آرام باغ اور لائٹ ہاؤس کے قریب 750 دکانیں مسمار
مسمارکی جانیوالی دکانوں میں آرام باغ فیملی پارک سے متصل 350 اور لائٹ ہاؤس کی 296 سے زائد دکانیں شامل
غیرقانونی دکانیں مسمارکرنے کیخلاف دکانداروں کااحتجاج ،میئر کے خلاف نعرے،ایم اے جناح روڈ ٹریفک کے لیے بند،پولیس اہلکاروں نے ٹریفک بحال کرادی۔ فوٹو: فائل
شہر میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کے دوران آرام باغ اورلائٹ ہاؤس کے قریب750سے زائد دکانوں کو مسمارکرکے ملبے کا ڈھیربنا دیا گیا۔
سپریم کورٹ کے حکم پر شہر میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کا سلسلہ جاری ہے جب کہ گزشتہ روز آپریشن کے 16 ویں روز آپریشن کا آغاز اولڈ سٹی ایریا کے علاقے لائٹ ہاؤس سے کیا جانا تھا اورلائٹ ہاؤس کی 296 دکانوں کو مسمار کی جانی تھی تاہم دکانداروں کی جانب سے دکانیں ازخود خالی کرنے اور قیمتی پرنٹنگ مشینیں ہٹانے کے لیے کے ایم سی حکام سے 2 گھنٹے کی مہلت دینے کی درخواست کی گئی جس پر کے ایم سی حکام کی جانب سے لائٹ ہاؤس کے بجائے شارع لیاقت سے متصل آرام باغ فیملی پارک اورفرنیچر مارکیٹ سے متصل 176 دکانوں کو مسمار کرنے کے لیے بھاری مشینری پہنچائی گئی اور آپریشن سے قبل کے ایم سی حکام کی جانب سے لاؤڈاسپیکر کے ذریعے دکانیں خالی کرنے اور سامان محفوظ مقام پر منتقل کیے جانے کے اعلانات بھی کرائے گئے جس کے بعدآپریشن شروع کردیا گیا۔
کے ایم سی حکام نے ایک گھنٹے میں آرام باغ فیملی پارک اور فرنیچر مارکیٹ سے متصل 176 دکانوں کو مسمار کردیا اور ساتھ ساتھ ملبہ اٹھانے کا کام بھی شروع کردیا۔ اس دوران دکانداروں کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی گئی بلکہ آپریشن کے آغاز سے قبل دکانداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنی دکانیں خالی کر لی تھیں۔
آرام باغ کے متاثرہ دکانداروں کا کہنا تھا کہ جو دکانیں کے ایم سی کی جانب سے مسمار کی گئی اور 35 سال پرانی دکانیں تھیں اور تمام دکاندار کے ایم سی کو ماہانہ کرایہ ادا کرتے تھے، دکانداروں کا کہنا تھا کہ دکانیں مسمار کیے جانے کے بعد ان کے خاندانوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے، کے ایم سی حکام سے مطالبہ ہے کہ ماہانہ کرایہ ادا کرنے والے دکانداروں کا متبادل جگہ فراہم کریں تاکہ وہ دوبارہ اپنا کاروبار شروع کرسکیں، میونسپل کمشنر،سیف الرحمٰن ، ڈائریکٹر انسداد تجاوزات اور سینئر ڈائریکٹر مسعود عالم اورایس ایچ او آرام باغ انسپکٹر آصف رؤف اور دیگرحکام بھی موجود تھے۔
دوسری جانب لائٹ ہاؤس پر آپریشن کے خلاف احتجاج بھی کیا گیااحتجاج میں بڑی تعداد میں دکاندار شریک تھے انھوں نے ہاتھوں میں بینرزاور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے،دکانداروں نے کے ایم سی اورمیئر کراچی کے خلاف شدید نعری بازی بھی کی،احتجاج کرنے والے دکانداروں کی جانب سے ایم اے جناح روڈ کو بند بھی کیا گیا جس کے باعث ایم اے جناح روڈ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں تاہم پولیس اور ٹریفک پولیس نے چند منٹوں میں بھی دکانداروں کوسڑک سے ہٹا کر کنارے کردیا اور ٹریفک بحال کرادی۔
دکانداروں کا کہنا تھا کہ کے ایم سی سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی آڑ میں ناجائز کے ساتھ ساتھ جائز دکانوں کو مسمارکر رہی ہے جو کہ غیر قانونی ہے،دکانداروں نے اپنا تمام سرمایہ ان دکانوں میں لگایا ہوا ہے دکانیں نہیں ہوں گی تو وہ سڑکوں پر آجائیں گے جس کے بعد دکاندار اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے پریس کلب روانہ ہوگئے،تقریبا ساڑھے 3 بجے کے قریب پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کے ہمراہ انسداد تجاوزات کے عملے نے میونسپل کمشنر اور ڈائریکٹرانسداد تجاوزات کی نگری میں ہیوی مشینری کے ذریعے لائٹ ہاؤس چاند بی بی روڈ سے دکانوں کو مسمارکرنا شروع کیا اورلائٹ ہاؤس کی 296 دکانوں کو مسمارکرکے ملبہ کا ڈھیر بنا دیا اور ساتھ ساتھ ملبہ اٹھانے کا کام بھی شروع کردیا گیا جورات گئے تک جاری رہا۔
دکان کے اوپر دکانیں اور کمرے بنالیے گئے تھے ، میونسپل کمشنر
میونسپل کمشنر سیف الرحمن اور ڈائریکٹر انسداد تجاوزات بشیر صدیقی نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کے ایم سی کے پاس آرام باغ فیملی پارک اورفرنیچر مارکیٹ سے متصل 176 دکانیں رجسٹرڈ ہیں تاہم جب کے ایم سی آپریشن شروع کیا گیا تھا معلوم ہوا کہ دکانداروں نے ایک دکان کے اوپر ایک اور دکان قائم کی ہوئی ہے اورکے ایم سی نے بھاری مشینری کی مدد سے مجموعی طور پر 350 دکانوں کو مسمار کیا ہے،دکان کے اوپر دکانیں اور کمرے بنالیے گئے تھے ۔
آپریشن میں پولیس ،رینجرز،کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کی ٹیموں نے حصہ لیا ہے آرام باغ مسجد سے متصل تمام دکانوں کو چیک کررہے ہیں اگر ان دکانداروں نے بھی اپنی دکان مقرر حد سے آگے بڑھائی ہے اور سائن بورڈ یا سن شیڈ آگے بڑھائے ہوئے ہیں تو وہ بھی گرادیے جائیں گے،انھوں نے بتایا کہ آرام باغ میں آپریشن کے بعد لائٹ ہاؤس کی 296 دکانوں کو مسمار کرنے کے لیے آپریشن کیا جائے گا۔
میونسپل کمشنرنے کہا ہے کہ اولڈ اسٹی ایریا میں تجاوزات زیادہ ہیں جس کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے اور ٹریفک کی روانی میں خلل پڑتا ہے،رنچھوڑ لائن ، لی مارلیٹ ،رام مسوامی،گارڈن اور دیگرعلاقوں میں بھی تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا جائے گا، انھوں کہا کہ شہر کے تمام پبلک پارکس میں قائم تجاوزات کا بھی خاتمہ کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کے حکم پر شہر میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کا سلسلہ جاری ہے جب کہ گزشتہ روز آپریشن کے 16 ویں روز آپریشن کا آغاز اولڈ سٹی ایریا کے علاقے لائٹ ہاؤس سے کیا جانا تھا اورلائٹ ہاؤس کی 296 دکانوں کو مسمار کی جانی تھی تاہم دکانداروں کی جانب سے دکانیں ازخود خالی کرنے اور قیمتی پرنٹنگ مشینیں ہٹانے کے لیے کے ایم سی حکام سے 2 گھنٹے کی مہلت دینے کی درخواست کی گئی جس پر کے ایم سی حکام کی جانب سے لائٹ ہاؤس کے بجائے شارع لیاقت سے متصل آرام باغ فیملی پارک اورفرنیچر مارکیٹ سے متصل 176 دکانوں کو مسمار کرنے کے لیے بھاری مشینری پہنچائی گئی اور آپریشن سے قبل کے ایم سی حکام کی جانب سے لاؤڈاسپیکر کے ذریعے دکانیں خالی کرنے اور سامان محفوظ مقام پر منتقل کیے جانے کے اعلانات بھی کرائے گئے جس کے بعدآپریشن شروع کردیا گیا۔
کے ایم سی حکام نے ایک گھنٹے میں آرام باغ فیملی پارک اور فرنیچر مارکیٹ سے متصل 176 دکانوں کو مسمار کردیا اور ساتھ ساتھ ملبہ اٹھانے کا کام بھی شروع کردیا۔ اس دوران دکانداروں کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی گئی بلکہ آپریشن کے آغاز سے قبل دکانداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنی دکانیں خالی کر لی تھیں۔
آرام باغ کے متاثرہ دکانداروں کا کہنا تھا کہ جو دکانیں کے ایم سی کی جانب سے مسمار کی گئی اور 35 سال پرانی دکانیں تھیں اور تمام دکاندار کے ایم سی کو ماہانہ کرایہ ادا کرتے تھے، دکانداروں کا کہنا تھا کہ دکانیں مسمار کیے جانے کے بعد ان کے خاندانوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے، کے ایم سی حکام سے مطالبہ ہے کہ ماہانہ کرایہ ادا کرنے والے دکانداروں کا متبادل جگہ فراہم کریں تاکہ وہ دوبارہ اپنا کاروبار شروع کرسکیں، میونسپل کمشنر،سیف الرحمٰن ، ڈائریکٹر انسداد تجاوزات اور سینئر ڈائریکٹر مسعود عالم اورایس ایچ او آرام باغ انسپکٹر آصف رؤف اور دیگرحکام بھی موجود تھے۔
دوسری جانب لائٹ ہاؤس پر آپریشن کے خلاف احتجاج بھی کیا گیااحتجاج میں بڑی تعداد میں دکاندار شریک تھے انھوں نے ہاتھوں میں بینرزاور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے،دکانداروں نے کے ایم سی اورمیئر کراچی کے خلاف شدید نعری بازی بھی کی،احتجاج کرنے والے دکانداروں کی جانب سے ایم اے جناح روڈ کو بند بھی کیا گیا جس کے باعث ایم اے جناح روڈ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں تاہم پولیس اور ٹریفک پولیس نے چند منٹوں میں بھی دکانداروں کوسڑک سے ہٹا کر کنارے کردیا اور ٹریفک بحال کرادی۔
دکانداروں کا کہنا تھا کہ کے ایم سی سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی آڑ میں ناجائز کے ساتھ ساتھ جائز دکانوں کو مسمارکر رہی ہے جو کہ غیر قانونی ہے،دکانداروں نے اپنا تمام سرمایہ ان دکانوں میں لگایا ہوا ہے دکانیں نہیں ہوں گی تو وہ سڑکوں پر آجائیں گے جس کے بعد دکاندار اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے پریس کلب روانہ ہوگئے،تقریبا ساڑھے 3 بجے کے قریب پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کے ہمراہ انسداد تجاوزات کے عملے نے میونسپل کمشنر اور ڈائریکٹرانسداد تجاوزات کی نگری میں ہیوی مشینری کے ذریعے لائٹ ہاؤس چاند بی بی روڈ سے دکانوں کو مسمارکرنا شروع کیا اورلائٹ ہاؤس کی 296 دکانوں کو مسمارکرکے ملبہ کا ڈھیر بنا دیا اور ساتھ ساتھ ملبہ اٹھانے کا کام بھی شروع کردیا گیا جورات گئے تک جاری رہا۔
دکان کے اوپر دکانیں اور کمرے بنالیے گئے تھے ، میونسپل کمشنر
میونسپل کمشنر سیف الرحمن اور ڈائریکٹر انسداد تجاوزات بشیر صدیقی نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کے ایم سی کے پاس آرام باغ فیملی پارک اورفرنیچر مارکیٹ سے متصل 176 دکانیں رجسٹرڈ ہیں تاہم جب کے ایم سی آپریشن شروع کیا گیا تھا معلوم ہوا کہ دکانداروں نے ایک دکان کے اوپر ایک اور دکان قائم کی ہوئی ہے اورکے ایم سی نے بھاری مشینری کی مدد سے مجموعی طور پر 350 دکانوں کو مسمار کیا ہے،دکان کے اوپر دکانیں اور کمرے بنالیے گئے تھے ۔
آپریشن میں پولیس ،رینجرز،کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کی ٹیموں نے حصہ لیا ہے آرام باغ مسجد سے متصل تمام دکانوں کو چیک کررہے ہیں اگر ان دکانداروں نے بھی اپنی دکان مقرر حد سے آگے بڑھائی ہے اور سائن بورڈ یا سن شیڈ آگے بڑھائے ہوئے ہیں تو وہ بھی گرادیے جائیں گے،انھوں نے بتایا کہ آرام باغ میں آپریشن کے بعد لائٹ ہاؤس کی 296 دکانوں کو مسمار کرنے کے لیے آپریشن کیا جائے گا۔
میونسپل کمشنرنے کہا ہے کہ اولڈ اسٹی ایریا میں تجاوزات زیادہ ہیں جس کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے اور ٹریفک کی روانی میں خلل پڑتا ہے،رنچھوڑ لائن ، لی مارلیٹ ،رام مسوامی،گارڈن اور دیگرعلاقوں میں بھی تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا جائے گا، انھوں کہا کہ شہر کے تمام پبلک پارکس میں قائم تجاوزات کا بھی خاتمہ کیا جائے گا۔