بھارتی پولیس کرنل کو جیل بھیج سکتی ہے تو آپ کیوں ڈرتے ہیں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
شہر پولیس اورایجنسیوں کے ہاتھوںیرغمال ہے،قاتل کھلے عام گھوم رہے ہیں،وفاق کواسکاٹ لینڈیارڈبلانے کاکہہ سکتے ہیں، ریمارکس
فوٹو: فائل
لاہور:
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس دوست محمدخان نے کہاکہ اس وقت شہرپولیس اور دیگر ایجنسیوں کے ہاتھوںی رغمال ہیں مگرقاتل کھلے عام گھوم رہے ہیں۔
اگربینظیرقتل کیس کی تحقیقات کیلیے اسکاٹ لینڈیارڈکی ٹیم پاکستان آسکتی ہے توہم ان عام شہریوں کے قتل کے ملزمان کی گرفتاری کیلیے وفاقی حکومت کو اسکاٹ لینڈیارڈکی خدمات حاصل کرنے کیلیے کہہ سکتے ہیں کیونکہ ہمارے لیے عام آدمی اوراعلیٰ شخصیات برابرہیں۔ اگرہندوستانی پولیس ایک کرنل کوجیل میں بندکرسکتی ہے توآپ لوگ کیوں ڈرتے ہیں؟۔ عدالت آپکے ساتھ ہے مگرافسوس اب پولیس نتائج نہیں دے رہی،آئین سے انحراف ہم نہیں کرسکتے اوراگران قاتلوں کا پتہ نہ چلاتوجس تھانے کی حدود میں یہ لاشیں ملیں گی متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوزکونوکری سے برخاست کرنے کیلیے لکھا جائیگا۔ یہ ریمارکس انھوں نے ہیومن رائٹس ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے تیارہ کردہ بوری بندلاشوں سے متعلق پیش کی گئی رپورٹ پرلیے جانیوالے سوموٹونوٹس کیس کی سماعت کے موقع پردیے۔
چیف جسٹس نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل پولیس آفس سے بوری بندلاشوںمیں ہونیوالی تفتیش پرپیشرفت سے متعلق پوچھاتوجاویدضمیرالدین فاروقی نے بتایا کہ تحقیقات جاری ہے تاہم مقتولین کے ورثا صرف ایجنسیوں کانام لیتے ہیں،اسکے علاوہ کسی خاص اہلکارکوبھی نامزد نہیں کرتے جسکی وجہ سے تفتیش کاعمل آگے نہیں بڑھ رہا۔ اس پرچیف جسٹس نے کہاکہ اب یہ آپکا کام ہے کہ ایجنسی اوراسکے اہلکاروںکاپتہ لگائیں،سارابوجھ مقتول کے لواحقین پرکیوں ڈالتے ہیں؟،ایک ہی طریقے سے قتل اورپھرایک ہی قسم کی بوری میں لاشیںملتی ہیں،کیاآپ کیلیے یہ ثبوت کافی نہیں ؟۔اس دوران ڈی ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایاکہ مختلف کیسوںمیںلواحقین کے بیانات قلم بندکیے ہیں جو عدالت کوبندلفافوںمیں پیش کیے جارہے ہیں۔
عدالت نے پولیس کوآخری موقع دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام ریکارڈ عدالتی فائل پرلایاجائے اور اصل ملزمان کوبے نقاب کیاجائے بصورت دیگران کیخلاف کارروائی کی جائیگی۔ ادھر پشاور ہائیکورٹ نے اسلحہ اسکینڈل میںگرفتاربجٹ آفیسر جاوید خان کی ضمانت پررہائی کیلیے دائررٹ سماعت کیلیے منظورکرکے ڈی جی نیب خیبرپختونخواکونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیا۔ عدالت نے خیبرپختونخواپولیس کیلیے غیرمعیاری اسلحہ سپلائی اسکینڈل کیس میں ٹھیکیدارارشدمجیدکے عدالتی بیان کیخلاف دائرسابق آئی جی خیبرپختونخواملک نویداورسابق وزیراعلیٰ کے بھائی کی جانب سے دائرآئینی درخواستیں خارج کردیں اور درخواستوںکوقبل از وقت قرار دیدیا۔
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس دوست محمدخان نے کہاکہ اس وقت شہرپولیس اور دیگر ایجنسیوں کے ہاتھوںی رغمال ہیں مگرقاتل کھلے عام گھوم رہے ہیں۔
اگربینظیرقتل کیس کی تحقیقات کیلیے اسکاٹ لینڈیارڈکی ٹیم پاکستان آسکتی ہے توہم ان عام شہریوں کے قتل کے ملزمان کی گرفتاری کیلیے وفاقی حکومت کو اسکاٹ لینڈیارڈکی خدمات حاصل کرنے کیلیے کہہ سکتے ہیں کیونکہ ہمارے لیے عام آدمی اوراعلیٰ شخصیات برابرہیں۔ اگرہندوستانی پولیس ایک کرنل کوجیل میں بندکرسکتی ہے توآپ لوگ کیوں ڈرتے ہیں؟۔ عدالت آپکے ساتھ ہے مگرافسوس اب پولیس نتائج نہیں دے رہی،آئین سے انحراف ہم نہیں کرسکتے اوراگران قاتلوں کا پتہ نہ چلاتوجس تھانے کی حدود میں یہ لاشیں ملیں گی متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوزکونوکری سے برخاست کرنے کیلیے لکھا جائیگا۔ یہ ریمارکس انھوں نے ہیومن رائٹس ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے تیارہ کردہ بوری بندلاشوں سے متعلق پیش کی گئی رپورٹ پرلیے جانیوالے سوموٹونوٹس کیس کی سماعت کے موقع پردیے۔
چیف جسٹس نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل پولیس آفس سے بوری بندلاشوںمیں ہونیوالی تفتیش پرپیشرفت سے متعلق پوچھاتوجاویدضمیرالدین فاروقی نے بتایا کہ تحقیقات جاری ہے تاہم مقتولین کے ورثا صرف ایجنسیوں کانام لیتے ہیں،اسکے علاوہ کسی خاص اہلکارکوبھی نامزد نہیں کرتے جسکی وجہ سے تفتیش کاعمل آگے نہیں بڑھ رہا۔ اس پرچیف جسٹس نے کہاکہ اب یہ آپکا کام ہے کہ ایجنسی اوراسکے اہلکاروںکاپتہ لگائیں،سارابوجھ مقتول کے لواحقین پرکیوں ڈالتے ہیں؟،ایک ہی طریقے سے قتل اورپھرایک ہی قسم کی بوری میں لاشیںملتی ہیں،کیاآپ کیلیے یہ ثبوت کافی نہیں ؟۔اس دوران ڈی ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایاکہ مختلف کیسوںمیںلواحقین کے بیانات قلم بندکیے ہیں جو عدالت کوبندلفافوںمیں پیش کیے جارہے ہیں۔
عدالت نے پولیس کوآخری موقع دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام ریکارڈ عدالتی فائل پرلایاجائے اور اصل ملزمان کوبے نقاب کیاجائے بصورت دیگران کیخلاف کارروائی کی جائیگی۔ ادھر پشاور ہائیکورٹ نے اسلحہ اسکینڈل میںگرفتاربجٹ آفیسر جاوید خان کی ضمانت پررہائی کیلیے دائررٹ سماعت کیلیے منظورکرکے ڈی جی نیب خیبرپختونخواکونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیا۔ عدالت نے خیبرپختونخواپولیس کیلیے غیرمعیاری اسلحہ سپلائی اسکینڈل کیس میں ٹھیکیدارارشدمجیدکے عدالتی بیان کیخلاف دائرسابق آئی جی خیبرپختونخواملک نویداورسابق وزیراعلیٰ کے بھائی کی جانب سے دائرآئینی درخواستیں خارج کردیں اور درخواستوںکوقبل از وقت قرار دیدیا۔