر انتخابات کو شفاف نہیں کہا جاسکتا ، ووٹ کاسٹ کرنا درخواست گزاروں سمیت دیگر خواتین ووٹرز کا آئینی حق ہے جس سے انھیں محروم کیا گیا، ان پولنگ اسٹیشنوں پر رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 6558 ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے حلقہ کے انتخابی نتائج کوروکا جائے اور مذکورہ پولنگ اسٹیشنز پرری پولنگ کرائی جائے تاکہ خواتین ووٹرز بھی اپنا حق استعمال کرسکیں اور خواتین ووٹرز کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے،عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن اوردیگر کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے بعد سندھ میں بھی خواتین کو حق رائے دہی کے استعمال سے روکنے کا انکشاف ہوا ہے اور یہ اس حلقے سے ہوا ۔
جہاں سے ایک خاتون رہنما سسی پلیجو انتخاب میں شریک تھیں ، حلقے کی خواتین نے اس صورتحال کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے ، سندھ ہائیکورٹ نے 11مئی کو ہونیوالے عام انتخابات میں پی ایس85کی 6ہزار سے زائد خواتین ووٹرز کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کیخلاف دائر درخواست پرالیکشن کمیشن، ڈپٹی اٹارنی جنرل،ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کو دیگر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے، جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے مسماۃ آمنہ سمیت17خواتین درخواست گزاروں کی درخواست کی سماعت کی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ پی ایس85 میرپورساکرو کی رہائشی ہیں، 11 مئی 2013کو ہونے والے انتخابات کے دوران 14 پولنگ اسٹیشنوں پر خواتین ووٹرز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے روکا گیا ، ان پولنگ اسٹیشنوں میں پولنگ اسٹیشن نمبر 16,18,1 9,54,58, 63,77,85,93, 94 ,98,101,1 02 ا ور104 شامل ہیں،ان میں سے اکثر پولنگ اسٹیشنوںپر خواتین عملہ بھی موجود نہیں تھا اور جہاں خواتین ووٹرز سے ووٹ کاسٹ کرنے کی کوشش کی تو انھیں ہراساں کیا گیا اور پولیس و دیگر قانون نافذکرنے والے اداروں کے ذریعے ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔
ان پولنگ اسٹیشنوں پرخواتین کے کاسٹ کردہ ووٹوں کی تعدادصفر ہے ، خواتین کی شمولیت کے بغیر انتخابات کو شفاف نہیں کہا جاسکتا ، ووٹ کاسٹ کرنا درخواست گزاروں سمیت دیگر خواتین ووٹرز کا آئینی حق ہے جس سے انھیں محروم کیا گیا، ان پولنگ اسٹیشنوں پر رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 6558 ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے حلقہ کے انتخابی نتائج کوروکا جائے اور مذکورہ پولنگ اسٹیشنز پرری پولنگ کرائی جائے تاکہ خواتین ووٹرز بھی اپنا حق استعمال کرسکیں اور خواتین ووٹرز کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے،عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن اوردیگر کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔