کراچی میں بدامنی فنڈز عوام کو دیے جائیں تو جرم رہے گا نہ مجرم سندھ اسمبلی میں تجویز

مختص48 ارب میں سے48کروڑ روپے دیے جائیں، ایم کیوایم، بیشتر ارکان کا سیکیورٹی کی صورتحال پر اظہار تشویش

مختص48 ارب میں سے48کروڑ روپے دیے جائیں، ایم کیوایم، بیشتر ارکان کا سیکیورٹی کی صورتحال پر اظہار تشویش، بلاامتیاز کارروائی پر زور فوٹو: فائل

سندھ اسمبلی میں منگل کو بجٹ پر بحث تیسرے روز بھی جاری رہی جس میں15ارکان نے حصہ لیا۔

زیادہ تر ارکان نے امن و امان کی خراب صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور دہشت گردوں کیخلاف بلا امتیاز کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایم کیو ایم کے ایک رکن نے تجویز دی کہ امن و امان کے48 ارب روپے کے بجٹ میں سے48کروڑ روپے اگر کراچی کے لوگوں کو دے دیے جائیں اور ان سے کہہ دیا جائے کہ وہ اپنی حفاظت خود کریں تو یہاں نہ جرم رہے گا اور نہ مجرم رہیں گے ۔ ایم کیو ایم کے ارکان نے کراچی کیلیے اس کی آبادی کے تناسب سے بجٹ مختص کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ وزیر زراعت علی نواز خان مہر نے کہا کہ کراچی کا امن ایک سازش کے تحت تباہ کیا جا رہا ہے۔


منگل کو سندھ اسمبلی کا اجلاس انتہائی ہم آہنگی کی فضا میں منعقد ہوا اور ایسی صورت حال پیدا نہیں ہوئی جو پیر کو پیپلز پارٹی کی خاتون رکن شرمیلا فاروقی کی تقریر کے باعث پیدا ہوئی تھی۔ اجلاس کی ابتدا میں ہی اسپیکر آغا سراج درانی نے ارکان سے استدعا کی کہ وہ اپنی تقاریر بجٹ تک محدود رکھیں۔ پیپلز پارٹی کے رکن سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔سندھ میں امن و امان کی صورت حال خراب ہے ، ضروری ہے کہ پولیس میں جرائم پیشہ افراد کی بھرتیاں روکی جائیں ، مجرموں کو سزائیں دلوائی جائے اور ایماندار پولیس افسران کو فری ہینڈ دیا جائے۔ انھوں نے شعبہ تعلیم کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی تربیت اور طلبا کو ضروری سہولتیں مہیا کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ میں ایک کروڑ روپے ٹیکس دیتا ہوں لیکن زراعت سے وابستہ لوگوں کی حالت بہت خراب ہے۔ ایم کیو ایم کے رکن جمال احمد نے کہا کہ اچھے اور ایماندار پولیس افسروں کو سسٹم سے الگ کرکے ان پڑھ ، جاہل اور دہشت گردوں کو پولیس میں بھرتی کردیا گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ثمر علی خان نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ لاقانونیت ہے ۔ ڈپٹی اسپیکر سیدہ شہلا رضا نے کہا کہ میں صوبے کی سطح پر بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام شروع کرنے پر وزیر اعلیٰ سندھ کو مبارک باد پیش کرتی ہوں ۔

سردار علی نواز خان مہر نے کہا کہ انتہائی کم وقت میں سندھ حکومت نے بہترین اور عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے۔ امن و امان کیلیے48 ارب روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔ انھوں نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیں ہدایت نہ دیں کہ ایم کیو ایم کے رکن عبدالحسیب خان نے کہا کہ سندھ کے لوگ جب تک متحد نہیں ہوں گے، تب تک سندھ میں خوشحالی، امن اور استحکام نہیں آئے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن محمد ہمایوں خان نے کہا کہ بدامنی نے کراچی کو تباہ کردیا ہے۔ ۔پیپلز پارٹی کی ارم خالد نے کہا کہ سندھ کا بجٹ مزدور، ہاری اور غریب لوگوں کا بجٹ ہے۔ ایم کیو ایم کی نائلہ منیر نے کہا کہ کراچی کے3 بڑے منصوبوں کراچی سرکلر ریلوے، پانی کے منصوبے کے4 اور سیوریج کے منصوبے ایس۔3 کیلیے بجٹ میں مختص رقم ناکافی ہے ۔

Recommended Stories

Load Next Story