پولیس فاؤنڈیشن اسکیم میں پلاٹوں کی فروخت سپریم کورٹ کے تحفظات

ایک سپاہی کانام بتائیں جسے پلاٹ ملاہو،اسکیم کااشتہارسیدھاسادہ فراڈہے،پلاٹوں کی بندربانٹ غریب ملامین کے حق پرڈاکہ ہے

ایک سپاہی کانام بتائیں جسے پلاٹ ملاہو،اسکیم کااشتہارسیدھاسادہ فراڈہے،پلاٹوں کی بندربانٹ غریب ملامین کے حق پرڈاکہ ہے،چیف جسٹس فوٹو: فائل

نیشنل پولیس فاؤنڈیشن ہاؤسنگ سوسائٹی کیس میں سپریم کورٹ نے پلاٹوں کی فروخت کے طریقہ کار پرشدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ ہاؤسنگ اسکیم کے بارے میں اشتہار سیدھاسادہ فراڈہے۔

چیف جسٹس نے کہا پولیس افسران اپنے ادارے کیساتھ مخلص نہیں تھے، فاؤنڈیشن پورے ملک کی پولیس کی فلاح کیلیے بنائی گئی مگر پلاٹ سارے افسران لے گئے،کسی ایک پولیس سپاہی کانام بتادیاجائے جسے پلاٹ ملا ہو،سینے پرگولی کھانے والے تو محروم رہے اورافسران نے آٹھ آٹھ پلاٹ لیکرفائدہ اٹھالیا،چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے سماعت کی،انجم عقیل کے وکیل مخدوم علی خان نے بتایاکہ جب فاؤنڈیشن قائم ہوئی تواسکے پاس زمین نہیں تھی، زمین بعد میں خریدی گئی، فاؤنڈیشن نے انجم عقیل کی خدمات حاصل کیں کہ وہ بااثر شخص ہیں قبضہ دلائینگے۔




رقم انجم عقیل کواداکی گئی جنہوں نے مالکان کوادائیگی کرکے زمین دلوائی،45کنال اراضی کم دینے کی بات درست نہیں۔جسٹس اعجاز احمد چوہدری نے کہاکہ یہ تو سیدھا سادہ بے ایمانی کا اشتہار ہے جنہوں نے یہ اشتہار دیا ان کیخلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے۔حامدخان نے کہامیرے موکلوں نے اس وقت قربانی دی جب کوئی یہاں پلاٹ خریدنے کیلیے تیار نہیں تھا،جسٹس اعجازنے کہاکہ اضافی پلاٹ واپس کرنے کی صورت میں اب پھرقربانی کا وقت آگیاہے مگرکوئی یہ قربانی نہیں دیگا۔

چیف جسٹس نے تین پلاٹ حاصل کرنے والے سابق ایس ایس پی حق نوازکیانی کے وکیل سے کہاکہ اب وہ وقت بھول جائیں جب شفافیت کے بغیرکام کرلئے جاتے تھے اب ہر معاملے میں شفافیت کومدنظررکھنا ہوگا۔آن لائن کے مطابق مخدوم علی خان نے کہا انجم عقیل پولیس فاؤنڈیشن سے ہر طرح کا نیا معاہدہ کرنے کو تیار ہیں،پولیس فاؤنڈیشن چاہے تو وہ 27مئی 2004ء کے معاہدے کی پاسداری کرنے کو بھی تیار ہیں۔
Load Next Story