2005 سے اب تک کا اسکول فیس اسٹرکچر پیش کرنے کا حکم

فیصلے پر عمل نہ ہوا تو توہین عدالت کی کارروائی کریں گے،فیسوں میں اضافے سے والدین مشکلات کاشکار ہیں،جسٹس عقیل عباسی

کس اسکول کے خلاف کیا اور کب کارروائی شروع کی گئی ، نجی اسکولوں کی جانب سے 4،4 ماہ کی فیس ایک ساتھ لینے پر عدالت برہم۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائی کورٹ نے نجی اسکولوں کی جانب سے زائد فیسیں وصول کرنے سے متعلق ڈائریکٹر رجسٹریشن پرائیویٹ اسکولز ڈاکٹر منصوب صدیقی سے توہین عدالت کی درخواست پر جامع جواب اور 2005 سے اب تک کا فیس اسٹریکچر پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

جسٹس عقیل عباسی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کے روبرو نجی اسکولوں کی جانب سے زائد فیسیں وصول کرنے کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،ڈائریکٹر آف رجسٹریشن پرائیویٹ اسکول ڈاکٹر منصوب صدیقی عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے ڈاکٹر منصوب صدیقی سے استفسار کیا توہین عدالت کا جواب کہاں ہے، عدالت نے ڈاکٹر منصوب صدیقی کو حکم دیا کہ آپ ہمارے حکم پر من و عن عمل درآمد کریں۔


جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ فیسیوں میں غیر معمولی اضافے سے لوگ پریشان ہیں، سپریم کورٹ میں بھی یہی معاملہ چل رہا ہے، ہائی کورٹ کا فیصلہ فعال ہے، عمل درآمد کیوں نہیں کر رہے، معلوم ہوا ہے کہ کچھ اسکولوں نے فیسوں میں مزید اضافہ کردیا ہے، بتایا جائے کس اسکول کیخلاف کیا کارروائی، کب سے شروع کی، نجی اسکولوں کی جانب سے 4 ، 4 ماہ کی فیس ایک ساتھ لینے پر عدالت برہم ہوگئی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کیسے لوگ ہیں والدین کا ذرا بھی احساس نہیں، لوئر مڈل اور مڈل کلاس کس طرح 4 ، 4 ماہ کی فیس ایک ساتھ ادا کریں گے۔
Load Next Story